اسرائیل کو اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جائے گا: فلسطینیوں کامتحدہ عزم

Updated: September 18, 2020, 8:58 AM IST | Agency | Yerushalam

غزہ پر ہوئی بمباری کے بعد فلسطین کی تمام جنگجو تنظیموںکا مشترکہ بیان جاری: صہیونی فوجوں کو حارحیت کی اجازت نہیں دی جائے گی

Palestine - Pic : INN
فلسطین میں عرب ۔ اسرائیل دوستی کے خلاف مسلسل احتجاج ہو رہا ہے ( تصویر: ایجنسی

متحدہ عرب امارات اور  بحرین سے معاہد ہوتے ہی منگل اور بدھ کی درمیانی شب  اسرائیل نے فلسطینی شہر غزہ  کے مختلف علاقو ں پر بمباری کی تھی۔ اس پر فلسطین کی مختلف تنظیمیں جو حال  ہی میں متحد ہوئی ہیں، سخت برہم ہیں اور انہوں نے اسرائیلی  جارحیت کومنہ توڑ جواب دینے کا عندیہ ظاہر کیا ہے۔
  واضح رہے کہ بحرین کے اسرائیل سے ہاتھ ملاتے ہی محمود عباس کی ’فتح‘، اسماعیل ہانیہ کی ’حماس ‘  کے علاوہ ’ اسلامی جہاد‘ نامی تنظیموں سمیت فلسطین کی تمام تنظیموں نے آپس میں ہاتھ ملا لیا تھا  اور اسرائیل  کے خلاف متحدہ لڑائی لڑنے کا عزم ظاہر کیا تھا۔ ایک روز قبل انہوں نے واشنگٹن  میں ہونے والے معاہدوں کے خلاف متحدہ طور پر  احتجاج بھی کیا تھا۔  بدھ کو ہونے والی بمباری کے بعد انہوں نے  ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا  ہے کہ ’’ ہم صہیونی  ریاست کی جانب سے غزہ پٹی پر کی گئی جارحیت پر اینٹ کا جواب پتھر  سے دیں گے۔‘‘  
  مرکزی اطلاعات فلسطین کے جوائنٹ کنٹرول روم سے جاری کئے گئے اس بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’  صہیونی فوج کو غزہ کے عوام اور یہاں موجود مزاحمتی ٹھکانوں پر بمباری کی اجازت قطعی نہیں دی جائے گی۔  واضح رہے کہ اسرائیل نے غزہ پر بمباری کے بعد کہا تھا کہ اس کی فوج نے  حماس کے ٹھکانوں پر حملہ کیا ہے جہاں سے اسرائیل کی سرحد کے اندر راکٹ داغے گئے تھے۔  مشترکہ بیان میں کہا گیا  ہے کہ ’’  بدھ کے روز صہیونی فوج کی طرف سے غزہ پر کی گئی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا، اور یہ جواب فلسطین کی تمام جنگجو تنظیمیں متحدہ طور پر دیں گی۔
  واضح رہے کہ منگل کو جب واشنگٹن میں ڈونالڈ ٹرمپ کی موجودگی میں اسرائیل ، بحرین اور متحدہ عرب امارات کے حکام وہائٹ ہائوس میں معاہدوں  پر دستخط کر رہے تھے ، اسی وقت اسرائیلی فوجوں نے غزہ کے مختلف علاقوں پر بمباری کی تھی  جس میں کئی عمارتوں کو نقصان پہنچا تھا۔  اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ غزہ کی طرف سے اسرائیلی سرحد  کے اندر راکٹ سے حملہ کیا گیا تھا۔  اس پورے معاملے پر اب تک متحدہ عرب امارات اور بحرین کی جانب سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے جنہوں نے کہا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ معاہدہ ہوجانے پر فلسطینیوں پر ہونے والے مظالم میں کمی آجا ئے گی۔ 
  واضح رہے کہ ۱۳؍ اگست یعنی جب سے متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات استوار کرنے کا اعلان ہوا ہے  فلسطین  میں کسی نہ کسی پیمانے پر احتجاج ہو رہے ہیں ۔ ان میں غزہ اور مغربی کنارے کے کئی علاقے شامل ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK