ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے مشیر کے تبصرے کی نفی کی ، البتہ کہا حملے جاری رہیں گے، ایران نے امریکی کمپنیوں کو خطے سے نکل جانے کیلئے کہا
EPAPER
Updated: March 18, 2026, 12:41 AM IST | Washington
ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے مشیر کے تبصرے کی نفی کی ، البتہ کہا حملے جاری رہیں گے، ایران نے امریکی کمپنیوں کو خطے سے نکل جانے کیلئے کہا
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پیر کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ اسرائیل اپنے مسائل حل کرنے کیلئے ایٹمی ہتھیار استعمال کرے گا۔جب ان سے ڈونالڈ ٹرمپ کے مشیر ڈیوڈ سیکس کے ایک پوڈ کاسٹ میں دیئے گئے اس تبصرے کے بارے میں پوچھا گیا جس میں انہوں نے قیاس آرائی کی تھی کہ اسرائیل ایران کے ساتھ جنگ میں شدت لا سکتا ہے اور ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے پر غور کر سکتا ہے، تو امریکی صدر نے کہا کہ ’’اسرائیل ایسا نہیں کرے گا، اسرائیل ایسا کبھی نہیں کرے گا۔‘‘
یاد رہے کہ تحقیقاتی اداروں کے مطابق اسرائیل کے پاس تقریباً ۹۰؍ ایٹمی وار ہیڈز موجود ہیں۔ڈونالڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ جنگ کے آغاز سے اب تک ایران کے اندر ہزاروں مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس سے تہران کی صلاحیتوں میں نمایاں کمی آئی ہے۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ حملے اب بھی کئی سمتوں میں جاری ہیں۔
ڈونالڈ ٹرمپ نے واشنگٹن میں ایک پریس کانفرنس کے دوران ذکر کیا کہ ایران پر جنگ گزشتہ چند دنوں کے دوران پوری قوت کے ساتھ جاری رہی ہے۔انہوں نے وضاحت کی کہ امریکہ نے پورے ایران میں ۷؍ ہزارسے زائد اہداف کو نشانہ بنایا اور یہ تجارتی و فوجی اہداف تھے۔ ہم نے ایرانی بیلسٹک میزائلوں کی فائرنگ میں ۹۰؍ فی صد اور ڈرونز کی فائرنگ میں ۹۵؍ فی صد کمی حاصل کی ہے۔‘‘ امریکی صدر نے مزید کہا کہ اب بہت کم میزائل باقی رہ گئے ہیں۔ آج ہم نے میزائل اور ڈرون بنانے والی ۳؍ جگہوں کو نشانہ بنایا ہے۔انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ جنگ کے آغاز سے اب تک ۱۰۰؍ سے زائد ایرانی بحری جہاز ڈبوئے جا چکے ہیں اور حملے تمام سمتوں میں جاری ہیں۔آبنائے ہرمز کے حوالے سے ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ ہم نے بارودی سرنگیں بچھانے والے ۳۰؍ بحری جہاز تباہ کر دیے ہیں اور میں یقینی طور پر نہیں کہہ سکتا کہ کوئی بارودی سرنگ بچھائی گئی ہے یا نہیں۔
امریکی کمپنیاں خطے سے نکل جائیں : ایران
ادھر ایران کی فوج پاسداران انقلاب نے خطے میں موجود تمام امریکی کمپنیوں پر زور دیا ہے کہ وہ خلیجی ممالک سے نکل جائیں۔ کمپنیوں کے ملازمین کو بھی کہا گیا ہے کہ وہ کمپنیوں کےدفاتر اور عمارات کو خالی کر کےچلے جائیں۔پاسداران انقلاب کے پیر کے روز جاری کردہ بیان میں امریکی کمپنیوں کے مقامی اور غیر ملکی ملازمین سے کہا گیا ہے ہم آپ سے اپیل کرتے ہیں کہ علاقے کو فوری خالی کردیں۔ کیونکہ کمپنیوں والے علاقوں کو جلد پاسداران کی طرف سے حملوں کا سامنا کرنا ہوگا۔ایران کی طرف سے خلیجی ملکوں میں امریکی فوجی اڈوں کو پہلے ہی ہدف بنا کر میزائل اور ڈرون حملےکئے جارہے تھے ، تاہم جب امریکہ اور اسرائیلی جنگی طیاروں نے ایرانی بنکوں کو بھی نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔