کناڈا میں اسلاموفوبیا ایک حقیقت ہے : جسٹن ٹروڈو

Updated: June 10, 2021, 8:05 AM IST | Ottawa

ونٹاریو ریاست کے لندن شہر میں مسلم خاندان کے بہیمانہ قتل کی مذمت کیلئے کناڈا پارلیمنٹ میں خصوصی اجلاس بلایا گیا۔ وزیراعظم نے اس واقعے کو دہشت گردی قرار دیا۔ اپوزیشن لیڈر و ں نے بھی بیک آواز واقعے کی مذمت کی اور اس طرح کے واقعات کو روکنے کیلئے فوری اقدامات پر زور دیا

People pray for the dead in Canada
کناڈا میں مہلوکین کیلئے لوگوں نے عبادتیں کیں

 کناڈا کے شہر لند ن میں ایک روز قبل پیش آئے اسلاموفوبیا کے دلدوز واقعے کے بعد  ملک کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے پارلیمنٹ میں بھی اس واقعے کو یاد کیا اور اس کی بھر پور مذمت کی۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ لندن میں مسلم خاندان پر حملہ افسوسناک  اور د ہشت گردانہ ہے۔اور یہ کہ کناڈا میں اسلاموفوبیا ایک حقیقت ہے۔ جسٹن ٹروڈو نے کہا  کہ’’ حقیقت یہ ہے کہ کناڈا کے بیشتر شہری اس خوف سے واقف نہیں ہیں جو نسل پرستی کے خدشات کا شکار کینیڈین مسلمان محسوس کرتے ہیں۔‘‘ 
 وزیراعظم  نے ہاؤس آف کامنز میں اس واقعے کی مذمت کیلئے بلائے گئے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ’ ’اگر کوئی یہ سوچتا ہے کہ نسل پرستی اور نفرت اس ملک (کناڈا) میں نہیں ہے تو میں ان سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آپ اسپتال میں ایک بچے کو ایسے پرتشدد واقعے کی وضاحت کیسے پیش کریں گے؟ آپ کیسے ان خاندانوں سے نظریں ملا کر کہہ سکتے ہیں کہ اسلاموفوبیا ایک حقیقت نہیں ہے؟‘‘ یاد  رہےکہ لندن میں جس خاندان پر ۲۰؍ سالہ نوجوان نے گاڑی چڑھا دی تھی  اس میں صرف ایک ۹؍ سالہ بچہ زندہ بچ گیا تھا جو اس وقت اسپتال میں زیر علاج ہے ۔ جسٹن ٹروڈو کا اشارہ اسی کی طرف تھا۔ جسٹن ٹروڈو نے پورے کناڈا کی طرف سے اس بچے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ ہم سب تمہارے ساتھ ہیں۔‘‘  
  وزیر اعظم ٹروڈو کا کہنا تھا کہ’ ’جب آپ ایک ایسی مسلم خاتون سے بات کرتے ہیں جو کہ ایک بس اسٹاپ پر کھڑی اس فکر میں ہوتی ہے کہ کوئی اس کے سر سے حجاب کھینچے گا یا اس کو نقصان پہنچائے گا تو وہ آپ کو یہی بتائے گی کہ اسلاموفوبیا حقیقت ہے۔‘’اگر آپ ان والدین سے بات کریں گے جو اپنے بچوں کو صرف اس خوف سے روایتی لباس نہیں پہننے دیتے کہ انھیں ہراساں کیا جائے گا، وہ آپ کو بتائیں گے کہ نسل پرستی ایک حقیقت ہے۔‘‘
  اپوزیشن کی جانب سے بھی مذمت
 اس اجلاس میں صرف حکمراں جماعت نے ہی نہیں بلکہ اپوزیشن نے بھی لندن قتل  سانحہ کی مذمت کی۔ اپوزیشن لیڈر نے  اپنی تقریر کا آغاز ’السلام وعلیکم‘ کہہ کر کیا۔ انہوں نے نہ صرف اس واقعے کو دہشت گردی قرار دیا بلکہ ملک میں رہنے والے تمام مسلمانوں سے یکجہتی کا اظہار کیا۔   فیڈرل پارٹی کے لیڈر جگمیت سنگھ نے کہا ’’ حجاب پننے والے اور پگڑی باندھنے والے  نفرت کرنے والوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ ‘‘ ان کا اشارہ  مسلمانوں اور سکھوں کی طرف تھا۔  جگمیت سنگھ نے کہا کہ ’’ صرف تقریروں سے کام نہیں چلے گا ہمیں ایکشن بھی نظر آنا چاہئے۔ ہم مزید مسلمانوں کی جانیں ضائع ہونے نہیں دیں گے۔‘‘ ان کے علاوہ  ایک اور اپوزیشن لیڈر راب فورڈ نے کہا کہ ’’اونٹاریوں میں پیش آنے والے واقعے کو الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے  ۔ دکھ کی اس گھڑی میں ہم مسلمانوں کے ساتھ ہیں۔‘‘
  مہلوک خاندان  سے لوگوں کی تعزیت
 کناڈا میں بڑے پیمانے پر عوام کی جانب سے بھی اسلاموفوبیا کے اس واقعے کی مذمت کی گئی اور  مہلوک خاندان کو یاد کیا گیا۔ جس مقام پر اس خاندان پر ملزم  نتھانیل ویلٹمن نے گاڑی چڑھائی تھی وہاں ان کی ایک چھوٹی سی یادگار قائم کی گئی تھی جس پر راہ گیروں نے پھول چڑھا کر انہیںخراج عقیدت پیش کیا۔ ساتھ ہی ان لوگوں سے ہمدردی کا اظہار کیا۔ بعض لوگ قبرستان میں بھی پھول لے کر انہیں یاد کرنے پہنچے تھے۔ 
  مہلوک خاندان کون تھا؟ 
  ۴۶؍ سالہ پاکستانی نژاد فیزیو تھیراپسٹ  سلمان افضل کا خاندان گزشتہ ۱۴؍ سال سے کناڈا کے صوبے اونٹاریو میں واقع شہر لندن میں مقیم تھا۔ سلمان کی ۴۴؍ سالہ بیوی مدیحہ سلمان لندن کی سینٹرل یونیورسٹی سے’’ ماحولیاتی انجینئرنگ‘‘ میں پی ایچ ڈی کر رہی تھیں۔ وہ آگے قدرتی ماحول کی بحالی پر کام کرنا چاہتی تھیں۔ جبکہ ان کی بیٹی یمنی ۱۵؍ سال کی تھی اور  نویں جماعت کی طالبہ تھی۔ وہ اسکول کی مسلم اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی فعال رکن تھی اور  اگلے سال دسویں میں جانے کے بعد اسے ایسوسی ایشن کا ترجمان بنایا جانے والا تھا۔ سلمان کی ۷۴؍ سالہ ماں ان لوگوں سے ملنے کیلئے خاص طور پر کناڈا آئی ہوئی تھیں۔ ان کا نام پولیس نے اب تک ظاہر نہیں کیا ہے۔ ۹؍ سالہ فائز جو اس حملے میں بچ گیا ہے اسپتال میں زیرعلاج ہے اور اس کی حالت بہتر ہے۔  

canada Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK