ریاستی حکومت کی جانب سے تمام اسکولوں کو ہدایت ، طلبہ کو مخصوص دکان یا اسکول سے سامان خریدنے پر مجبور کیا گیا تو کارروائی ہوگی
EPAPER
Updated: April 17, 2026, 11:38 PM IST | Mumbai
ریاستی حکومت کی جانب سے تمام اسکولوں کو ہدایت ، طلبہ کو مخصوص دکان یا اسکول سے سامان خریدنے پر مجبور کیا گیا تو کارروائی ہوگی
ریاستی محکمہ تعلیم نے سرکیولر جاری کیا ہے کہ کسی بھی اسکول میں طلبہ کویونیفارم، بیاض اور، کتابیں اور دیگر تعلیمی سامان کسی مخصوص دکان یا براہ راست اسکول سے خریدنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ ۱۳؍ اپریل ۲۰۲۶ء کو جاری کردہ یہ حکم نامہ ریاست کی تمام میڈیم کے سیکنڈری اور پرائمری اسکولوں کیلئے ہے۔ حکم نامے میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ اگر کوئی اسکول اس ضمن میں زبردستی کرتا ہے تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی ۔ والدین اور سرپرستوں نے فیصلہ کا خیر مقدم کیا ہے ۔ جبکہ تعلیمی تنظیموں نے فیصلہ پر سختی سے عمل کرنےکی اپیل کی ہے ۔
واضح رہے کہ پرائمری ایجوکیشن ڈائریکٹر شرد گوساوی اور سیکنڈری اینڈ ہائر سیکنڈری ایجوکیشن ڈائریکٹر ڈاکٹرمہیش پالکر نے اس تعلق سے حکم نامہ جاری کیا ہے جس میں طلبہ اور والدین کو راحت دینے والا ایک اہم فیصلہ کیا گیا ہے ۔ اب اسکولوں کی جانب سے یونیفارم، کاپیاں، کتابیں یا دیگر تعلیمی سامان مخصوص دکانوں سے یا اسکول ہی سے خریدنے کیلئے زبردستی نہیں کی جاسکےگی۔ ریاست کی تمام نجی پرائمری اور سیکنڈری اسکولوں کو اس حوالے سے واضح ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ اگر کوئی اسکول اس طرح کی زبردستی کرتا ہے تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
حکم نامے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ والدین اور سرپرستوں کی جانب سے اس بارےمیں شکایت موصول ہونے پر تعلیمی افسران فوری طور پرمعاملہ کی تحقیقات کر کے متعلقہ اسکول کے خلاف کارروائی کریں۔ اس کے علاوہ، کسی بھی اسکول کو طلبہ پر مخصوص نجی پبلشرز کی کتابیں خریدنے کی پابندی بھی عائد نہیں کی جاسکتی ہے ۔
ریاستی بورڈکے اسکولوں کو ایس سی ای آر ٹی اور این سی ای آرٹی (بال بھارتی ) کی نصابی کتابوں کو ہی استعمال کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ جبکہ مہاراشٹر کے باہر کے بورڈز کے اسکول متعلقہ بورڈز کی نصابی کتب استعمال کرسکتےہیں۔ اس سلسلے میں شکایات موصول ہونے پر ایجوکیشن آفیسر اور ایڈمنسٹریٹو آفیسر معاملے کی چھان بین کریں گے، شکایت درست ثابت ہونے پر متعلقہ اسکول کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
فیصلے کا خیر مقدم
حکومت کے فیصلے کا عام طور پر خیرمقدم کیا جا رہا ہے۔ ممبئی کے جوگیشوری علاقے میں واقع اوشیوارہ کی شباب پریہار کے بقول’’ حکومت کا فیصلہ بہتر ہے ۔ اس فیصلے سےطلبہ اور والدین کا ذہنی دبائو کم ہوگا ۔ ایک تواسکول جن دکانوں سے تعلیمی اشیاء خریدنے کی ہدایت دیتے ہیں وہاں دیگر دکانوں سے مہنگا سامان ملتاہے دوسرے ایک ساتھ پورا سامان خریدنے کےدبائو سے غریب اور متوسط درجے کے سرپرستوں پر مالی بوجھ پڑتا ہے ۔تعلیمی سامان کی خریداری کی پابندی ختم ہونے سے طلبہ اور والدین اپنی ضرورت اور سہولت کے مطابق تعلیمی اشیاء خرید سکیں گے جس سے ان پر ذہنی دبائو نہیں پڑے گا۔‘‘
مالیگائوں ،پنجتن چوک پر واقع دلکش اسٹیشنری شاپ کے مالک تنویر سراج احمد نے حکومت کے فیصلےکا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ اسکول اگر تعلیمی اشیاء تھوک بازار سے سستی قیمت پر خرید کر بلا منافع طلبہ کو فراہم کریںتو بازار سے کم قیمت میں انہیں تعلیمی سامان مل سکتاہے جس سے طلبہ اور والدین کا فائدہ ہوتا لیکن یہاں معاملہ اس کے برعکس ہے، اسکولیںجن دکانوں سے سامان خریدنے کی ہدایت دیتےہیں،وہاں بازار کی قیمت سے زیادہ مہنگا سامان ملتاہے، چنانچہ حکومت کا فیصلہ طلبہ اور والدین کے حق میں ہے جس کا استقبال کرناچاہئے۔ ‘‘اکھل بھارتیہ اردو شکشک سنگھ کے جنرل سیکریٹری ساجد نثار نے کہا کہ’’ اس فیصلے سے والدین کو تعلیمی سامان خریدنے کی آزادی ملے گی اور اسکولوں کی زبردستی پر بڑی حد تک روک لگے گی، لیکن فیصلے پر سختی سے عمل درآمد بھی ضروری ہے۔ اگر فیصلے پر صحیح طریقہ سے عمل نہیں ہوا تو یہ صرف دکھاوا بن کر رہ جائے گا ۔‘‘ یاد رہے کہ اسکولوں میں تعلیمی اشیا فروخت کرنے کا رجحان عام ہو چکا ہے۔