• Sun, 04 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایرانی ریال مزید کمزور، ڈالر ۲۶؍ لاکھ ۸۸؍ ہزار ریال تک پہنچ گیا

Updated: October 04, 2026, 10:05 PM IST | New York

ایران کی کرنسی ریال کی قدر میں مسلسل گراوٹ کا سلسلہ جاری ہے اور امریکی ڈالر کے مقابلے میں ریال ایک نئی تاریخی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ آزاد کرنسی بازار میں ایک امریکی ڈالر تقریباً ۲۶؍ لاکھ ۸۸؍ ہزار ایرانی ریال میں فروخت ہوا۔

Irani Rial.Photo:INN
ایرانی ریال۔ تصویر:آئی این این

ایران کی کرنسی ریال کی قدر میں مسلسل گراوٹ کا سلسلہ جاری ہے اور امریکی ڈالر کے مقابلے میں ریال ایک نئی تاریخی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ آزاد کرنسی بازار میں ایک امریکی ڈالر تقریباً ۲۶؍ لاکھ ۸۸؍ ہزار ایرانی ریال  میں فروخت ہوا، جبکہ ایک روز قبل ڈالر کی قیمت تقریباً  ۲۶؍ لاکھ ۳۲؍ ہزار ریال تھی۔ بعض بازار ذرائع کے مطابق ڈالر کی قیمت  ۲۶؍ لاکھ۹۵؍ ہزار ریال  تک بھی پہنچ گئی۔

یہ بھی پڑھئے:’’وارانسی‘‘ کے ایکشن مناظر آر آر آر اور باہوبلی سے بالکل مختلف ہوں گے

ریال کی اس تیز گراوٹ نے ایران کی پہلے سے مشکلات کا شکار معیشت پر مزید دباؤ بڑھا دیا ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران ایرانی ریال اپنی قدر کا نصف سے زیادہ حصہ کھو چکا ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی، بیرونی پابندیوں، تیل کی برآمدات پر دباؤ اور ملک کو درپیش شدید اقتصادی مشکلات نے کرنسی مارکیٹ میں بے یقینی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق ایران میں مہنگائی کی شرح ۷۰؍ فیصد سے زیادہ ہوچکی ہے، جس کے باعث عام شہریوں کے لیے روزمرہ ضرورت کی اشیا، رہائش اور دیگر بنیادی اخراجات پورے کرنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔
 ریال کی مسلسل کم ہوتی قدر کو سہارا دینے کے لیے ایران کے مرکزی بینک نے کرنسی بازار میں ۲؍ ارب امریکی ڈالر تک فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ سرکاری بینکوں کے ذریعے ڈالر کی فروخت شروع کردی گئی ہے تاکہ غیر ملکی کرنسی کی طلب کو پورا کیا جاسکے اور ریال پر بڑھتے دباؤ کو کم کیا جاسکے۔ تاہم ابتدائی طور پر اس اقدام کے باوجود ریال کی قدر میں مزید کمی دیکھی گئی ہے۔ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ گراوٹ مستقل نہیں ہے۔ مرکزی بینک کے گورنر کے امورِ زرمبادلہ کے مشیر مہدی دارابی نے ریال کی کمزوری کی ایک وجہ ایران کی معیشت کے بارے میں امریکی حکام کی مایوس کن پیش گوئیوں کو قرار دیا۔ ان کے مطابق بیرونی اطلاعات اور منفی توقعات بھی بازار میں بے یقینی پیدا کرکے زرِ مبادلہ کی شرح کو متاثر کر رہی ہیں۔
 ریال کی قدر میں مسلسل کمی کے باعث ایران میں شہری اپنی بچت کو محفوظ رکھنے کے لیے ڈالر، دیگر مضبوط غیر ملکی کرنسیوں اور سونے کی جانب زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔ معاشی ماہرین کے مطابق جب مقامی کرنسی تیزی سے اپنی قدر کھونے لگتی ہے تو عوام عموماً اپنی بچت کو ایسی اثاثہ جاتی شکلوں میں منتقل کرنے کی کوشش کرتے ہیں جنہیں نسبتاً زیادہ مستحکم سمجھا جاتا ہے۔ ریال کی گراوٹ کا براہِ راست اثر درآمدی اشیا کی قیمتوں پر بھی پڑتا ہے، کیونکہ کمزور مقامی کرنسی کی وجہ سے بیرونِ ملک سے آنے والی مصنوعات، خام مال اور دیگر ضروری اشیا مہنگی ہوجاتی ہیں۔ اس صورتحال سے پہلے ہی بلند مہنگائی کا دباؤ مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔

یہ بھی پڑھئے:ہندوستان نے اچھا کھیل پیش کیا اور ہمارے لیے مشکلات پیدا کیں: اینچیلوتی

 ایران کی معیشت کئی برس سے امریکی پابندیوں اور بین الاقوامی مالیاتی مشکلات کا سامنا کررہی ہے جبکہ موجودہ حالات میں تیل کی برآمدات پر دباؤ نے صورتحال کو مزید پیچیدہ کردیا ہے۔ تیل ایران کی آمدنی کا ایک اہم ذریعہ ہے، اس لیے برآمدات اور بیرونی ادائیگیوں پر پابندی یا رکاوٹ سے ملک میں غیر ملکی کرنسی کی آمد متاثر ہوتی ہے اور مقامی کرنسی پر دباؤ بڑھتا ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ریال بار بار نئی کم ترین سطح پر پہنچا ہے۔ ۲۹؍ ستمبر کو بھی امریکی ڈالر کی قیمت ۲۵؍ لاکھ ریال سے تجاوز  کرگئی تھی، جبکہ اس سے پہلے ۲؍ ستمبر کو تقریباً ۲۲؍ لاکھ ریال فی ڈالر کی سطح ایک نیا ریکارڈ کم ترین مقام سمجھی گئی تھی۔ اس طرح ریال کی قدر میں گراوٹ کی رفتار نے ایران کی معاشی صورتحال پر تشویش مزید بڑھا دی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر کرنسی پر دباؤ برقرار رہتا ہے تو ایران میں مہنگائی، درآمدی لاگت اور عوام کی قوتِ خرید پر مزید منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ مرکزی بینک کی جانب سے ڈالر کی فراہمی میں اضافہ وقتی طور پر بازار کو سہارا دے سکتا ہے، تاہم ریال کو پائیدار استحکام دینے کے لیے ملک کو مہنگائی، زرمبادلہ کی کمی، بیرونی پابندیوں اور تیل کی آمدنی سے متعلق وسیع تر معاشی مسائل سے نمٹنا ہوگا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK