• Sat, 03 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیل: اپوزیشن لیڈر کا انکشاف، نوجوان اسرائیلی غزہ میں فلسطینیوں کے قتل کےحامی

Updated: October 03, 2026, 2:02 PM IST | Tel Aviv

اسرائیلی اپوزیشن لیڈر یائر لاپڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے نوجوان اسرائیلیوں کے ایک گروپ سے ملاقات کی، جنہوں نے غزہ میں تمام فلسطینیوں، حتیٰ کہ بچوں کو بھی قتل کرنے کی حمایت کی۔ لاپڈ نے حکومتی وزرا کے متنازع بیانات اور اسرائیل مخالف ممالک سے سفارتی تعلقات ختم کرنے کی پالیسی پر بھی تنقید کی ہے۔

Israeli Opposition Leader Yair Lapid. Photo: X
اسرائیلی اپوزیشن لیڈر یائیر لیپڈ۔ تصویر: ایکس

اسرائیلی اپوزیشن لیڈر یائر لاپڈ نے کہا ہے کہ ان کی ملاقات اسرائیل کے نوجوانوں کے ایک گروپ سے ہوئی، جنہوں نے غزہ کی پٹی میں تمام فلسطینیوں، حتیٰ کہ بچوں کو بھی قتل کرنے کی حمایت کا اظہار کیا۔ لاپڈ نے ایک پوڈکاسٹ انٹرویو میں یہ بات کہی، جس کے کچھ اقتباسات گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پلیٹ فارموں پر گردش کرتے رہے ہیں۔ لاپڈ نے کہا، ’’میری ملاقات بہت کم عمر افراد کے ایک گروپ سے ہوئی جو میرے لیے تکلیف دہ تھی۔ میں نے ان سے ایسے بیانات سنے جن میں سب کو قتل کرنے اور یہ دعویٰ کرنے کی بات کی گئی کہ کوئی بھی بے گناہ نہیں ہے۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے ان نوجوانوں سے پوچھا، ’’کیا بچوں کو بھی؟‘‘ لاپڈ کے مطابق، نوجوانوں نے جواب دیا، ’’بچوں کو بھی، کیونکہ آخرکار وہ بڑے ہوکر دہشت گرد بن جائیں گے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: پوپ لیو کا انسانی فن اور اے آئی تخلیقات میں فرق کرنے پر زور

یاد رہے کہ ۸؍ اکتوبر ۲۰۲۳ء سے اسرائیل نے امریکی حمایت کے ساتھ غزہ کی پٹی میں فوجی کارروائیاں جاری رکھی ہیں، جن میں ۷۴؍ ہزار سے زائد فلسطینی ہلاک اور ایک لاکھ ۷۵؍ ہزار سے زیادہ زخمی ہوچکے ہیں۔ ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔ غزہ میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے اسرائیلی حکام اور عوامی شخصیات کی جانب سے فلسطینیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر طاقت کے استعمال اور شہریوں و جنگجوؤں کے درمیان فرق کو کم اہمیت دینے سے متعلق متعدد بیانات سامنے آئے ہیں۔ لاپڈ نے حکومتی وزرا کے بیانات پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اس بات سے ’’کبھی صحت یاب نہیں ہوگا‘‘ کہ اس نے ایک ایسے وزیر کو عہدے پر برقرار رہنے دیا جس نے غزہ پر ایٹم بم گرانے کی بات کی تھی۔ اسرائیلی وزیر برائے ورثہ امیخائی ایلیاہو نے نومبر ۲۰۲۳ء میں غزہ کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے کی حمایت کی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ: ایران کی بحری ناکہ بندی کے بعد آٹو اور ریلوے شعبوں پر نئی پابندیاں

لاپڈ نے غزہ میں شہریوں کو بھوکا رکھنے سے متعلق اسرائیلی حکام کے بیانات پر بھی تنقید کی اور کہا کہ ایسے وزرا کا عہدے پر برقرار رہنا، جو اس طرح کے بیانات دیتے ہیں، اسرائیل کو نقصان پہنچاتا ہے۔ انہوں نے ان ممالک کے حوالے سے بھی اسرائیلی حکومت کی پالیسی پر بات کی جو اسرائیل پر تنقید کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سفارتی تعلقات ختم کرنا یا سفارت خانے بند کرنا اسرائیل کے مفاد میں نہیں۔ لاپڈ نے کہا کہ آئرلینڈ اور اسپین میں اسرائیل مخالف بیانات ناقابل قبول تھے، تاہم انہوں نے سوال اٹھایا کہ ڈبلن میں اسرائیلی سفارت خانہ بند کرنا یا میڈرڈ سے اسرائیلی سفیر کو واپس بلانا کس حد تک مفید ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس کے بجائے ان ممالک کا دورہ کرنا، وہاں کے ذرائع ابلاغ میں اظہار خیال کرنا اور اسرائیل کے ناقدین سے براہِ راست بات چیت کرنا پسند کریں گے، نہ کہ ان کا بائیکاٹ کریں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK