Updated: August 19, 2026, 10:04 PM IST
| Tel Aviv
اسرائیلی فوج نے غزہ میں ۶؍ سالہ ہند رجب،اور ۱۵؍ معاون طبی اہلکاروں کی ہلاکت کی مجرمانہ تحقیق کا اعلان کیا ہے، تاہم فوج نے ورلڈ سنٹرل کچن اور ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز سے تعلق رکھنے والے امدادی کارکنوں سے جُڑے تین دیگر واقعات میں مجرمانہ تحقیقات نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
ہند رجب کو انصاف دلانے کیلئے عوام نے ریلی کا اہتمام کیا۔ تصویر: ایکس
اسرائیلی فوج نے کہا کہ وہ غزہ میں فلسطینیوں کی اموات سے متعلق دو نمایاں واقعات ،پانچ سالہ ہند رجب اور اس کے اہل خانہ کا قتل، اور۱۵؍ فلسطینی معاون طبی اہلکاروں کی ہلاکت کی مجرمانہ تحقیقات کرے گی۔ تاہم فوج نے ورلڈ سنٹرل کچن اور ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز سے تعلق رکھنے والے امدادی کارکنوں سے جُڑے تین دیگر واقعات میں مجرمانہ تحقیقات نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔بعد ازاں فوج کے بیان کے مطابق، اس نے غزہ میں اپنی افواج کے رویے سے متعلق۱۵۰؍ واقعات کا جائزہ مکمل کر لیا ہے اور پانچ معاملات پر فیصلے کیے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل میں انتخابات کی تیاریاں ، لیکوڈ پارٹی نے امیدواروں کی فہرست جاری کی
واضح رہے کہ ہند رجب اور آٹھ دیگر افراد کے قتل کی تحقیقات کا آغاز۲۹؍ جنوری۲۰۲۴ء کو غزہ شہر میں پیش آنے والے ایک واقعے سے ہوا ہے۔ فوج کا کہنا ہے کہ اس کی افواج نے ایک کار پر فائر کی جو ان کی طرف آ رہی تھی اور جس میں رجب اور اس کے رشتہ دار سوار تھے۔اس حملے میں پانچ مسافر مارے گئے، جبکہ رجب اور اس کی۱۵؍ سالہ کزن لیان حمادہ ابتدائی طور پر بچ گئیں۔ حمادہ نے فلسطینی ریڈ کریسنٹ سے رابطہ کیا اور بتایا کہ ایک ٹینک قریب آ رہا ہے اور اس کے خاندان کے افراد مارے جا چکے ہیں۔ ریڈ کریسنٹ کی جاری کردہ ایک ریکارڈنگ کے مطابق، کال کے دوران گولیوں کی آوازیں سنی گئیں، جس کے بعد حمادہ خاموش ہو گئیں۔جبکہ ہندرجب کار کے اندر پھنسی ہوئی،گھنٹوں تک ریڈ کریسنٹ کے امدادی کارکنوں کے ساتھ فون پر رابطے میں رہی، جبکہ امدادی اہلکار اسرائیلی فوج سے رجب تک پہنچنے کی اجازت مانگ رہے تھے۔ بعد میں رابطہ منقطع ہو گیا۔ تاہم موقع پر بھیجی گئی ایک ایمبولینس کو بھی مبینہ طور پرگولے کا نشانہ بنایاگیا۔بارہ دن بعد، رجب اور اس کے سات رشتہ داروں کی لاشیں، دو پیرا میڈیکل کے ساتھ، اس جگہ سے برآمد کی گئیں۔ اس واقعے نے عالمی سطح پر شدید غم و غصے کو جنم دیا۔
یہ بھی پڑھئے: ہند رجب فاؤنڈیشن کی ہندوستان آنے والے اسرائیلی فوجی کےخلاف جنگی جرائم کی شکایت
اسرائیلی فوج نے اپنی رپورٹ میں کہا، ’’نتائج کے جائزے کے بعد، اور فلسطین ریڈ کریسنٹ ایمبولینس کی نقل و حرکت میں ہم آہنگی میں مبینہ ناکامیوں کی وجہ سے، اس واقعے کی مجرمانہ تحقیقات شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔‘‘مزید برآں فوج کا یہ فیصلہ ان اموات کے گرد موجود حالات کی مجرمانہ جانچ کی جانب ایک قدم ہے، تاہم بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ کس کی تحقیقات کی جائیں گی یا یہ تحقیقات کب مکمل ہوں گی۔