Updated: April 23, 2026, 12:07 AM IST
| Mumbai
شیوسینا یوبی ٹی کے ترجمان اور رکن پارلیمان سنجے راؤت کا طنزیہ بیان،راؤت نے بی جے پی کے’جن آکروش مورچہ‘ پر تنقید کی اورکہا کہ خواتین کے احتجاج میں مرد ہی زیادہ نظر آرہے ہیں، کہا کہ ’’خواتین ریزرویشن بل تو لوک سبھا سے منظور ہوچکا ،اسے نافذ کردیجئے‘‘
ادھو سینا کے رکن پارلیمان اور ترجمان سنجے راؤت نے بی جے پی کے خلاف کئی سوال قائم کئے
بی جے پی مہاراشٹر کی جانب سے ممبئی سمیت ریاست کے مختلف علاقوں میں ’’جن آکروش مورچہ‘‘ نکالا گیا۔ اس پر شیوسینا (یوبی ٹی) کے ترجمان اور رکن پارلیمان سنجے راؤت نے شدید تنقید کی ۔ راؤت نے کہا کہ ’’اصل میں انہیں خود معلوم نہیں ہے کہ اس مورچے کا مقصد کیا ہے؟ ریزرویشن نافذ کرنا آپ کے ہاتھ میں ہے۔۲۰۲۳ء میں خواتین ریزرویشن قانون لوک سبھا میں منظور ہو چکا ہے۔ اب۱۶؍ اپریل کو آپ نے آرڈیننس بھی جاری کیا ہے، تو یہ ریزرویشن لاگو ہو چکا ہے۔ آپ فوراً اس پر عمل درآمد شروع کریں، کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں۔‘‘ سنجے راؤت نے وزیراعظم نریندر مودی اور وزیرداخلہ امیت شاہ سے اشاروں ہی اشاروں میں طنزاً سوال قائم کیا کہ’’ کیا آپ کوخواتین ریزرویشن کیلئے ڈونالڈ ٹرمپ سے اجازت لینی ہے یا ولادیمیر پوتن سے؟ آپ ملک کے وزیر اعظم اور وزیر داخلہ ہیں،اوردیویندر فرنویس ریاست کے وزیراعلیٰ ہیں۔ یہ اختیار آپ سب کے پاس ہے۔ہم یہ واضح کردینا چاہتے ہیں کہ کسی بھی سیاسی پارٹی نے۳۳؍ فیصد خواتین ریزرویشن کی مخالفت نہیں کی ہے ، مخالفت صرف بی جے پی کی ہے جو اسے نافذ نہیں کررہی ہے۔‘‘
راؤت نے مزید کہا کہ ’’یہ کیسی شرط ہے کہ جب تک لوک سبھا کی نشستیں۸۵۰؍ نہیں ہوں گی، تب تک ریزرویشن نافذ نہیں کریں گے؟ لوک سبھا کی نشستیں۸۵۰؍ کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ یہ شرط کہاں سے آئی، کس آئین میں ہے؟ ۲۰۲۳ء میں جب قانون منظور ہوا تھا، تب۸۵۰؍ نشستوں کا کوئی ذکر نہیں تھا۔‘‘
انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا ’’کیا ۸۵۰؍ نشستوں کا ہندسہ کھرات بابا نے دیا ہے؟ وہ تو بڑے حساب کے ماہر ہیں۔ شاید کھرات نے یہ ہندسہ دیا ہے، اسی لیے یہ لوگ اسی پر اڑے ہوئے ہیں۔ ورنہ۵۴۳؍ نشستوں میں بھی یہ کام ہو سکتا ہے، جو زیادہ آسان اور مناسب ہے، اور لوک سبھا میں توازن بھی برقرار رہے گا۔‘‘
بی جے پی کی جانب سے ہونیوالے خواتین کے مارچ پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا’’ان کے مارچ میں مرد زیادہ تھے۔ خواتین کو سب سمجھ آ چکا ہے کہ ناری شکتی ان کے ساتھ نہیں ہے۔ جس دن۱۵۰۰؍روپے دینا بند ہوں گے، اس دن پتہ چل جائے گا کہ ناری شکتی کس کے ساتھ ہے۔‘‘انہوں نے مزید کہاکہ ’’خواتین ریزرویشن کے لیے بی جے پی کا مارچ نکالنا ایسا ہے جیسے کوئی حکمران پارٹی ، اپوزیشن کے خلاف مارچ نکالے، شاید یہ دنیا کا پہلا ایسا مارچ ہوگا۔ اس کے لیے مارچ نکالنے والوں کا جامبوری میدان میں استقبال کیا جانا چاہیے۔‘‘