اورنگ آباد میں اسدالدین اویسی کی پریس کانفرنس ، کہا ’’ صرف الزام لگا دینے سے کوئی قصوروار نہیں ہو جاتا‘‘ میڈیا ٹرائل پر تنقید کی۔
EPAPER
Updated: May 10, 2026, 9:21 AM IST | Aurangabad
اورنگ آباد میں اسدالدین اویسی کی پریس کانفرنس ، کہا ’’ صرف الزام لگا دینے سے کوئی قصوروار نہیں ہو جاتا‘‘ میڈیا ٹرائل پر تنقید کی۔
ایک روز قبل ٹی سی ایس معاملے کی مبینہ ملزمہ ندا خان کو پولیس نے اورنگ آباد کے نرے گائوں سے گرفتار کیا گیا تھا۔ شیوسینا (شندے) سے تعلق رکھنے والے اورنگ آباد کے نگراں وزیر سنجے شرساٹ نے الزام لگایا تھا کہ مجلس اتحاد المسلمین نداخان کی مدد کر رہی تھی اس لئے مجلس کے ریاستی صدر امتیاز جلیل کو بھی اس معاملے میں ملزم بنایا جائے۔ اسی بات کا جواب دینے کیلئے مجلس کے قومی صدر اسدالدین اویسی نے خود اورنگ آباد پہنچ کر پریس کانفرنس منعقد کی ۔ انہوں نے کہا ’’ ندا خان کو عدالت سے انصاف ضرور ملے گا۔ صرف الزام لگادینے سے کوئی قصور وار نہیںہو جاتا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: کیرالا میں وزیر اعلیٰ کا انتخاب کانگریس کیلئے دردِ سر
اسدالدین اویسی نے میڈیا کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کہا ’’ ندا خان پر الزام لگایا گیا ہے کہ اس کے گھر سے برقع ملا ہے اور حضرت محمد ؐ سے متعلق ایک کتاب ملی ہے۔ ‘‘ انہوں نے سوال کیا ’’برقع ہمارے ملک میں کب سے غیر قانونی ہو گیا؟ اور کسی بھی مسلمان کے گھر سے حضرت محمد ؐ سے متعلق کتاب تو ملے گی ہی۔ ‘‘ انہوں نے کہا ’ ’ اس بچی پر عائد الزامات کو وہ خود ہی عدالت میں غلط ثابت کرے گی۔ اسی طرح متین پٹیل کو بھی عدالت کے حکم سے پہلے ہی میڈیا ٹرائل میں قصور وار ٹھہرایا جا رہا ہے۔ وہ بھی خود کو بے گناہ ثابت کر دیں گے۔‘‘ اسدالدین اویسی سے میڈیا کے نمائندوں کے ساتھ نوک جھونک بھی ہوئی۔ انہوں نے میڈیا ہی سے سوال کیاکہ ’’ندا خان کو ایم آئی ایم نے چھپایا تھا اس کا کیا ثبوت آپ کے پاس ہے؟ کسی ملزم کی طرف سے بولنا یا قانونی عمل پر تبصرہ رکرنا کسی گناہ گار کی مدد کرنا کیسے ہو گیا؟ کیا صرف ایک طبقے کو یا ایک پارٹی کو بدنام کرنے کیلئے یہ میڈیا ٹرائل جاری نہیں ہے؟ برقع پہننے پر شبہ ظاہر کرنا کون سا عدالتی نظام ہے؟ ایف آئی آر درج کرنے سے پہلے ہی ندا خان کا تبادلہ ہو گیا تھا پھر اسے فرار کیسے قرار دیا جار ہا ہے؟
یہ بھی پڑھئے: وہ پھول کھلکے رہیں گےجو کھلنے والے ہیں!
اس موقع پر ایم آئی ایم سربراہ نے وندے ماترم کے تعلق سے بھی بیان دیا۔ انہوں نے کہا ’’ رابندرناتھ ٹیگور نے سبھاش چندر بوس کو ایک خط لکھ کر کہا تھا کہ وندے ماترم گیت میں ماں درگا کی تعریفیں کی گئی ہیں اس لئے مسلمان اسے کبھی تسلیم نہیں کریں گے۔ ‘‘ اویسی نے کہا ’’ ہمارا بھی وندے ماترم کے تعلق سے یہی موقف ہے جو میں پارلیمنٹ میں بھی بیان کیا ہے اور وندے ماترم کو لازمی قرار دینے کی سخت مخالفت کی ہے۔ اسدالدین اویسی نے رابندر ناتھ ٹیگور کے خط کے اقتباسات بھی میڈیا کے سامنے پڑھ کر سنائے۔ انہوں نے کہا آنند مٹھ نامی ناول میں مسلمانوں کے خلاف کئی قابل اعتراض باتیں درج ہیں۔ اسی کتاب میں وندے ماترم بھی شامل ہے۔
ندا خان کی ماں کو ملاقات کی اجازت
نداخان کو جمعہ کے روز عدالت میں پیش کیا گیا تھا ۔ عدالت نے ۱۱؍ مئی تک اسے پولیس تحویل میں بھیج دیا ہے ۔ ندا کے وکیل نے عدالت کو عرضی دی تھی کہ چونکہ ندا اس وقت حاملہ ہے اس لئے پولیس تحویل میں ہونے کے باوجود انسانی بنیادوں پر ندا کی ماں کو اس سے ملاقات کرنے کا موقع دیا جائے۔ عدالت نے اس عرضی کو قبول کر لیا اور اس کی ماں کو صبح اور شام لاک اپ میں جا کر ملاقات کی اجازت دی ہے۔یاد رہے کہ ندا خان نے حاملہ ہونے ہی کی بنیاد پر عدالت میں ضمانت قبل از گرفتاری کی عرضی داخل کی تھی لیکن عدالت نے اسے مسترد کر دیا تھا۔