Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکی پابندیوں کی رعایت ختم ہونے پر بھی ہندوستان روسی تیل خریدتا رہے گا: رپورٹ

Updated: April 17, 2026, 10:13 PM IST | New Delhi

ایک رپورٹ کے مطابق امریکی پابندیوں کی رعایت ختم ہونے کے بعد بھی ہندوستان روسی تیل خریدتا رہے گا ، جس کی وجہ توانائی کا تحفظ، خودمختاری اور متنوع ذرائع سے توانائی کے حصول کی حکمت عملی ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

 ایک رپورٹ کے مطابق ۳۰؍ دن کی امریکی پابندیوں میں رعایت۱۱؍ اپریل۲۰۲۶ء کو ختم ہونے کے بعد ہندوستان روسی خام تیل اور مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی خریداری جاری رکھے گا۔ ہندوستان کی توانائی درآمدی حکمت عملی ایک خودمختار فیصلہ ہے اور اس کا انحصار امریکی پابندیوں پر نہیں ہے۔ اگرچہ امریکہ نے پابندیوں کی چھوٹ کی تجدید نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، لیکن ہندوستانی  ریفائنریز غیر پابندی شدہ اداروں اور وسائل سے توانائی حاصل کرنے کی اپنی سابقہ پالیسی پر عمل جاری رکھیں گی۔ایرانی تیل کی خریداری کے لیے۳۰؍ دن کی پابندیوں کی رعایت بھی ختم ہو رہی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ہرمز سے مقامی کرنسی میں ٹرانزٹ فیس کے ذریعے۱۵؍ ارب ڈالر تک آمدنی ممکن: ایران

 امریکی محکمہ خزانہ نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ وہ معاشی غصےکے ساتھ حرکت کرے گا۔ تاہم اس نے روسی تیل کے تعلق سے کوئی وضاحت نہیں کی اور خاموشی سے اسے ختم ہونے دیا۔رپورٹ کے مطابق، ہندوستانی ریفائنریز پہلے ہی آسٹریلیا، روس اور امریکہ سے ۸؍ لاکھ ٹن ایل پی جی کی سپلائی حاصل کرنے کے بعد مستقبل کی کھیپ پر دوبارہ گفت و شنید کر رہی ہیں۔ مارچ۲۰۲۶ء میں روس سے درآمدات اوسطاًایک اعشاریہ ۹۸؍ سے۲؍ اعشاریہ ۰۶؍ ملین بیرل یومیہ تھیں، جو ۲۰۲۳ء کے وسط کے بعد سب سے زیادہ سطح ہے۔۲۰۲۳ء تا ۲۴ء میں ہندوستان  کی کل خام تیل درآمدات میں روسی خام تیل کا حصہ۳۵؍اعشاریہ ۹؍ فیصد اور۲۰۲۴ء تا ۲۵ء میں ۳۵؍ اعشاریہ ۸؍ فیصد تھا۔

یہ بھی پڑھئے: ایران سے تیل خریدنےپر امریکہ چین کے خلاف کارروائی کرے گا

واضح رہے کہ ہندوستان  نے ہمیشہ کہا ہے کہ وہ تجارتی طور پر قابل عمل بنیادوں پر متعدد ذرائع سے توانائی حاصل کرتا ہے۔ ہندوستانی پیٹرولیم سکریٹری نیرج متل نے کہا کہ ہندوستان پہلے۲۷؍ ممالک کے مقابلے میں اب۴۱؍ ممالک سے خام تیل خریدتا ہے۔جبکہ ایل این جی کی درآمدات پہلے چھ ممالک کے مقابلے میں اب۳۰؍ ممالک سے ہوتی ہیں، جبکہ ایل پی جی پہلے۱۰؍ کے مقابلے میں اب۱۶؍ ممالک سے حاصل کی جاتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK