Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹرمپ کی وارننگ کے باوجود لبنان میں اسرائیلی حملے

Updated: June 10, 2026, 10:10 AM IST | Agency | Beirut

۸؍افراد شہید، حزب اللہ کابھی جوابی حملہ، لبنان کے صدر کی اسرائیلی حکومت اور عوام کو مذاکرات کی دعوت۔

Israeli Bombing In Residential Area Of Tayyir City.Photo:INN
طیر شہر کے رہائشی علاقے میں اسرائیلی بمباری- تصویر:آئی این این
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم نیتن  یاہو کو جارحیت روکنے کے انتباہ کے بعد اسرائیلی فوج نے لبنان کے شہر صور پر نئے حملوں میں ۸؍افراد کو شہید کر دیا۔ الجزیرہ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج کی یہ کارروائی جبری انخلاء کے احکام کے بعد کی گئی، تازہ حملہ شہر کے ایک گنجان آباد رہائشی علاقے پر کیا گیا ہے۔ 
عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ اسرائیل جنوبی لبنان میں حملے جاری رکھے ہوئے ہے اور اس نے ٹرمپ کی وارننگ کو نظر انداز کر دیا ہے۔ دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل کی جارحیت، خصوصاً لبنان پر بمباری جاری رہی تو جنگ دوبارہ شروع ہوسکتی ہے۔  
 
 
دوسری جانب لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجی اہداف پر متعدد حملے کیے ہیں۔ حزب اللہ نے ٹیلی گرام پر جاری بیان میں کہا ہے کہ اس نے یحمر الشقیف کے جنوب مشرقی مضافات میں ایک اسرائیلی بلڈوزر کو توپ خانے سے نشانہ بنایا، جس کے بعد اسی علاقے میں ایک اور فوجی بلڈوزر پر گائیڈڈ میزائل داغا گیا۔ حزب اللہ کے مطابق یحمر الشقیف اور عیناتا کے قریب اسرائیلی فوجیوں اور گاڑیوں پر بھی گولے اور راکٹ فائر کیے گئے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ التفاح کے علاقے میں اسرائیلی زک -ہرمیس ۴۵۰؍ ڈرون کو زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سے نشانہ بنایا گیا جس کے بعد ڈرون کو پسپا ہونا پڑا۔
 
 
وہیں لبنان کے صدر جوزف عون نے اسرائیلی حکومت اور عوام کو مذاکرات کی دعوت دے دی۔ امریکی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں لبنان کے صدر نےکہا کہ عسکری حل اسرائیل کے لوگوں کو کبھی تحفظ اور سلامتی نہیں دے سکتا، ہم بات چیت کے لیے تیار اور پرعزم ہیں، اگر اسرائیلی بھی تیار ہیں تو آئیں بیٹھیں اور بات کریں۔ لبنانی صدر نے خبردار کیا کہ فوجی حل آپ کو کبھی بھی سلامتی اور تحفظ فراہم نہیں کرے گا۔ لبنانی صدر نے کہا کہ وہ جنگ کے خاتمے کے معاہدے تک پہنچنے سے پہلے اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو سے ملاقات نہیں کریں گے۔ ان کے مطابق کوئی بھی معاہدہ عدم جارحیت کا ہوگا مکمل امن کا معاہدہ نہیں۔ ہمیں لبنان اور اسرائیل کے درمیان دشمنی کی حالت کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنا ہوگا اور یہ (عدم جارحیت کا) معاہدہ ایک منصفانہ اور پائیدار امن کی جانب راستہ بن سکتا ہے۔ عون کے مطابق لبنان ۲۰۰۲ء کی عرب امن پہل کی طرف پیش رفت کرے گا جس کے تحت فلسطینی ریاست کے قیام اور مقبوضہ علاقوں سے اسرائیل کے انخلاء کے بدلے عرب دنیا میں اسرائیل کیساتھ تعلقات معمول پر لانے کی پیشکش کی گئی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK