امیت شاہ نے ممتا حکومت میں’غنڈہ راج‘ کا الزام لگایا اور بی جے پی سرکار بننے پر سخت کارروائی کا وعدہ کیا تو ابھیشیک بنرجی نے کہا کہ زعفرانی پارٹی صرف ’محرومی اور حراست‘ کی سیاست کررہی ہے۔
ممتا بنرجی اورابھیشیک بنرجی۔ تصویر:آئی این این
مغربی بنگال میں جوں جوں اسمبلی انتخابات کی تاریخیں قریب آتی جارہی ہیں، انتخابی جنگ میںتیزی آتی جارہی ہے۔ انتخابی میدان میں اُتری سیاسی جماعتیں بالخصوص بی جے پی اور ترنمول کانگریس کے درمیان زبردست لفظی جنگ دیکھنے کو مل رہی ہے۔ بی جے پی جہاں ایک جانب پولرائزیشن کی سیاست کے ذریعہ اپنا بیڑہ پار کرنے کیلئے کوشاں ہے، وہیں ترنمول کانگریس اپنی حکومت کے دوران کئے گئے فلاحی کاموں کو اپنی جیت کی بنیاد بنانا چاہتی ہے۔ دونوں جماعتوں کے درمیان لفظی تکرار بھی انہیں حوالوں سے ہے۔ ایک دن قبل مرکزی وزیرداخلہ امیت شاہ نے بی جے پی کے امیدواروں کی انتخابی مہم کے دوران ریاست میں ’غنڈہ راج‘ کا الزام لگایا تو ٹی ایم سی کے نوجوان لیڈر ابھیشیک بنرجی نے منہ توڑ جواب دیتے ہوئے بی جے پی پر ’محرومی اور حراست‘ کی سیاست کرنے کا الزام عائد کیا اور عوام کو خبر دار کیا۔
امیت شاہ نے ترنمول کانگریس پر مغربی بنگال میں’غنڈہ راج‘ اور بدعنوانی کو فروغ دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ۴؍ مئی کے بعد ریاست میں بی جے پی کی حکومت بننے پر قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔بیر بھوم کے بولپور میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ۲۰۲۱ء کے انتخابات کے بعد اس علاقے میں بی جے پی کارکنوں پر شدید ظلم و ستم ڈھایا گیا تھا۔ انہوں نے ووٹروں سے ممتا بنرجی کی حکومت کو رخصت کرنے کی اپیل کرتے ہوئے وعدہ کیا کہ گروہوں اور’کمیشن‘ کی روایت میں ملوث افراد کے خلاف سختی سے نمٹا جائے گا۔ سطحی زبان استعمال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’ہم انہیں الٹا لٹکا کر سیدھا کر دیں گے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ’ڈبل انجن سرکار‘ ریاست میں ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز کرے گی۔امیت شاہ نے مخالف رائے دہندگان کو ایک طرح سے دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ وہ ۲۳؍اپریل یعنی پہلے مرحلے کی ووٹنگ کے دن اپنے گھروں میں رہیں، ورنہ ۵؍ مئی کے بعد انہیں گرفتاری کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اس کا جواب دیتے ہوئے ترنمول کانگریس کے نوجوان لیڈر ابھیشیک بنرجی نے امیت شاہ کو آڑے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی’حراست اور محرومی‘ کی سیاست کر رہی ہے جبکہ ٹی ایم سی کو انہوں نے ’تحفظ اور فلاح‘ کی ضمانت دینے والی جماعت کے طور پر پیش کیا۔ ندیا ضلع میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نےایس آئی آر کے عمل پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس عمل کا استعمال رائے دہندگان کو خوفزدہ کرنے اور ان کے جمہوری حقوق کو من مانے طریقے سے محدود کرنے کیلئے کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی اس سیاست کی زد میں بی جے پی کے حامی بھی آرہے ہیں اور انہیںبھی ان کے حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے رائے دہندگان کو یقین دلاتے ہوئے کہا کہ وہ خوفزدہ نہ ہوں، ٹی ایم سی اگر ایک بار پھر اقتدار میں آتی ہے تو تمام جائز ووٹرس کے حقوق بحال کئے جائیں گے۔