ای ڈی کے ذریعے جیل میں ایم کے فیضی کو ایس ڈی پی آئی پارٹی کی میٹنگ میں بطور قومی صدر دوبارہ منتخب کیا گیا ہے۔ ایم کے فیضی کو ای ڈی نے منی لانڈرنگ کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔
EPAPER
Updated: January 22, 2026, 8:03 PM IST | New Delhi
ای ڈی کے ذریعے جیل میں ایم کے فیضی کو ایس ڈی پی آئی پارٹی کی میٹنگ میں بطور قومی صدر دوبارہ منتخب کیا گیا ہے۔ ایم کے فیضی کو ای ڈی نے منی لانڈرنگ کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔
مارچ ۲۰۲۵ء میں دہلی میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے ذریعے گرفتار ہونے کے بعد اس وقت جیل میں بند ایم کے فیضی کو منگلور میں بدھ کو ہوئی چھٹی قومی نمائندگی کونسل میٹنگ میں سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا کے صدر کے طور پر منتخب کیا گیا۔ یاد رہے کہ ای ڈی نے ایم کے فیضی کو مسلم آرگنائیزیشن پاپولر فرنٹ سے رابطہ ہونے کی بنیاد پر منی لانڈرنگ کے الزام میں گرفتار کیا تھا، تاہم ایس ڈی پی آئی کا کہنا ہے کہ یہ گرفتاری سیاسی اختلافات کی بنیاد پر ہوئی ہے۔
MK Faizy to continue as National President.
— SDPI (@sdpofindia) January 21, 2026
National Representative Council decides#nationalrepresentativecouncil2026#SDPI#Mangalore pic.twitter.com/eh6szbsRZm
پارٹی کے قائم مقام قومی صدر محمد شفیع نے کہا ہے کہ قومی نمائندہ کونسل نے فیصلہ کیا کہ فیضی کی گرفتاری ’’غیر جمہوری‘‘ ہے اور یہ گرفتاری اقلیتوں، پسماندہ طبقات کے لیڈروں، کسانوں، پچھڑے اور قبائلی لوگوں کی آوازوں کو دبانے کیلئے ہے۔ واضح ہو کہ کونسل نے ایک قرار داد منظور کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مرکزی حکومت اپنی تمام تر تفتیشی ایجنسیوں جیسے این آئی اے، سی بی آئی اور ای ڈی کو استعمال کر رہی ہے۔ حکومت یو اے پی اے کا بھی غلط استعمال کر رہی ہے۔ تقریب کے دوران ایس ڈی پی آئی نے اپنے یوتھ ونگ ’’ینگ ڈیموکریٹس‘‘ کا اعلان کیا۔
یہ بھی پڑھئے: جموں کشمیر: ویشنو دیوی کالج طلبہ کی نئی کاؤنسلنگ نہیں کرسکتا: داخلہ امتحان بورڈ
واضح رہے کہ گزشتہ برسوں میں اپوزیشن جماعتوں اور سماجی تنظیموں کی جانب سے یہ الزام لگتا رہا ہے کہ مرکزی حکومت ای ڈی، سی بی آئی، این آئی اے اور یو اے پی اے جیسے قوانین و اداروں کو سیاسی مخالفین اور اختلافی آوازوں کے خلاف استعمال کر رہی ہے، جس پر حکومت کی نیت اور جمہوری اقدار سے وابستگی پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔