• Wed, 14 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیل: درجنوں بین الاقوامی اداروں سے علاحدگی کا اعلان

Updated: January 14, 2026, 7:31 PM IST | Tel Aviv

اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ وہ متعدد بین الاقوامی تنظیموں، بالخصوص اقوام متحدہ سے وابستہ اداروں، سے دستبردار ہو رہا ہے اور دیگر کے ساتھ تعاون کا ازسرِنو جائزہ لے گا۔ اسرائیلی حکومت کے مطابق یہ فیصلہ ان اداروں میں اسرائیل کے خلاف تعصب، سیاسی جانبداری اور مسلسل منفی اقدامات کے باعث کیا گیا ہے۔ یہ اعلان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ بھی حال ہی میں درجنوں بین الاقوامی تنظیموں سے علاحدگی اختیار کر چکا ہے۔

Israeli Prime Minister Netanyahu. Photo: INN
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو۔ تصویر: آئی این این

اسرائیل نے منگل ۱۳؍ جنوری کو اعلان کیا کہ وہ درجنوں بین الاقوامی تنظیموں سے دستبرداری اختیار کر رہا ہے اور متعدد دیگر اداروں کے ساتھ اپنے تعاون کا جامع جائزہ لے گا۔ اسرائیلی حکومت کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی کئی ایجنسیوں اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ تعلقات ختم کرنے کا فیصلہ اسرائیل کے خلاف تعصب، سیاست اور یکطرفہ اقدامات کے باعث کیا گیا ہے۔ خیال رہے کہ یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ڈونالڈ ٹرمپ نے ۷؍ جنوری ۲۰۲۵ء کو امریکہ کو ۶۶؍ بین الاقوامی تنظیموں اور معاہدوں سے نکالنے کے احکامات پر دستخط کیے تھے۔ وہائٹ ہاؤس کے مطابق ان تنظیموں اور معاہدوں کو ’’امریکہ کے مفادات کے منافی‘‘ قرار دیا گیا، جن میں سے تقریباً نصف اقوام متحدہ سے وابستہ تھے۔ اسرائیلی وزارت خارجہ نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ وزیر خارجہ گیڈون ساعر نے اقوام متحدہ کی متعدد ایجنسیوں کے ساتھ تعلقات فوری طور پر منقطع کرنے کی ہدایت دی ہے۔ وزارت کے مطابق، یہ فیصلہ امریکی اقدام کے بعد اور ان اداروں کے ساتھ اسرائیل کے اپنے تجربات کی بنیاد پر کی گئی اندرونی جانچ کے بعد کیا گیا۔

بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل فوری طور پر سات مخصوص اقوام متحدہ کی ایجنسیوں اور بین الاقوامی تنظیموں سے تمام روابط ختم کرے گا جبکہ دیگر اداروں کے ساتھ جاری تعاون کا بھی متعلقہ حکومتی وزارتوں سے مشاورت کے بعد ازسرِنو جائزہ لیا جائے گا۔ اسرائیلی حکام کے مطابق مزید فیصلے مکمل جانچ اور اضافی غور و خوض کے بعد کیے جائیں گے۔ اسرائیل نے تصدیق کی ہے کہ اس نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے خصوصی نمائندے کے دفتر برائے بچوں اور مسلح تنازعات کے ساتھ تعلقات منقطع کر دیے ہیں۔ اسرائیل نے الزام لگایا کہ اس دفتر نے ۲۰۲۴ء میں اسرائیلی دفاعی افواج کو ’’بے شرمی‘‘ کے ساتھ بلیک لسٹ کیا اور انہیں دہشت گرد تنظیموں کے برابر رکھا۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل: نیتن یاہو کو تمام الزامات سے بری کرنے کیلئے اتحاد کی قانون سازی

اس کے علاوہ اسرائیل نے اقوام متحدہ کا ادارہ برائے صنفی مساوات و خواتین کو بااختیار بنانا کے ساتھ تعاون ختم کرنے کی بھی تصدیق کی ہے۔ اسرائیلی حکومت کا الزام ہے کہ اس ادارے نے ۷؍ اکتوبر ۲۰۲۳ء کو حماس کے حملے کے دوران اسرائیلی خواتین کے خلاف جنسی تشدد کے الزامات کو نظرانداز کیا۔ اسرائیل نے یہ بھی بتایا کہ اقوام متحدہ کی کانفرنس برائے تجارت و ترقی اور اقوام متحدہ کا اقتصادی و سماجی کمیشن برائے مغربی ایشیا کے ساتھ تعاون پہلے ہی معطل کیا جا چکا ہے کیونکہ ان اداروں کی جانب سے جاری کی جانے والی رپورٹس کو اسرائیل نے ’’سالانہ اسرائیل مخالف‘‘ قرار دیا ہے۔ مزید برآں، اسرائیل نے اقوام متحدہ کے اتحاد برائے تہذیبیں، یو این انرجی اور گلوبل فورم آن مائیگریشن اینڈ ڈویلپمنٹ سے بھی علیحدگی اختیار کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وزارت خارجہ کے مطابق، ان اداروں پر اسرائیل کو نظرانداز کرنے، اسرائیل مخالف بیانیے کو فروغ دینے اور قومی خودمختاری کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK