ایران کے نطنزنیوکلیئر پلانٹ پر اسرائیل کاسائبر حملہ

Updated: April 13, 2021, 6:51 AM IST | Agency | Tehran

اسرائیلی اخبارات نے خود اسے صہیونی حکومت کی جانب سے کیا گیا حملہ قرار دیا ، تہران کا انتقام لینے کا اعلان لیکن ویانا مذاکرات سے پیچھے نہ ہٹنے کی یقین دہانی

President Hassan Rouhani inspected the plant a day before the attack.Picture:Agency
ایرانی صدر حسن روحانی نے حملے سے ایک روز قبل اس پلانٹ کا معائنہ کیا تھا۔تصویر: ایجنسی

 اسرائیل نے ایک بار پھر جارحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایران کے دارالحکومت  تہران میں واقع نطنز کے مقام پر  اس کے جوہری پلانٹ پر سائبر حملہ کیا ہے۔  ایران کی طرف سے کوئی الزام لگائے جانے سے پہلے خود  اسرائیلی میڈیا نے یہ  دعویٰ کیا کہ یہ حملہ اسرائیل نے کیا ہے۔ واضح رہے کہ اتوار کو  تہران  کے قریب نطنز کے علاقے میں   ایران کے نیوکلیئر پلانٹ میں دھماکہ ہوا تھا جس کی تفصیلات ایرانی حکام نے بیان نہیں کی تھی صرف  ’کسی حادثے‘ کی اطلاع دی تھی۔   ساتھ ہی    ایرانی جوہری توانائی تنظیم کے ترجمان  بہروز کمالوندی نے کہا تھاکہ  حادثے میں پلانٹ میں کام کرنے والا کوئی بھی ملازم زخمی نہیں ہوا ہے ۔ حتیٰ کہ انہوں نے ان خبروں کی بھی تردید کی تھی کہ حادثے کی وجہ سے  پلانٹ میں افزود کی جانے والی یورینیم پھیل گئی ہے یا پھر پلانٹ میں کسی طرح کی تباہی ہوئی ہے۔ البتہ اس کی وجہ سے پورے شہر کی بجلی گل ہو گئی تھی۔ لیکن حملے یا حادثے کی  نوعیت اور اس کے اثرات کے تعلق سے ایرانی حکام نے کوئی معلومات نہیں دی۔ 
  یہ حملہ ایران کیلئے  اس لئےبھی سنگین ہے کہ ایک روز قبل یعنی سنیچر کو  ملک کے صدر حسن روحانی نے اسی پلانٹ کا معائنہ کیا تھا جہاں ان  کے ہاتھوں۱۶۴؍ آئی آر۔ ۶؍سینٹری فیوجز کا باقاعدہ افتتاح  عمل میں آیا تھا اور نئی یورینیم افزودگی آئی آر۔ ۹؍کا عمل شروع کیا گیاتھا۔ اس کے ذریعے  ایران یہاں یورینیم کی افزودگی  میں اضافہ کرنے والا تھا۔ حملے کی خبر آنے کے بعد اسرائیل نے تو سرکاری طور پر کوئی بیان نہیں دیا البتہ اسرائیلی اخبارات نے اسے ایران پر کیا گیا سائبر حملہ قرار دیا۔   بلکہ اسرائیل کے انگریزی اخبار ’دی ہارٹز‘ نے تو اسے  ویانا میں جاری  ایران امریکہ مذاکرات کی پیش رفت میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش تک قرار دیا۔  ایرانی جوہری توانائی کے سربراہ اکبر صالحی نے اسے ایٹمی دہشت گردی قرار دیا۔  ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ ایران نے عالمی جوہری توانائی پر زور دیا ہے کہ عالمی جوہری دہشت گردی سے نپٹنے کی کوشش کی جائے  اور مطالبہ کیا ہے کہ ایران کو اس دہشت گردی میں ملوث لوگوں کے خلاف کارروائی کی اجازت دی جائے۔  ادھر عالمی ادارے نے کہا ہے کہ وہ اس حملے کی اطلاعات سے واقف ہے لیکن اس تعلق سے کسی کارروائی یا اقدام کے بارے میں ادارے نے کچھ نہیں کہا ہے۔ 
  ایران کا انتقام لینے کا اعلان
 پیر کو ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف منظر عام پر آئے اور انہوں نے ایران کی جانب سے  اسرائیل سے نطنز حملے کا بدلہ لینے کا اعلان کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ یقین دہانی بھی کروائی کہ اس حملے کی وجہ سے ویانا میں جوہری معاہدے سے متعلق امریکہ کے ساتھ جاری مذاکرات پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔  جواد ظریف نے کہا ’’  وہ سمجھ رہے ہیں کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائیں گے لیکن صہوینیوں کو مزید نیوکلیئر اہداف کے ذریعے  اس حرکت کا منہ توڑ جواب  دیا جائے گا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’ایران اسرائیل کے جال میں نہیں آئے گا اور عالمی طاقتوں کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کو جاری رکھے گا ۔‘‘ 
  ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ نطنز میں نیوکلیئر پلانٹ کو ا ور بھی  مضبوط اور جدید طور پر تیار کیا جائے گا۔  انہوں نے کہا ’’  وہ سوچ رہے ہیں کہ ( اس حملے سے) مذاکرات میں ہمارے ہاتھ کمزور ہوجائیں گے جبکہ اس بزدلانہ حرکت کی وجہ سے مذاکرات میں ہماری پوزیشن اور مضبوط ہو گئی ہے۔ ‘‘ 
  واضح رہے کہ یکم اپریل سے آسٹریا کے شہر ویانا میں  روس ، چین ، فرانس اور برطانیہ کی موجودگی میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات شروع ہوئے ہیںجس کا مقصد ایران  اور امریکہ کے درمیان  جوہری معاہدے کو بحال کرنا ہے۔  تاکہ ایران اپنی یورینیم افزودگی کو کم کردے اور بدلے میں امریکہ اس پر عائدپابندیوں کو ختم کردے ۔ لیکن اسرائیل اس معاہدے کے سخت خلاف ہے۔ وہ کسی بھی طرح  ایران پر سے پابندیاں ہٹائے  جانے کے حق میں نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب سے مذاکرات شروع ہوئے ہیں  اسرائیل ایران کی کسی نہ کسی تنصیب یا ٹھکانے پر حملہ کر رہا ہے۔ اس سے پہلے وہ بحر احمر میں  ایران کے ایک کارگو جہاز کو نشانہ بنا چکا ہے اس کے بعد اس نے شام میں ایران کے اسلحہ کے گودام پر حملہ کیا تھا اور اب اس کے دارلحکومت میں  اس نیوکلیئر پلانٹ پر سائبر حملہ ہوا ہے۔ یاد رہے کہ ایسا ہی حملہ اسی پلانٹ پر گزشتہ سال بھی ہوا تھا۔  جبکہ ایران کی جوہری توانائی کے اس وقت کے سربراہ محسن فخری کا قتل بھی  اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔سردست جواد ظریف نے یہ واضح نہیں کیا ہے کہ ایران اسرائیل سے اس حملے کا انتقام کس طرح اور کب لے گا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK