Inquilab Logo Happiest Places to Work

دہلی میں پیٹرول سے چلنے والی بائیکس اور اسکوٹر بند ہوں گے!

Updated: April 17, 2026, 10:12 PM IST | New Delhi

دہلی میں کل گاڑیوں میں دو پہیہ گاڑیوں کی تعداد تقریباً ۶۷؍ ہے۔ یعنی دہلی کی سڑکوں پر چلنے والی ہر ۱۰۰؍ گاڑیوں میں سے ۶۷؍ دو پہیہ ہوتی ہیں۔ یہ پالیسی صرف بائیکس تک محدود نہیں ہے بلکہ اس میں بسیں، اسکول بسیں، سرکاری گاڑیاں، ڈلیوری گاڑیاں وغیرہ کو بھی الیکٹرک بنانے کے اہداف شامل ہیں۔

Petrol Scooters.Photo:INN
پیٹرول اسکوٹرس۔ تصویر:آئی این این

دہلی کی ہوا ہر سال سردیوں میں بہت خراب ہو جاتی ہے۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے دہلی حکومت اب ایک بڑا اور اہم فیصلہ لینے جا رہی ہے۔ حکومت کا منصوبہ ہے کہ اگلے دو سال میں دہلی میں نئی پیٹرول سے چلنے والی دو پہیہ گاڑیاں (بائیک اور اسکوٹر) مکمل طور پر بند کر دی جائیں گی۔ اس کے بجائے صرف الیکٹرک دو پہیہ گاڑیاں ہی فروخت کی جا سکیں گی۔ یہ تجویز دہلی حکومت کی ڈرافٹ الیکٹرک وہیکل پالیسی ۲۰۳۰ء۔ ۲۰۲۶ء میں پیش کی گئی ہے۔ اس ڈرافٹ کو ۳۰؍ دنوں کے لیے عوام اور ماہرین کی رائے لینے کے لیے جاری کیا گیا ہے۔
پیٹرول سے چلنے والی دو پہیہ گاڑیوں کو کیوں ہدف بنایا جا رہا ہے؟ 
 اتنی بڑی تعداد کی وجہ سے یہی گاڑیاں سب سے زیادہ آلودگی پھیلانے میں حصہ ڈالتی ہیں۔ اسی لیے حکومت نے سب سے پہلے انہیں الیکٹرک بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ٹرانسپورٹ محکمہ کا کہنا ہے کہ دو پہیہ گاڑیوں کو تیزی سے الیکٹرک بنانا دہلی کی ہوا صاف کرنے کے لیے بہت ضروری ہے۔
 کیا بند ہو رہا ہے اور کب؟
 یکم  اپریل ۲۰۲۸ء سے دہلی میں نئی پیٹرول اور سی این جی بائیک اور اسکوٹر کی رجسٹریشن بند ہو جائے گی۔  صرف الیکٹرک دو پہیہ گاڑیاں ہی نئی رجسٹریشن کے لیے اہل ہوں گی۔ پرانی بائیکس اور اسکوٹر پہلے کی طرح چلتے رہیں گے، یعنی کوئی اچانک پابندی نہیں ہوگی بلکہ تبدیلی مرحلہ وار آئے گی۔ تین پہیہ گاڑیوں (آٹو رکشہ) کے لیے نئی رجسٹریشن یکم جنوری ۲۰۲۷ء سے صرف الیکٹرک ہوگی۔ ڈلیوری اور کیب جیسی کمرشیل سروسیز میں اس سے بھی پہلے تبدیلی شروع ہو جائے گی۔
 فضائی آلودگی کی وجہ سے فیصلہ کیا گیا 
دہلی میں ہر سردی میں اسموگ اور دھند اتنی بڑھ جاتی ہے کہ سانس لینا مشکل ہو جاتا ہے۔ گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں اس میں بڑی وجہ بنتا ہے۔ وزیراعلیٰ ریکھا گپتا نے کہا کہ یہ پالیسی دہلی میں ’’صاف، قابلِ رسائی اور پائیدار ٹرانسپورٹ نظام‘‘ بنانے کی طرف ایک بڑا قدم ہے۔

یہ بھی پڑھئے:کنیڈاکرکٹ میں میچ فکسنگ کے الزامات، آئی سی سی نے بدعنوانی کی تحقیقات شروع کر دی


چارجنگ اور انفراسٹرکچر
دہلی حکومت چارجنگ اسٹیشنز قائم کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ دہلی ٹرانسکو کو اس کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ ڈیلرشپس پر بھی چارجنگ پوائنٹس لگانا لازمی ہوگا۔ بیٹری ری سائیکلنگ کا بھی خیال رکھا جائے گا تاکہ نئی آلودگی پیدا نہ ہو۔

یہ بھی پڑھئے:پرکاش راج پر قانونی شکنجہ،’رامائن‘ پر متنازع بیان دیا، معاملہ درج


 یہ فیصلہ کیوں کیا جا رہا ہے؟
دہلی میں سب سے زیادہ تعداد دو پہیہ گاڑیوں کی ہے اور یہی سب سے زیادہ آلودگی بھی پھیلاتی ہیں۔ انہیں الیکٹرک بنانے سے ہوا سب سے تیزی سے صاف ہو سکتی ہے۔یہ فیصلہ صرف ماحول کے لیے نہیں بلکہ لوگوں کی صحت اور مستقبل میں صاف ہوا کے لیے بھی ضروری ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK