حالات بدلنے ہوتے ہیں تو اسباب خو د بہ خود پیدا ہوجاتے ہیں۔ مرکزی سرکار نے سوچا بھی نہ ہوگا کہ کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج اتنا پھیل جائیگا اور اس کی اثر پزیری اس حد تک ہوگی کہ اسے چوطرفہ حمایت ملے گی اور ملک کی سیاسی و سماجی فضا یکسر بدل کر حکومت کو ہزار اندیشوں میں مبتلا کر دیگی۔
احتجاج۔ تصویر:آئی این این
حالات بدلنے ہوتے ہیں تو اسباب خو د بہ خود پیدا ہوجاتے ہیں۔ مرکزی سرکار نے سوچا بھی نہ ہوگا کہ کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج اتنا پھیل جائیگا اور اس کی اثر پزیری اس حد تک ہوگی کہ اسے چوطرفہ حمایت ملے گی اور ملک کی سیاسی و سماجی فضا یکسر بدل کر حکومت کو ہزار اندیشوں میں مبتلا کر دیگی۔ موجودہ حکومت کے اب تک کے بارہ سالہ دورِ اقتدار میں یا تو مظاہرے ہونے نہیں دیئے گئے یا بے اثر ہوئے یا بے اثر کر دیئے گئے البتہ انہی بارہ برسوں کے تین احتجاج تاریخ میں درج ہوچکے ہیں۔ ایک کسانوں کا احتجاج، دوسرا شاہین باغ کا احتجاج اور تیسرا زیر بحث کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کا احتجاج۔ ان میں حکومت کو کسانوں کے آگے بھی جھکنا پڑا اورنوجوانوں کے آگے بھی۔ شاہین باغ ( خواتین کا احتجاج) اس لئے ختم ہوا تھا کہ کووڈ کی وباء سے حالات بدل گئے تھے۔ وہ احتجاج بھی شہر در شہر پھیلنے میں کامیاب ہوا تھا، اسے بھی سماج کے ہر طبقے کی حمایت مل رہی تھی اور اس حد تک کامیابی بھی ملی کہ حکومت نے سی اے اے اور این آر سی کو اب تک پورے ملک میں نافذ نہیں کیا۔ اس سے عوامی طاقت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ احتجاج غیر سیاسی ہو، اس میں سب کو جوڑنے کی کوشش کی گئی ہو، ایسے مسئلہ پر ہو جس سے سماج کا ہر طبقہ جوجھ رہا ہو اور اسے خاطرخواہ طریقے سے سوشل میڈیا کے ذریعہ مشتہر کیا گیا ہو تو مذکورہ تین احتجاجی مظاہروں کا تجربہ بتاتا ہے کہ ایسا احتجاج کامیابی سے ہمکنار ہوتا ہے۔
یاد کیجئے کاکروچ جنتا پارٹی نے جب ۲۰؍ جون سے دھرنے کا اعلان کیا تب جنتر منتر کی پرمیشن بھی کاکروچ جنتا پارٹی کے پاس نہیں تھی۔ ابھیجیت دیپکے امریکہ سے دہلی پہنچ گئے تب کہیں جاکر پولیس نے اُنہیں پرمیشن دی اور کسی تامل کے بغیر دی۔ اس وقت تک حکومت اسی خام خیالی میں تھی کہ ہزار پانچ سو طلبہ جمع ہوں گے، نعرے لگائیں گے اور گھر چلے جائینگے مگر نوجوان پُرامن طریقے سے خود کو منوانے کا سوچ کر بیٹھے تھے۔ بلاشبہ طلبہ اور نوجوانوں کا یہ احتجاج تعلیمی مسائل بالخصوص نیٹ کا پرچہ لیک ہونے کیخلاف برپا ہوا تھا مگر اس کی زیریں لہروں میں دیگر مسائل بھی گونج رہے تھے جو اِس بات کا اشارہ تھے کہ نوجوانوں کو بھلے ہی پرچہ لیک اور امتحان منسوخی کے واقعات نے برہم کیا ہو مگر وہ کئی دیگر معاملات کی وجہ سے بھرے بیٹھے تھے اور شاید موقع کے منتظر تھے۔ آحر وہ بے روزگاری، مہنگائی، بدعنوانی، فرقہ پرستی یا عدم مساوات سے متاثر نہ ہوں ایسا کیسے ہوسکتا ہے۔ انہوں نے وزیر تعلیم کے استعفےٰکا جو مطالبہ کیا وہ محض ایک وزیر کے استعفے کا مطالبہ نہیں تھا بلکہ اس کے پس پشت حکومت کی ناکامیوں کے خلاف بے چینی اور ناراضگی بھی تھی۔
یہ معمولی کامیابی نہیں کہ سی جے پی کے پرچم تلے طلبہ نے زبردست اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کرکے اُس حکومت کے وزیر تعلیم کا استعفے لیا ہے جس کے ایک سینئر وزیر ماضی میں کہہ چکے تھے کہ یہ این ڈی اے (کی حکومت) ہے اس میں استعفے نہیں ہوتے۔ نوجوانوں کی یہ جیت بہت بڑی جیت ہے جس سے ملک کے عوام کی ڈھارس بندھی اور اُن میں اعتماد پیدا ہوا ہے کہ ملک میں جمہوریت زندہ ہے اور اسے مستحکم کرنے کی مخلصانہ جدوجہد ہو تو بہتر حالات کا امکان روشن ہوسکتا ہے۔