Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’ایس آئی آر کے تئیں بیدار رہنا ہر شہری کی ذمہ داری ہے‘‘

Updated: April 13, 2026, 12:13 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Malad

اسپیشل انٹینسیو رویژن (ایس آئی آر) اور مخالفت کے باوجود ریاستی حکومت کے ذریعے لائے گئے مذہبی بل کے تعلق سے فریڈم آف ریلیجس بل پر اتوار کو ملاڈ کے اورلیم چرچ میں خصوصی نشست کا انعقاد کیا گیا اور حاضرین کو دونوں سے متعلق معلومات فراہم کرائی گئی۔

Special session held by Bombay Catholic Sabha at Orlim Malad. Photo: INN
بامبے کیتھولک سبھا کے ذریعے اورلیم ملاڈ میں منعقدہ خصوصی نشست۔ تصویر: آئی این این

اسپیشل انٹینسیو رویژن (ایس آئی آر) اور مخالفت کے باوجود ریاستی حکومت کے ذریعے لائے گئے مذہبی بل کے تعلق سے فریڈم آف ریلیجس بل پر اتوار کو ملاڈ کے اورلیم چرچ میں خصوصی نشست کا انعقاد کیا گیا اور حاضرین کو دونوں سے متعلق معلومات فراہم کرائی گئی۔ 
’میرا ووٹ، میرا حق‘ اور’ میں اپنا ووٹ کیسے محفوظ رکھوں ؟‘ کے تحت شرکاء کو معلومات فراہم کی گئی۔ اس دوران کہا گیا کہ ایس آئی آر کے تعلق سے بیداری مہم تو شروع ہے مگر ہم مہاراشٹر کے چیف الیکٹورل آفیسر (سی ای او) ایس چوکلنگم کی جانب سے اس بابت سرکاری تفصیلات اور وقت کے تعین کا انتظار کر رہے ہیں کہ ممبئی اور مہاراشٹر میں رہنما خطوط کے ساتھ ایس آئی آر کا عمل کب سے باضابطہ شروع کیا جارہا ہے اور کن کن تاریخوں میں کیا عمل ہوگا؟اورلیم چرچ میں بیداری سیشن کا انعقاد شہریوں کو آگاہ کرانے کے لئے کیا گیا تھا تاکہ وہ اس عمل سے واقف ہوں، مختلف قسم کے فارموں کو ذہن میں رکھا جائے، شہری مختلف دستاویزات تیار رکھیں اور بوتھ آفیسر (بی ایل او) کے بارے میں معلومات حاصل کریں۔ یہ تفصیل بامبے کیتھولک سبھا کے صدر ناربرٹ مینڈونسا اور ڈولفی ڈیسوزا ( ترجمان دی بامبے کیتھولک سبھا ) نے پیش کی۔ اس کے علاوہ یہ اعلان کیا گیا کہ ایس آئی آر کا باضابطہ شیڈیول جاری ہونے کے بعد بامبے کیتھولک سبھا شہریوں کی رہنمائی کے لئے متعدد مقامات پر ہیلپ ڈیسک قائم کرے گی۔

یہ بھی پڑھئے: ممبرا کوسہ میں۲۰؍ اپریل تک بی ایل او کیمپ جاری رہے گا

دریں اثناء فریڈم آف ریلیجس بل سے متعلق کہا گیا کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اس کا غلط استعمال کیا جائے گا اور اس کی آڑ میں اقلیتوں پر الزام تراشی بھی کی جاسکتی ہے کہ انہوں نے جبراً تبدیلی مذہب کرایا، جیسا کہ پہلے الزام عائد کیا جاچکا ہے۔ اس لئے ہم اپنی مذہبی آزادی اور آئین میں جس طرح اسے تحفظ فراہم کیا گیا ہے، اس کو بھی ذہن میں رکھیں تاکہ ہم زیادتی کا شکار نہ ہوں اور وقت آنے پر یہ بھی بتا سکیں کہ ہر ہندوستانی کو اس کے تشخصات کے ساتھ بے خوف پرامن زندگی گزارنے کی مکمل آزادی حاصل ہے اور آئین اس کی ضمانت دیتا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK