Inquilab Logo Happiest Places to Work

لیلۃ القدر پر مسجد اقصیٰ بند، عالمی سطح پر شدید ردعمل

Updated: March 17, 2026, 7:18 PM IST | Jerusalem

رمضان کی ۲۷؍ ویں شب پہلی بار مسجد اقصیٰ خالی رہی، جبکہ اسرائیلی پابندیوں پر عرب لیگ سمیت عالمی حلقوں نے شدید تشویش ظاہر کی۔

Photo: X
تصویر: ایکس

مقبوضہ یروشلم میں واقع الاقصیٰ مسجد کو مسلسل ۱۶؍ ویں دن بھی بند رکھا گیا، جس کے باعث تاریخ میں پہلی بار رمضان کی مقدس رات لیلۃ القدر کے موقع پر مسجد نمازیوں سے خالی رہی۔ لیلۃ القدر اسلام کی سب سے مقدس راتوں میں شمار ہوتی ہے، جب لاکھوں مسلمان مساجد میں عبادت، دعا اور قرآن کی تلاوت کرتے ہیں۔ گزشتہ برس اسی موقع پر تقریباً ایک لاکھ ۸۰؍ ہزار نمازیوں نے مسجد اقصیٰ میں شرکت کی تھی، لیکن اس سال مکمل بندش کے باعث یہ روحانی منظر دیکھنے کو نہ ملا۔

سیکوریٹی حصار اور پابندیاں
فلسطینی حکام کے مطابق اسرائیلی فورسیز نے قدیم یروشلم کو ایک فوجی علاقے میں تبدیل کر دیا، جہاں سیکڑوں اہلکار تعینات کیے گئے اور داخلی راستوں پر سخت ناکہ بندی قائم کی گئی۔ نمازیوں کو مسجد میں داخل ہونے سے روک دیا گیا، جس کے باعث انہوں نے قریبی علاقوں جیسے باب الصحرہ اور دمشق گیٹ پر نماز ادا کی۔

عوامی ردعمل اور مزاحمت
پابندیوں کے باوجود سیکڑوں فلسطینیوں نے سڑکوں اور گلیوں میں عشاء اور تراویح ادا کی۔ سوشل میڈیا پر بھی لوگوں نے ناکہ بندی توڑنے اور کسی بھی دستیاب جگہ پر عبادت جاری رکھنے کی اپیل کی۔ رپورٹس کے مطابق پرانے شہر کے بازار، جو عام طور پر رمضان میں انتہائی مصروف ہوتے ہیں، اس بار ویران نظر آئے۔ دکانداروں کو شدید معاشی نقصان کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ پابندیوں کے باعث گاہکوں کی آمد تقریباً ختم ہو گئی۔

یہ بھی پڑھئے: موت کی افواہوں کے درمیان نیتن یاہو نے مزید ۲؍ ویڈیوز جاری کئے، اے آئی کا شبہ

عرب لیگ کی مذمت
عرب لیگ نے اسرائیل کے اس اقدام کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’’رمضان کے دوران، خاص طور پر آخری عشرے میں عبادت سے روکنا بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔‘‘ تنظیم نے اسے دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کے خلاف اشتعال انگیزی قرار دیا اور کہا کہ یہ عبادت کی آزادی پر براہ راست حملہ ہے۔

عالمی برادری سے مطالبہ
عرب لیگ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سمیت عالمی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالیں تاکہ مسجد اقصیٰ پر پابندیاں ختم کی جائیں، فلسطینیوں کو آزادانہ رسائی دی جائے اور مقدس مقامات پر عبادت کی آزادی یقینی بنائی جائے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکی بحری جہاز میں آگ، ایران جنگ میں سیکڑوں ملاح متاثر

واضح رہے کہ یہ بندش ۲۸؍ فروری کو ایران کے خلاف امریکہ اسرائیل کشیدگی کے بعد نافذ کی گئی ہنگامی پابندیوں کے تحت جاری ہے، جس نے پورے خطے میں حالات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ لیلۃ القدر جیسے اہم موقع پر مسجد اقصیٰ کی بندش نہ صرف مذہبی بلکہ سیاسی اور انسانی حقوق کے حوالے سے بھی ایک غیر معمولی اور تشویشناک پیش رفت ہے، جس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK