سابق مایہ ناز نشانہ باز اور ہندوستانی پسٹل نشانہ بازوں کے ہائی پرفارمنس کوچ جسپال رانا کا دل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہو گیا ہے۔
EPAPER
Updated: June 12, 2026, 3:11 PM IST | New Delhi
سابق مایہ ناز نشانہ باز اور ہندوستانی پسٹل نشانہ بازوں کے ہائی پرفارمنس کوچ جسپال رانا کا دل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہو گیا ہے۔
سابق مایہ ناز نشانہ باز اور ہندوستانی پسٹل نشانہ بازوں کے ہائی پرفارمنس کوچ جسپال رانا کا دل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہو گیا ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے ان کے انتقال کو کھیلوں کی دنیا کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دیتے ہوئے گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ نیشنل رائفل اسوسی ایشن آف انڈیا (این آر اے آئی) نے جسپال رانا کے انتقال کی تصدیق کی ہے۔ وہ ۴۹؍ سال کے تھے۔ انہیں ۲۰۲۰ء میں کھیلوں کی دنیا کے اعلیٰ ترین کوچنگ اعزاز دروناچاریہ ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے:ناندیڑ میں معمولی بات پر نوجوان کا قتل، مقامی باشندے ناراض، بازار بند
جرمنی کے میونخ میں منعقدہ آئی ایس ایس ایف ورلڈ کپ سے ہندوستانی اسکواڈ کی واپسی کے دوران فلائٹ میں جسپال رانا کی طبیعت بگڑ گئی تھی، وہ بے چینی محسوس کر رہے تھے۔ دہلی پہنچنے کے بعد انہیں ساکیت میں واقع میکس اسپتال میں داخل کروایا گیا، جہاں علاج کے دوران آج صبح ان کا انتقال ہو گیا۔
جسپال رانا ہندوستانی پسٹل نشانہ بازوں کے ہائی پرفارمنس کوچ کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ اس باوقار ٹورنامنٹ میں ہندوستانی ٹیم نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دو طلائی اور دو چاندی سمیت کل چار تمغے جیتے۔ ایک کامیاب اور شاندار نشانہ بازی کے کریئر کے بعد، جسپال رانا نے جونیئر نیشنل ٹیم کے کوچ اور ہائی پرفارمنس ٹرینر کے طور پر ہندوستانی نشانہ بازی کی ٹیم کو نئی بلندیوں تک پہنچایا۔ کوچ کے طور پر ان کے تعاون میں منو بھاکر کو تربیت دینا شامل ہے۔ ان کی نگرانی میں منو بھاکر نے ۲۰۲۴ء پیرس اولمپکس میں دو تمغے جیتے تھے۔
یہ بھی پڑھئے:پنجابی گلوکارہ افسانہ خان کی آواز میں جذباتی اتار چڑھاؤ ہے
مودی نے جسپال رانا کے انتقال پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا’’ جسپال رانا جی کے انتقال سے گہرا دکھ ہوا ہے۔ ان کا جانا ہندوستانی کھیلوں کی دنیا کے لیے ایک بہت بڑا نقصان ہے۔ انہوں نے شوٹنگ میں اپنی غیر معمولی کامیابیوں سے ملک کا نام روشن کیا۔ ایک مینٹر کے طور پر بھی ان کا تعاون بہت اہم رہا، انہوں نے پوری لگن سے نوجوان کھلاڑیوں کو تراشا اور ان کی رہنمائی کی۔ بہترین کارکردگی، ڈسپلن اور کھیلوں کی دنیا کی خدمت کے تئیں ان کی اٹوٹ وفاداری کی وجہ سے انہیں بہت احترام ملا۔ دکھ کی اس گھڑی میں میری ہمدردیاں ان کے خاندان، دوستوں اور کھیلوں کی پوری دنیا کے ساتھ ہیں۔ اوم شانتی۔‘‘