Updated: January 13, 2026, 4:04 PM IST
| Tel Aviv
اسرائیل کا حکمراں اتحاد نیتن یاہو کو بدعنوانی کے الزامات سے بری کرنے کیلئےپارلیمنٹ میں قانون سازی کی تیاری کررہا ہے، جس کے تحت جعل سازی اور اعتماد شکنی جیسے الفاظ ہٹادئے پینل کوڈ سے جائیں گے، یہ وہی الزامات ہیں نیتن یاہو ، جبکہ اس مجوزہ قانون کی شدید مخالفت جاری ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو۔ تصویر: آئی این این
اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ملک کی حکمران اتحادی جماعتوں نے مجوزہ قانون سازی متعارف کروائی ہے جس کے تحت بد عنوانی اور اعتماد شکنی کے فوجداری جرائم ختم کر دیے جائیں گے۔ یہ وہی الزامات ہیں جو وزیر اعظم نیتن یاہو کے جاری بدعنوانی کے مقدمے کی بنیاد ہیں۔ہاریٹز اخبار کے مطابق، تجویز میں ان دونوں جرائم کو اسرائیل کے پینل کوڈ سے مکمل طور پر ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس اقدام سےنیتن یاہو کے خلاف ان کے تینوں فوجداری مقدمات میں کی گئیں تمام دفعات غیر موثر ہو جائیں گی۔واضح رہے کہ نیتن یاہن یاہو پر اس وقت بد عنوانی اعتماد کے خلاف ورزی اور رشوت ستانی کے الزامات کے تحت مقدمہ چل رہا ہے۔ اگر ثابت ہو جائیں تو ان جرائم کی سزا قید ہو سکتی ہے۔ دریں اثناء پیر کی صبح، کارروائی شروع ہونے کے بعدنیتن یاہو۶۹؍ ویں بار تل ابیب ضلع عدالت میں پیش ہوئے۔
یہ بھی پڑھئے: تل ابیب: اسرائیلیوں کا وزیراعظم نیتن یاہو اور حکومت کے خلاف زبردست احتجاج
بعد ازاں اسرائیل کی سرکاری نشریاتی ادارے’’کان ‘‘ کے مطابق، یہ بل دائیں بازو کی جماعتوں کے اراکین پارلیمنٹ نے پیش کیا ہے اور آئندہ دنوں میں قانون سازی کی وزارتی کمیٹی میں اس پر تبادلہ خیال کی توقع ہے۔بل کے حمایت میں مذہبی صیہونیت پارٹی سے تعلق رکھنے والے کنیسٹ آئین کمیٹی کے چیئرمین سیمچا روٹھمین اور لیکوڈپارٹی سے تعلق رکھنے والے اتحادی چیئر آفیر کاٹس شامل ہیں۔دونوں اراکین کا موقف ہے کہ فراڈ اور اعتماد کے خلاف ورزی کے جرائم کی تعریف مبہم ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سرکاری عہدیداروں پر ضرورت سے زیادہ کنٹرول کے لیے ان کا استعمال کیا ہے، جس سے پراسیکیوٹرز کو ایسے رویے کو مجرمانہ قرار دینے کی اجازت ملتی ہے جو فوجداری قانون میں واضح طور پر بیان نہیں کیا گیا ہے۔اس اقدام پر اسرائیلی اپوزیشن کی جانب سے سخت مذمت کی گئی ہے۔اپوزیشن لیڈر یائر لیپڈ، جو ییش عتید پارٹی کے سربراہ ہیں، نے خبردار کیا کہ یہ قدم اسرائیل کے جمہوری بنیادوںکے لیے براہ راست خطرہ ہے۔لیپڈ نے امریکی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، ’’یہ اصلاحات نہیں ہیں۔ یہ ایک وسیع پیمانے پر تبدیلی ہے جو اسرائیل کو ایک بدعنوان اور غیر جمہوری ریاست بنا دے گی۔‘‘ تاہم انہوں نے وعدہ کیا کہ ان کی پارٹی پارلیمنٹ، عدالتوں اور عوامی احتجاج کے ذریعے اس بل کی مخالفت کرے گی۔
یہ بھی پڑھئے: ہم مذاکرات چاہتے ہیں لیکن جنگ کیلئے بھی تیار ہیں: ایران
واضح رہے کہ یہ قانون سازی کی کوشش اس وقت سامنے آئی ہے جب نیتن یاہو کی صدارتی درگزرکی درخواست پر اسرائیل میں گہرے اختلافات ہیں۔ گزشتہ سال نومبر کے آخر میں، وزیر اعظم نےبدعنوانی تسلیم کیے بغیر یا سیاسی زندگی سے دستبردار ہونے کا عہد کیے بغیر، صدر اسحاق ہرزوگ سے بدعنوانی کے مقدمات میں رعایت کی درخواست کی تھی۔نیتن یاہو کا مقدمہ۲۰۲۰؍ میں شروع ہوا تھا۔ وہ تمام الزامات کو مسترد کرتے رہے ہیں اور ان مقدمات کو انہیں عہدے سے ہٹانے کی سیاسی کوشش قرار دیتے رہے ہیں۔ تاہم، اسرائیلی قانون کے تحت، صدر کی طرف سے معافی صرف سزا یافتہ ہونے اور جرم تسلیم کرنے کے بعد ہی دی جا سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ: بدترین انسانی بحران کے خلاف فلسطینیوں کا احتجاج، یو این سے مداخلت کا مطالبہ
یہ یاد رہے کہ ملکی کارروائیوں کے علاوہ نیتن یاہو بین الاقوامی قانونی جانچ پڑتال کا بھی سامنا کر رہے ہیں۔ نومبر۲۰۲۴ء میں، انٹرنیشنل کریمنل کورٹ (۲۰۲۴ء نے ان کے خلاف غزہ میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات پر گرفتاری وارنٹ جاری کیے تھے، جہاں اکتوبر۲۰۲۳ء سے ایک وحشیانہ حملے میں۷۱؍ سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں، اور۱۷۱۰۰۰؍ سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔