Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیل میں مسلسل دوسرے سال منفی نقل مکانی درج،۶۹۰۰۰؍ اسرائیلیوں نے ملک چھوڑا

Updated: May 23, 2026, 10:02 PM IST | Tel Aviv

اسرائیل میں جنگ کےاثرات کے پیش نظر مسلسل دوسرے سال منفی نقل مکانی درج کی گئی، حکومت کے مطابق ملک کی آبادی میں محض ایک اعشاریہ ایک فیصد اضافہ درج کیا گیا، جوکم ترین شرح ہے، جبکہ ۲۰۲۵ء میں ۶۹۰۰۰؍ سے زائد اسرائیلیوں نے اسرائیل چھوڑ دیا۔

Photo: X
تصویر: ایکس

اسرائیلی حکومت کے مطابق، جنگ کے اثرات کے سبب ملک کی آبادی میں محض ایک اعشاریہ ایک  فیصد اضافہ ہوا، جو غیر معمولی طور پر کم شرح ہے، اور ملک میں۲۰؍ ہزار افراد کی خالص منفی نقل مکانی دیکھی گئی۔مرکزی ادارہ شماریات کی سالانہ رپورٹ کے مطابق، غزہ میں حماس کے خلاف جنگ کے دوران۲۰۲۵ء میں ۶۹؍ ہزار سے زیادہ اسرائیلیوں نے ملک چھوڑ دیا، جس کی وجہ سے اسرائیل میں مسلسل دوسرے سال منفی نقل مکانی کا ریکارڈ بنا۔تاہم کل آبادی ایک اعشاریہ ایک فیصد بڑھ کر ایک کروڑ ایک لاکھ ۷۸؍ ہزار ہوگئی۔ بعد ازاں یہ شرح گزشتہ سال جیسی ہی رہی، جو اسرائیل کی تاریخ کی سست ترین شرح نمو میں سے ایک ہے۔
دریں اثناء تاؤب سینٹر برائے معاشرتی پالیسی مطالعات کے مطابق یہ شرح صفر اعشاریہ ۹؍ فیصد رہنے کا امکان ہے، جوتاریخ میں پہلی بار ایک فیصد سے نیچے گرے گی۔واضح رہے کہ ۲۰۲۵ءمیں تقریباً۲۴۶۰۰؍ نئے تارکین وطن اسرائیل آئے، جو۲۰۲۴ء کے مقابلے میں۸؍ ہزار کم ہیں۔ دراصل یہ کمی روس سے آنے والے تارکین وطن میں تیزی سےہونے والی کمی کی وجہ سے ہوئی، جبکہ۲۰۲۲ء میں روس-یوکرین جنگ کے بعد ان کی تعداد بڑھ گئی تھی۔اس کے علاوہ، تقریباً ۱۹؍ ہزاراسرائیلی بیرون ملک طویل  قیام کے بعد واپس آئے، اور ۵۵۰۰؍ افراد خاندانی اتحاد کے لیے آئے۔ اس طرح خالص نقل مکانی کا نقصان تقریباً۲۰؍ ہزار افراد رہا۔واضح رہے کہ یہ مسلسل دوسرا سال ہے جب اسرائیل جانے والوں کی تعدادسے زیادہ اسرائیل چھوڑنے والوں کی تعدادہے۔ 
ذہن نشین رہے کہ۲۰۲۴ء میں۸۲۷۰۰؍ اسرائیلیوں نے ملک چھوڑا تھا۔ماہرین آبادیات کے مطابق، اسرائیل کی زیادہ تر تاریخ میں یہودیوں کی آمد، ان کے ملک چھوڑنےسے زیادہ رہی ہے۔سوائے ۱۹۵۰ءاور۱۹۸۰ء کی دہائیوں کے کچھ ادوار کے۔
بعد ازاں اس تبدیلی کی وجہ حالیہ برسوں میں اسرائیل کے کشیدہ سیاسی اور سیکیورٹی ماحول کو قرار دیا جاتا ہے، بشمول ۷؍ اکتوبر۲۰۲۳ء کے بعد غزہ میں جنگ اور عدالتی اصلاحات کے منصوبوں سے مایوسی۔یاد رہے کہ ترک وطن انہیں اس وقت شمار کیا جاتا ہے جب وہ زیادہ تر سال بیرون ملک گزاریں۔ مجموعی طور پر اسرائیل کی ایک کروڑ ایک لاکھ ۷۸؍ہزار آبادی میں۷۷؍ اعشاریہ ۷۱؍ لاکھ یہودی اور دیگر (بشمول غیر عرب مسیحی) ہیں جو ۷۶؍ اعشاریہ ۳؍فیصد ہیں، جبکہ ۲۱؍اعشاریہ ۴۷؍  لاکھ عرب ۲۱؍ اعشاریہ ایک فیصد)، اور۲؍ اعشاریہ ۶؍ لاکھ ۲؍ اعشاریہ ۶؍فیصد) غیر ملکی کے طور پر درج ہیں۔جبکہ ۲۰۲۵ء میں۱۸۲۰۰۰؍ پیدائش درج کی گئیں (۷۶؍ فیصد یہودی ماؤں سے، ۲۴؍فیصد عرب ماؤں سے)، جبکہ۵۰؍ ہزار اموات ہوئیں۔ اس طرح آبادی میں خالص اضافہ۱۱۲۰۰۰؍ افراد رہا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK