Updated: October 21, 2026, 7:32 PM IST
| Tel Aviv
اسرائیلی طلبہ کی قومی یونین کے ۲۰۲۶ء کے سروے میں تقریباً ۱۲؍ ہزار طلبہ کی رائے سامنے آئی ہے، جس کے مطابق ۲۹؍ فیصد گریجویشن کے بعد اسرائیل چھوڑنے پر غور کررہے ہیں، جب کہ گزشتہ سال یہ شرح ۲۶؍ فیصد تھی۔ بیرونِ ملک جانے پر غور کرنے والوں میں ۷۹؍ فیصد نے زندگی کے بڑھتے اخراجات، ۴۶؍ فیصد نے سلامتی کے خدشات اور ۲۰۔۲۰؍ فیصد فیصد نے روزگار کے مواقع اور سیاسی و سفارتی کشیدگی کو اہم وجوہات قرار دیا۔
اسرائیل میں زندگی کے بڑھتے اخراجات، مسلسل جنگ کے اثرات اور سلامتی کی صورتِ حال سے متعلق خدشات نوجوانوں کے مستقبل کے فیصلوں پر اثرانداز ہورہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں رپورٹ کیے گئے ایک نئے سروے کے مطابق، ملک کی جامعات میں زیرِ تعلیم تقریباً ہر تین میں سے ایک طالب علم گریجویشن کے بعد بیرونِ ملک منتقل ہونے پر غور کررہا ہے۔ اسرائیلی طلبہ کی قومی یونین کی جانب سے تقریباً ۱۲؍ ہزار طلبہ کی رائے پر مبنی ۲۰۲۶ء کے اس سروے میں بیرونِ ملک جانے کے بارے میں سوچنے والے طلبہ کی شرح گزشتہ سال کے مقابلے میں بڑھ گئی ہے۔ سروے کے مطابق ۲۹؍ فیصد طلبہ نے کہا کہ وہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد اسرائیل چھوڑنے پر غور کررہے ہیں، جب کہ گزشتہ سال یہ شرح ۲۶؍ فیصد تھی۔ اس طرح ایک سال کے دوران بیرونِ ملک جانے پر غور کرنے والے طلبہ کے تناسب میں ۳؍ فیصد پوائنٹس کا اضافہ ہوا ہے۔ یہ اعداد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ نوجوانوں کے ایک قابلِ ذکر حصے کے لیے تعلیم مکمل کرنے کے بعد اسرائیل میں رہنے کے بجائے دوسرے ملک میں مستقبل بنانے کا امکان زیرِ غور ہے۔
یہ بھی پڑھئے:فرانس، اٹلی میں دکانداروں کا مظاہروں کے دوران لوٹ مار کرنے والوں کا مقابلہ
سروے میں سامنے آنے والی وجوہات میں سب سے نمایاں زندگی کے بڑھتے اخراجات ہیں۔ بیرونِ ملک جانے پر غور کرنے والے طلبہ میں سے ۷۹؍ فیصد نے مہنگائی اور زندگی گزارنے کی لاگت کو اہم وجہ قرار دیا۔ رہائش، روزمرہ ضروریات اور دیگر اخراجات کا دباؤ نوجوانوں کے لیے تعلیم کے بعد معاشی طور پر مستحکم زندگی شروع کرنے کو مشکل بنا سکتا ہے۔ سروے کے یہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ معاشی تحفظ اور بہتر معیارِ زندگی نوجوانوں کے مستقبل کے فیصلوں میں مرکزی اہمیت رکھتے ہیں۔ سلامتی کے خدشات بھی ایک اہم عامل کے طور پر سامنے آئے۔ بیرونِ ملک جانے پر غور کرنے والے ۴۶؍ فیصد طلبہ نے سلامتی کی صورتِ حال کو اپنی تشویش کی وجہ بتایا۔ اسرائیل میں جاری جنگ اور اس کے طویل مدتی اثرات کے تناظر میں یہ معاملہ نوجوانوں کے لیے مستقبل کی منصوبہ بندی کا اہم حصہ بن گیا ہے۔ تاہم سروے میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ مختلف طلبہ کے سلامتی سے متعلق خدشات کن مخصوص واقعات یا حالات سے وابستہ تھے۔
روزگار کے مواقع اور سیاسی و سفارتی کشیدگی بھی طلبہ کے فیصلوں پر اثرانداز ہونے والے عوامل میں شامل ہیں۔ سروے میں بیرونِ ملک جانے پر غور کرنے والے ۲۰؍ فیصد طلبہ نے روزگار کے بہتر امکانات کو وجہ بتایا، جب کہ اتنے ہی طلبہ نے سیاسی اور سفارتی کشیدگی کا ذکر کیا۔ یہ اعداد بتاتے ہیں کہ نوجوانوں کے خدشات صرف فوری معاشی حالات یا سلامتی تک محدود نہیں، بلکہ ملازمت کے مستقبل اور ملک کی وسیع تر سیاسی صورتِ حال سے متعلق تصورات بھی ان کے فیصلوں میں کردار ادا کررہے ہیں۔ سروے میں بیرونِ ملک جانے پر غور کرنے اور حقیقتاً ملک چھوڑنے کے فیصلے کے درمیان فرق بھی اہم ہے۔ کسی طالب علم کا دوسرے ملک منتقل ہونے کے امکان پر غور کرنا لازماً اس بات کا ثبوت نہیں کہ وہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد ہجرت کرلے گا۔ اس کے باوجود گزشتہ سال کے ۲۶؍ فیصد کے مقابلے میں اس سال ۲۹؍ فیصد کی شرح اس رجحان میں اضافے کی نشاندہی کرتی ہے، جسے اسرائیل میں نوجوانوں کی معاشی، سماجی اور سلامتی سے متعلق ترجیحات کے تناظر میں دیکھا جاسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:فرانس: پُرتشدد مظاہروں کے بعد پیرس سمیت کئی شہروں میں کرفیو نافذ
تقریباً ۱۲؍ ہزار طلبہ کی رائے پر مبنی یہ سروے اسرائیلی جامعات کے طلبہ کے درمیان پائے جانے والے رجحانات کی ایک جھلک پیش کرتا ہے۔ تاہم دستیاب معلومات میں سروے کے طریقۂ کار، طلبہ کی تفصیلی آبادیاتی تقسیم اور مختلف جامعات میں جوابات کے فرق کی مکمل تفصیلات موجود نہیں ہیں؛ اس لیے ان نتائج کو تمام اسرائیلی نوجوانوں یا پوری آبادی کے خیالات کا حتمی نمائندہ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ اس کے باوجود سروے کا بنیادی نتیجہ واضح ہے: اسرائیلی طلبہ کے ایک نمایاں حصے کے لیے گریجویشن کے بعد بیرونِ ملک زندگی ایک قابلِ غور متبادل بن رہی ہے۔ مہنگائی، سلامتی کے خدشات، روزگار کے امکانات اور سیاسی و سفارتی کشیدگی اس رجحان کے اہم عوامل کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ آیا یہ رجحان حقیقی ہجرت میں تبدیل ہوگا یا نہیں، اس کا اندازہ مستقبل میں طلبہ کے عملی فیصلوں اور ملک چھوڑنے کے مستند اعداد و شمار سے ہی لگایا جاسکے گا۔