Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیل میں انتخابات کی تیاریاں ، لیکوڈ پارٹی نے امیدواروں کی فہرست جاری کی

Updated: August 19, 2026, 1:28 PM IST | Agency | Tel Aviv

اکتوبر میں ہونے والے الیکشن میں نیتن یاہو جنگ کے نام پر ووٹ مانگ سکتے ہیں، حالانکہ ملک میں ماحول ان کے خلاف ہے۔

Will Netanyahu win the election this time too? Picture: INN
کیا نیتن یاہو اس بار بھی الیکشن جیت جائیں گے؟ تصویر: آئی این این

پیر کے روز اسرائیل کی حکمراں جماعت لیکوڈ پارٹی کے اراکین نے اکتوبر میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات کیلئے اپنے امیدواروں کے نام طے کر لئے ہے۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے ،جب رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی جماعت کو موجودہ پارلیمانی پوزیشن کے مقابلے میں نشستوں کے نقصان کا سامنا ہے۔ یہ انتخابات نیتن یاہو کے ایک ہنگامہ خیز دورِ حکومت کے بعد ہو رہے ہیں، جس پر غزہ کی جنگ، ۷؍ اکتوبر ۲۰۲۳ء کے حملے کے اثرات اور عدالتی اصلاحات کے باعث پیدا ہونے والے بحران کے سائے نمایاں رہے ہیں۔لیکوڈ پارٹی کے تقریباً ایک لاکھ ۴۰؍ ہزار ارکان کو امیدواروں کے انتخاب کیلئے ووٹ ڈالنے کا حق حاصل ہے۔رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق لیکوڈ کو ۲۲؍ سے ۲۵؍ نشستیں ملنے کی توقع ہے، جبکہ اس وقت پارلیمنٹ میں اس کی ۳۲؍ نشستیں ہیں۔نیتن یاہو نے پارٹی کے اندر بھی تنازع کھڑا کر دیا ہے کیونکہ انہوں نے انتخابی فہرست میں تقریباً ۱۰؍ نشستیں اپنی پسند کی شخصیات کیلئے مخصوص کر لی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: سعودی عرب : نایاب پرندے کی نیلامی، کنیڈین باز۳؍لاکھ۶۴؍ہزار ڈالر میں میں خریداگیا

اس اقدام سے ان ۱۲۴؍ امیدواروں کیلئے دستیاب نشستوں کی تعداد کم ہو گئی ہے ،جو پارٹی کے داخلی انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔لیکوڈ کے ۳۰؍ سالہ رکن آوی جو نوعمری سے پارٹی سے وابستہ ہیں، فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی سے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہاکم از کم ۱۰؍ نشستیں ایک شخص کے فیصلے سے مخصوص کر دی گئی ہیں، یہ جمہوریت نہیں ہے۔تاہم پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے رکن ایلی کوہن نے اس تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ عمل جمہوری ہے۔ ۷۹؍ سالہ کوہن کا کہنا ہے کہ وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ نیتن یاہو ایک خدائی مشن پر مامور ہیں تاکہ وہ ڈیپ اسٹیٹ اور امریکی ڈیموکریٹک انتظامیہ کا مقابلہ کر سکیں۔ ان کے بقول سب ان کے خلاف ہیں۔اگرچہ جنگ اور نیتن یاہو کی داخلی پالیسیوں کے باعث ملک بھر میں انہیں شدید تنقید کا سامنا ہے، تاہم اپنی جماعت کے اندر ان کی مقبولیت اب بھی خاصی مضبوط ہے۔موجودہ رکن پارلیمنٹ امیت ہالیوی نے اے ایف پی سے گفتگو میں کہا کہ وہ کم تعداد میں نشستیں مخصوص کیے جانے کو ترجیح دیتے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ: جین زی کا ایک گروپ اب بھی کورونا دور کی تنہائی میں زندگی گزار رہا: رپورٹ

تاہم ان کا کہنا تھا کہ بڑی اکثریت کا انتخاب پرائمری انتخابات کے ذریعے ہوگا اور یہی اہم بات ہے۔پارٹی کے مطابق ووٹنگ ختم ہونے تک ۵۳؍ فیصد ارکان نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔ابتدائی نتائج منگل کی صبح سامنے آنے کی توقع ہے۔نئی انتخابی فہرست میں امیدواروں کی ترتیب ۲۷؍ اکتوبر کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں لیکوڈ پارٹی کی کارکردگی پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ یاد رہے کہ نیتن یاہو یہ الزام عائد کیا جاتا رہا ہےکہ انہوں نے اپنی میعاد کے آخری سال ایران پر حملہ کیا تا کہ اس جنگ کو انتخابات میں ووٹ مانگنے کیلئے استعمال کیا جا سکے۔ حالانکہ اس جنگ کی وجہ سے ان کے خلاف احتجاج بھی ہوا۔ یاہو کو یقین ہے کہ جنگ کی وجہ سے عوام ان کا ساتھ دیں گے جبکہ اپوزیشن جنگ میں ناکامی کو موضوع بنا کر نیتن یاہو کے خلاف ووٹ مانگنے کی کوشش کرے گا۔ 

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK