ناگپور میں رام رکشا آندولن سے خطاب کرتے ہوئے ادھو ٹھاکرے کا موہن بھاگوت سے سوال، چندہ چوری، پیپر لیک، سونم وانگ چک کے تعلق سے حکومت کو گھیرا
EPAPER
Updated: July 19, 2026, 8:47 AM IST | Nagpur
ناگپور میں رام رکشا آندولن سے خطاب کرتے ہوئے ادھو ٹھاکرے کا موہن بھاگوت سے سوال، چندہ چوری، پیپر لیک، سونم وانگ چک کے تعلق سے حکومت کو گھیرا
شیوسینا (ادھو) سربراہ ادھو ٹھاکرے نے آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت سے سوال کیا ہے کہ کیا یہی وہ ہندو راشٹر ہے جو آپ چاہتے تھے؟ انہوں نے کہا ’’اب تک تو پارٹیاں توڑی جا رہی تھیں ، اب رام مندر کی تجوریاں بھی توڑی جا رہی ہیں، پیپر لیک ہونے کی وجہ سے طلبہ خود کشی کر رہے ہیں۔ حکومت کا جو رویہ ہے کیا وہ آپ کو منظور ہے؟‘‘ سنیچر کو ادھو ٹھاکرے حسب اعلان ناگپور میں ’رام رکشا آندولن کیلئے پہنچے۔ انہوں نے شہر کے رام نگر علاقے میں واقع مشہور رام مندر میں ’ رام رکشا‘ کا پاٹھ کیا۔ اس کے بعد وہاں موجود کارکنان سے خطاب کیا۔
موہن بھاگوت سے سوال
یاد رہے کہ آر ایس ایس کا ہیڈ کوارٹر ناگپور میںہے۔ لہٰذا ادھو ٹھاکرے نے کہا ’’ چونکہ یہ ناگپور ہے اس لئے میں موہن بھاگوت سے سوال کرنا چاہتا ہوں،بھاگوت صاحب! حکومت کا جو رویہ ہے، مندر لوٹے جا رہے ہیں، طلبہ کے ساتھ اس کا جو سلوک ہے وہ آپ دیکھ رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا’’پیپر لیک ہو رہے ہیں، پارٹیاں تو توڑی ہی جا رہی تھیں اب مندروں کی تجوریاں بھی توڑی جا رہی ہیں، کیا یہی وہ ہندو راشٹر ہے جو آپ چاہتے تھے؟ ‘‘ ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ ’’ ہمارے ہندو راشٹر میں رام راجیہ کی توقع ہے، شیوشاہی کی توقع ہے ، غریبوں کو خواتین کو ، طلبہ کو انصاف دلانا ہمارے ہندو راشٹر کا مقصد ہے۔ کانٹریکٹروں کو بچانے والا ہمارا ہندو راشٹر نہیں ہو سکتا۔ ‘‘
سابق وزیر اعلیٰ نے آر ایس ایس سربراہ کو یاد دلایا ’’بھاگوت صاحب آپ نے فروری مہینے میں کہا تھا کہ اس ملک کے مسلمان بھی ہندو ہی ہیں اور ہندوئوں کو ۲؍ سے ۳؍ بچے پیدا کرنے چاہئیں۔ لیکن جن بچوں نے پیپر لیک ہونے کی وجہ سے خود کشی کر لی ان کیلئے آپ کیاکر رہے ہیں؟ مزید بچے پیدا کرکے کیا آپ انہیں بھی اسی طرح مار دیں گے؟ ‘‘ ادھو ٹھاکرے نےزور دے کر کہا ’’ یہ ہندو راشٹر ہمیں منظور نہیں ہے ہرگز نہیں۔‘‘ انہوں نے کہا ’’ ایودھیا میں مندر تو بنا لیا گیا لیکن اب اس مندر کی حفاظت کیلئے جہدوجہد کرنی پڑ رہی ہے۔ ‘‘ انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کیلئے رام مندر کے ٹرسٹیوں نے اور رام بھکتوں نے ہمارا ساتھ دیا ہے کیونکہ سبھی رام مندر کی تجوری میں ہوئی چوری سے نالاں ہیں۔
دیویندر فرنویس پر طنز
شیوسینا (ادھو) سربراہ نے اپنی تقریر میں وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس پر بھی طنز کیا۔ انہوں نے کہا ’’ آج صبح ہی سنجے رائوت مجھ سے کہہ رہے تھے کہ ۱دھو! ٹیلی پرامپٹر لگایا جائے؟ (وہ اسکرین جس پر دیکھ کر لکھی ہوئی تقریر کی جا سکتی ہے) کیونکہ دیویندر فرنویس نے چیلنج کیا ہے کہ ادھو ٹھاکرے اپنی زبان سے ’رام رکشا‘ پڑھ کر دکھائیں۔ میں وزیر اعلیٰ کو ان کے گائوں میں آکر کہتا ہوں ’فرنویس جی! رام رکشا پڑھنا آپ کا کام ہو سکتا ہے لیکن رام کی رکشا کرنا یہ ہم رام بھکتوں کا کام ہے ۔‘‘ انہوں نے کہا ’’ ہم رام رکشک ( رام کے محافظ ) ہیں ۔ دل میں کوئی جذبہ نہیں اور رام رکشا پڑھ رہے ہیں۔‘‘
سونم وانگ چک سے اظہار یکجہتی
ادھو ٹھاکرے نے اس موقع پر ایک بار پھر سونم وانگ چک کے ساتھ اظہار یک جہتی کیا۔ انہوں نے کہا ’’آج صبح جب میں ناگپور کیلئے نکلا تو مجھے پہلی خبر دہلی سے ملی کہ گزشتہ ۲۰؍ دنوں سے طلبہ کے مستقبل کیلئے بھوک ہڑتال پر بیٹھے سونم وانگ چوک کو پولیس اس طرح اٹھا کر لے گئی جیسے کسی دہشت گرد کو پکڑ کر لے جا رہی ہو۔ ‘‘ انہوں نے کہا ’’ میں بھگوان رام سے پوچھتا ہوں کہ پربھو رام ! یہ کیا چل رہا ہے؟ جس بی جے پی نے آپ کا نام لے کر حکومت حاصل کی اس بی جے پی کے اندر رام کے بجائے شیطان گھس گیا ہے کیا؟ انسانیت تو رہی ایک طرف ان کے اندر شیطان کیسے گھس گیا؟ یہ لوگ اس قدر اقتدار کے لالچی کیسے ہو گئے؟‘‘ یاد رہے کہ ایودھیا کے رام مندر میں ہوئی چڑھا وا چوری کے بعد ادھو ٹھاکرے نے ’رام رکشا ‘ مہم شروع کی ہے جس کی شروعات انہوں نے ممبئی کے دادر علاقے میں واقع ہنومان مندر سے کی تھی۔ یاد رہے کہ ’رام رکشا‘ ایک طرح سے وہ قصیدہ ہے جو شری رام کی تعریف میں پڑھا جاتا ہے۔ ادھو ٹھاکرے ہر اس مقام پر جہاں احتجاج کرنا ہو ، مقامی مندر میں جا کر یہ قصیدہ پڑھ رہے ہیں۔ مختلف علاقوں میں وہ بطور احتجاج رام رکشا پڑھیں گے جسے انہوں نے’رام رکشا آندولن‘ کا نام دیا ہے۔