انڈین ریلویز نے ٹکٹ کی منسوخی (کینسلیشن) پر وصول کئے جانے والے جرمانہ کے ضوابط میں ترمیم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ نئے قواعد، یکم اپریل سے ۱۵ اپریل ۲۰۲۶ء کے درمیان مراحل وار نافذ کئے جائیں گے۔
EPAPER
Updated: March 24, 2026, 10:01 PM IST | New Delhi
انڈین ریلویز نے ٹکٹ کی منسوخی (کینسلیشن) پر وصول کئے جانے والے جرمانہ کے ضوابط میں ترمیم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ نئے قواعد، یکم اپریل سے ۱۵ اپریل ۲۰۲۶ء کے درمیان مراحل وار نافذ کئے جائیں گے۔
انڈین ریلویز نے ٹکٹ کی منسوخی (کینسلیشن) پر وصول کئے جانے والے جرمانہ کے ضوابط میں ترمیم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ نئی ضوابط میں ٹرین کی روانگی کے وقت کے قریب ٹکٹ منسوخ کرانے والے مسافروں کیلئے سخت جرمانے متعارف کرائے گئے ہیں۔ نئے ضوابط، یکم اپریل سے ۱۵ اپریل ۲۰۲۶ء کے درمیان مراحل وار نافذ کئے جائیں گے۔
نئے ضوابط کے تحت، روانگی سے ۷۲ گھنٹے اور ۲۴ گھنٹے کے درمیان ٹکٹ منسوخ کرانے والے مسافروں کو اب ٹکٹ کے کرایے کی ۲۵ فیصد رقم بطور جرمانہ ادا کرنی ہوگی، جو کم از کم چارجز کے تابع ہوگی۔ اسی طرح، سفر سے ۲۴ گھنٹے اور ۸ گھنٹے کے درمیان کی جانے والی منسوخیوں پر جرمانہ کی شرح کو نمایاں طور پر بڑھا دیا گیا ہے۔ نئے ضوابط کے تحت، اب اس دوران ٹکٹ کینسل کرنے والے مسافروں کے کرایہ کا ۵۰ فیصد حصہ کاٹ لیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھئے: الیکشن کمیشن آف انڈیا کی مغربی بنگال میں انتخابی تیاریوں میں تیزی
سب سے سخت تبدیلی آخری لمحات (لاسٹ منٹ) میں کی جانے والی منسوخیوں پر لاگو ہوتی ہے۔ یکم اپریل کے بعد، اگر ٹکٹ روانگی سے ۸ گھنٹے سے بھی کم وقت پہلے منسوخ کیا جاتا ہے، تو کوئی ریفنڈ جاری نہیں کیا جائے گا اور کرایے کی پوری رقم بطور جرمانہ وصول کرلی جائے گی۔ یہ ریفنڈ کے سابقہ لچکدار قوانین کے مقابلے بڑی تبدیلی ہے۔ روانگی سے ۷۲ گھنے سے زیادہ وقت پہلے ٹکٹ منسوخ کرنے والے مسافروں کو فی مسافر مقررہ منسوخی فیس کی کٹوتی کے بعد زیادہ سے زیادہ ریفنڈ ملتا رہے گا۔
آخری لمحات میں ٹکٹ منسوخی کی حوصلہ شکنی
ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ ترمیمی قواعد کا مقصد، آخری لمحات کی منسوخیوں کی حوصلہ شکنی کرنا اور حقیقی مسافروں کیلئے سیٹوں کی دستیابی کو بہتر بنانا ہے۔ روانگی کے قریب جرمانے بڑھانے سے حکام کو محفوظ برتھ (reserved berths) کے بہتر استعمال اور ٹرینوں میں خالی نشستوں میں کمی کی توقع ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مغربی ایشیا کے بحران سے ہم کو متحد ہو کر نمٹنا ہے: مودی
یہ تبدیلیاں بکنگ کو ہموار کرنے اور غلط استعمال کو روکنے ک گزشتہ بارہ ماہ کے دوران متعارف کرائی گئی وسیع تر اصلاحات کے ساتھ سامنے آئی ہیں۔ گزشتہ ایک سال کے دوران درج ذیل تبدیلیاں آئی ہیں۔
جنرل کوٹہ ٹکٹ کیلئے آدھار تصدیق: یکم اکتوبر ۲۰۲۵ء سے، آئی آر سی ٹی سی (IRCTC) پلیٹ فارم کے ذریعے جنرل کوٹہ کے تحت ٹکٹ بک کرانے والے مسافروں کیلئے بکنگ ونڈو کے پہلے ۱۵ منٹ کے اندر آدھار کی تصدیق مکمل کرنا لازمی ہے۔
تتکال ٹکٹ کیلئے آدھار تصدیق: یکم جولائی ۲۰۲۵ء سے تتکال ٹکٹوں کیلئے آدھار کی تصدیق لازمی قرار دے دی گئی ہے۔ یہ ٹکٹ اب صرف آفیشل آئی آر سی ٹی سی ویب سائٹ یا موبائل ایپ کے ذریعے ہی بک کئے جا سکتے ہیں۔
بکنگ ایجنٹس پر پابندیاں: ریلوے بکنگ ایجنٹس پر نئی پابندیاں لگائی گئی ہیں۔ انہیں بکنگ ونڈو کے ابتدائی ۳۰ منٹ کے دوران تتکال ٹکٹ بک کرنے سے روک دیا گیا ہے یعنی اے سی کلاسز کیلئے صبح ۱۰ بجے سے ۱۰:۳۰ بجے تک اور نان اے سی کلاسز کیلئے صبح ۱۱ بجے سے ۱۱:۳۰ بجے کے دوران ایجنٹس ٹکٹ بک نہیں کر پائیں گے۔ حکام کے مطابق، ان اقدامات کا مقصد منصفانہ رسائی کو یقینی بنانا، خودکار بکنگ کو کم کرنا اور حقیقی مسافروں کو ترجیح دینا ہے۔