آرٹیمس دوم کے چاروں خلاباز، جنہوں نے چاند کے گرد چکر لگا کر نئی خلائی داستان لکھی، کا کہنا ہے کہ زمین پر واپس زندگی میں ڈھلنے میں دقت پیش آرہی ہے۔
EPAPER
Updated: April 17, 2026, 9:11 PM IST | Washington
آرٹیمس دوم کے چاروں خلاباز، جنہوں نے چاند کے گرد چکر لگا کر نئی خلائی داستان لکھی، کا کہنا ہے کہ زمین پر واپس زندگی میں ڈھلنے میں دقت پیش آرہی ہے۔
آرٹیمس دوم کے چاروں خلاباز، جنہوں نے چاند کے گرد چکر لگا کر نئی خلائی داستان لکھی، کا کہنا ہے کہ زمین پر واپس زندگی میں ڈھلنے میں دقت پیش آرہی ہے۔ ایک خلاباز نے بتایا کہ سمندر میں لینڈنگ کے بعد پہلے چند دنوں میں وہ سمجھتی رہیں کہ وہ تیر رہی ہیں۔بحرالکاہل میں ان کی کیپسول کی لینڈنگ کے تقریباً ایک ہفتے بعد، آرٹیمس دوم مشن کے خلابازوں نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ ابھی اس لمحے کی اہمیت کو پوری طرح سمجھ نہیں پائے ہیں۔مشن کمانڈر ریڈ وائزمین نے جمعرات کو ہیوسٹن میں ناسا کے جانسن اسپیس سینٹر میں پریس کانفرنس میں کہا، ’’یہ ہفتہ طبی جانچ، جسمانی ٹیسٹ، ڈاکٹروں اور سائنسی اہداف میں گزر گیا ہے۔ ہمیں ابھی تک (دباؤ سے) نجات نہیں ملی۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ایران سے تیل خریدنےپر امریکہ چین کے خلاف کارروائی کرے گا
واضح رہے کہ ۵۰؍سالہ وائزمین نے اپنے ساتھی امریکی خلاباز وکٹر گلوور، کرسٹینا کوچ اور کینیڈین عملے کے رکن جیریمی ہینسن کی قیادت کی۔ یہ مشن انسان کو اب تک کی سب سے دور دراز خلا میں لے گیا۔ مشن کے پائلٹ وکٹر گلوور نے کہاکہ زمینی زندگی میں ڈھلنے میں وقت لگ رہا ہے۔ کل ایک ہفتہ مکمل ہو جائے گا، سوشل میڈیا سے دور، خبروں سے دور ، اس لیے مجھے نہیں معلوم نہیں کہ میں صرف ایک ہفتے کے لیے ایک چھوٹے سے سوراخ میں رہنے کی کوشش کر رہا تھا۔‘‘وائزمین نے بتایا کہ جب `انٹیگریٹی کیپسول دوبارہ داخلے کے تیز ترین اور گرم ترین حصے سے گزر رہی تھی، تو انھیں ہیٹ شیلڈ پر چارنگ (جلنے) کے نقصان کے شاید دو لمحےنظر آئے۔ انھوں نے کیپسول کے نچلے حصے کو دیکھا اور کندھے (جہاں ہیٹ شیلڈ کیپسول سے ملتی ہے) پر جلے ہوئے مادے کا تھوڑا سا نقصان دیکھا۔وائزمین نے خبردار کیا کہ ابھی تفصیلی تجزیے کی ضرورت ہے،ہم اس ہیٹ شیلڈ کی چھان بین کریں گے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: گوگل اے آئی سے سرخیاں بدل رہا ہے؟ آر ایس ایف نے صحافتی آزادی پر حملہ قرار دیا
واضح رہے کہ آرٹیمس دوم۱۹۷۲ء کے بعد چاند کے مدار میں جانے والا پہلا انسانی مشن تھا، اور تاریخ میں واحد مشن تھا جس میں ایک خاتون، ایک سیاہ فام خلاباز اور ایک غیر امریکی شامل تھا۔ ان کا سفر ناسا نے براہ راست نشر کیا، جسے لاکھوں لوگوں نے دیکھا۔کرسٹینا کوچ نے کہا کہ ’’حقیقت میں جاگنے کا مطلب ہے یاد رکھنا کہ کشش ثقل واپس آ گئی ہے،پہلے چند دنوں میں میں نے سوچا کہ میں تیر رہی ہوں۔ مجھے واقعی لگا کہ میں تیر رہی ہوں، اور مجھے خود کو قائل کرنا پڑا کہ میں نہیں تیر رہی۔‘‘انھوں نے مزید کہا کہ واپسی کے بعد وہ اور ان کے ساتھی اور بھی زیادہ پرجوش ہیں اور ایک ایجنسی کے طور پر اس چیلنج کو لینے کے لیے تیار ہیں۔‘‘حالانکہ ان کا مشن تقریباً۱۰؍ دن تک جاری رہا، لیکن ناسا کا ارادہ ہے کہ چاند پر طویل قیام کیا جائے، ایک بیس بنایا جائے تاکہ مستقبل میں مریخ کے مشن کی تیاری ہو سکے۔جبکہ امریکہ ۲۰۲۸ء میں چاند پراترنے کا ہدف رکھتا ہے۔