Updated: October 19, 2026, 5:30 PM IST
| Tal Aviv
مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کے تشدد کے دو واقعات میں امریکی صحافی اور یورپی سفارت کاروں پر حملوں کے بعد اسرائیلی پولیس نے ۱۰؍ مشتبہ افراد کو گرفتار کیا ہے۔ فلسطینیوں کے خلاف آبادکاروں کے بڑھتے تشدد پر امریکہ اور یورپی ممالک نے اسرائیل سے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
نقاب پوش اسرائیلی آبادکاروں نے صحافیوں کو پتھر سے نشانہ بنایا تھا۔ تصویر: ایکس
اسرائیلی پولیس نے کہا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں گزشتہ ہفتے کے اختتام پر پیش آنے والے پُرتشدد واقعات کی تحقیقات کے سلسلے میں ۱۰؍ مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ان واقعات میں امریکی فوٹو جرنلسٹ اور یورپی سفارت کاروں پر الگ الگ حملے بھی شامل ہیں۔ جمعہ کو نقاب پوش اسرائیلی آبادکاروں کو واشنگٹن پوسٹ کی فوٹو جرنلسٹ ہیدی لیوائن پر حملہ کرتے ہوئے فلمایا گیا۔ امریکی شہری لیوائن مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی زیتون کی فصل کی کٹائی کی کوریج کر رہی تھیں۔ حملے کے بعد انہیں اسپتال لے جایا گیا، جہاں ان کی ایک انگلی کی سرجری کی گئی۔
سنیچرکو مغربی کنارے کے ایک دوسرے علاقے میں نقاب پوش آبادکاروں نے فرانس، بلجیم اور پولینڈ کے سفارت کاروں کے ساتھ فرانس کے ایک میئر پر بھی حملہ کیا۔ اس دوران بلجیم کی ایک سفارتی گاڑی کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔ اسرائیل کے قریبی اتحادی امریکہ نے آبادکاروں کے تشدد کے خلاف سخت کارروائی کرنے اور واشنگٹن پوسٹ کی فوٹو جرنلسٹ پر حملے کے ذمہ داروں کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ حملے کا نشانہ بننے والے سفارت کاروں کے ممالک فرانس، بلجیم اور پولینڈ نے بھی اسرائیل سے کارروائی کا مطالبہ کیا۔ پولیس کے مطابق، مشتبہ افراد کو علی الصباح ایک کارروائی کے دوران گرفتار کیا گیا۔ ان پر تشدد کی کارروائیوں میں ملوث ہونے، فوج کی جانب سے ممنوعہ قرار دیے گئے علاقے میں داخلے کے حکم کی خلاف ورزی اور غیر قانونی تعمیرات کے الزامات ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ’دوبارہ قسمت آزمانا چاہتے ہیں تو شوق سے آزمائیں ‘، عراقچی کا ٹرمپ کو چیلنج
پولیس نے مشتبہ افراد کی شناخت ظاہر نہیں کی، تاہم انہیں پوچھ گچھ کیلئے حراست میں لے لیا گیا ہے۔ اسرائیلی آرمی ریڈیو کے مطابق، تمام گرفتار افراد اسرائیلی شہری ہیں۔ اسرائیلی آبادکاروں کے خلاف مقدمات چلائے جانے کے واقعات شاذونادر ہی سامنے آتے ہیں۔ پولیس کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو میں علی الصباح کی کارروائی کے دوران گرفتار کئے گئے کم از کم ایک شخص کو دیکھا جا سکتا ہے، جس کا چہرہ نظر نہیں آ رہا۔ اس نے یہودی مذہبی لباس کے حصے کے طور پر پہنے جانے والے مخصوص دھاگے، جنہیں ’تزتزیت‘ (Tzitzit) کہا جاتا ہے، پہن رکھے تھے۔ یہ دھاگے عموماً مذہبی طور پر پابند یہودی مرد پہنتے ہیں۔
ویڈیو میں ایک مقام سے دو غلیلیں بھی برآمد ہوتی دکھائی دیتی ہیں، جنہیں پتھر پھینکنے کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ جمعہ کوجب واشنگٹن پوسٹ کی صحافی پر حملہ کیا گیا تو درجنوں نقاب پوش آبادکار، جن میں سے بعض مسلح تھے، فلسطینیوں کی زیتون کی فصل کی کٹائی کے مقام پر پہنچ گئے تھے۔ ان میں سے کچھ نے غلیلوں کے ذریعے پتھر بھی پھینکے تھے۔ اس کارروائی میں پولیس، فوج اور داخلی سلامتی کے ادارے شِن بیت نے حصہ لیا۔ مغربی کنارے کیلئے بائبل میں استعمال ہونے والے نام ’یہودیہ اور سامریہ‘ کا حوالہ دیتے ہوئے اسرائیلی پولیس کمشنر ڈینیئل لیوی نے کہا کہ قانون کا اطلاق ہر شخص پر ہوتا ہے، خواہ اس کی شناخت یا وابستگی کچھ بھی ہو۔
یہ بھی پڑھئے: فرانسیسی اپنے ہی ملک کے ساتھ ایسا کیسے کرسکتے ہیں: میکرون کا احتجاج پر اظہارِ شرمندگی
گرفتاریوں کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے ایک بیان میں کہا، ’’اسرائیلی پولیس شواہد کی بنیاد پر اور قانون کے مطابق پیشہ ورانہ، مساوی اور غیر جانب دار انداز میں قانون نافذ کرنے کیلئے پُرعزم ہے۔ ‘‘اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون ساعر اور فوج نے سفارت کاروں پر حملے کا ذمہ دار ’’اسرائیلی بلوائیوں ‘‘ کو ٹھہرایا ہے۔ تاہم وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو نے اس معاملے پر محتاط مؤقف اختیار کیا ہے۔ ۲۷؍ اکتوبر کو ہونے والے انتخابات میں ان کے مذہبی قوم پرست اتحاد کی حکومتی اکثریت ختم ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ نیتن یاہو نے کہا کہ سفارت کار ایک ایسے ’’حساس علاقے میں داخل ہوئے تھے جہاں ماضی میں جھڑپیں ہوتی رہی ہیں ‘‘ اور انہوں نے فوج کے ساتھ رابطہ قائم نہیں کیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہیدی لیوائن پر حملے کے حقائق ابھی ’’واضح نہیں ‘‘ ہیں۔ لیوائن کا کہنا ہے کہ ان پر نقاب پوش افراد نے حملہ کیا تھا، جنہوں نے تزتزیت کے دھاگے پہن رکھے تھے۔ اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے اس واقعے پر معذرت کرتے ہوئے کہا کہ لیوائن پر ’’بے رحمی سے حملہ کرنے والے پُرتشدد بلوائی‘‘ اسرائیل کی اقدار کی نمائندگی نہیں کرتے۔
اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیم ’یش دین‘ کے مطابق، فلسطینیوں کے خلاف آبادکاروں کے حملوں میں تیزی آئی ہے اور ۲۷؍ ستمبر سے اب تک ایسے کم از کم ۱۷۰؍ واقعات پیش آ چکے ہیں۔ ان حملوں کا نشانہ صحافیوں، اسرائیلی کارکنوں اور غیر ملکی مبصرین کو بھی بنایا گیا ہے۔