Inquilab Logo Happiest Places to Work

اٹلی: عدالتی نظام میں اصلاحات کے ریفرنڈم میں میلونی کو شکست

Updated: March 24, 2026, 10:00 PM IST | Rome

اٹلی میں عدالتی نظام میں اصلاحات کے عوامی استصواب رائے (ریفرنڈم ) میں میلونی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا، جسے انہوں نے تسلیم کرلیا، یہ ریفرنڈم ججوں اور استغاثہ (پراسیکیوٹرز) کے کیریئر کو الگ کرنے کی تجویز سے متعلق تھا۔

Italian Prime Minister Giorgia Meloni. Photo: INN
اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی۔ تصویر: آئی این این

اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے عدالتی نظام میں اصلاحات کے حوالے سے کرائے گئے ریفرنڈم میں شکست تسلیم کر لی ہے۔۲۳؍ مارچ۲۰۲۶ء کو ہونے والے ووٹنگ میں۵۳؍ اعشاریہ ۷؍ فیصد اطالوی شہریوں نے ان اصلاحات کے خلاف ووٹ دیا۔واضح رہے کہ یہ ریفرنڈم ججوں اور استغاثہ (پراسیکیوٹرز) کے کیریئر کو الگ کرنے کی تجویز سے متعلق تھا۔ اس میں حکومت کی شکست کو میلونی کی سیاسی طاقت اور اختیار کے لیے ایک اہم دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔سرکاری نتائج کے مطابق ۵۳؍ اعشاریہ ۷۴؍فیصد رائے دہندگان نے اصلاحات کی مخالفت کی جبکہ۴۶؍ اعشاریہ ۲۶؍ فیصد اس کے حق میں تھے۔

یہ بھی پڑھئے: یورپی یونین کی سربراہ کا ایران جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات پر زور

بعد ازاں شکست کے بعد میلونی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ’’ اطالوی عوام نے فیصلہ کر دیا ہے اور وہ اس فیصلے کا احترام کرتی ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت ذمہ داری اور عزم کے ساتھ اپنا کام جاری رکھے گی۔مسترد کی گئی تجاویز کا مقصد ججوں اور استغاثہ کے پیشہ ورانہ راستے الگ کرنا اور ان کی نگرانی کرنے والے اداروں میں تبدیلیاں لانا تھا۔ میلونی کی حکومت کا کہنا تھا کہ ان تبدیلیوں سے عدلیہ مزید جوابدہ بنے گی، لیکن ناقدین اور اپوزیشن لیڈروں کا کہنا تھا کہ اس سے عدلیہ کی آزادی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔تاہم یہ نتیجہ میلونی کی قیادت کے لیے ایک اہم امتحان ثابت ہوا اور آنے والے عام انتخابات سے قبل ان کی سیاسی سودے بازی کی طاقت کو کمزور کرنے کی توقع ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK