• Tue, 13 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

جنتر منترکی ’’مظاہرہ گاہ ‘‘ کی حیثیت ختم، احتجاج کیلئے اب قلب ِدہلی سے دور۳؍ میدان مختص

Updated: October 13, 2026, 9:52 AM IST | Agency | New Delhi

سی جے پی نے احتجاج کیلئے پولیس کو ۲۴؍ گھنٹوں میں نئی تاریخ خود ہی طے کرنے کا الٹی میٹم دیا اور پولیس نے اعلان کیا کہ ’’اب جنتر منتر احتجاج کیلئے مختص نہیں رہ گیا‘‘

Surdas | BJP. Photo: INN
سوروداس| سی جےپی۔ تصویر: آئی این این۔

 ’توڈال ڈال تو میں پات پات‘ کے مصداق پیر کو سی جےپی نے  دہلی پولیس کو مکتوب دیکر کہا کہ ’’اب آپ ہی  ۲۴؍ گھنٹوں میں طے کر دیں کہ ہم جنتر منتر پر پرامن احتجاج آخر کب کرسکتے ہیں‘‘ اور کچھ ہی دیر  میں  دہلی پولیس نے یہ حیرت انگیز  اعلان کردیا کہ’’جنتر منتر اب احتجاج کیلئے مختص میدان نہیں ہے۔‘‘  وزارت داخلہ کی ہدایت پر اسے بطور ’’مظاہرہ گاہ ‘‘ ڈی  نوٹیفائی کرنے کے بعد پولیس نے رام لیلا میدان، سی بی ڈی میدان اور براری میدان کو احتجاج کیلئے مختص کیا ہے۔ ان  تینوں میں  پارلیمنٹ کے سب سے قریب رام لیلا میدان ہے، جو تقریباً ۳؍کلومیٹر دور ہے۔ سی بی ڈی میدان پارلیمنٹ سے تقریباً۲۶؍کلومیٹر اور شمال مغربی دہلی میں واقع  براری میدان تقریباً ۱۶؍ کلو میٹر دور ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: راہل گاندھی کی قیادت میں ’انڈیا‘ کا تاریخی مارچ، اجتماعی پٹیشن

کاکروچ جنتا پارٹی نے اس فیصلے   کو ناقابل قبول قرار دیا اور کہا ہےکہ ’’اب پورا ملک جنتر منتر بن جائےگا۔‘‘ یہ حکم ایسے وقت میں جاری کیا گیا ہے جب کانگریس کی قیادت والے  ’انڈیا‘ اتحاد، ابھیجیت دِپکے کی قائم کردہ کاکروچ جنتا پارٹی اور نیہا بورا کی قیادت والی آئیسا جنتر منتر پر احتجاج  کی اجازت حاصل کرنے کیلئے  جدوجہد کر رہی ہیں۔ ان تنظیموں کا مطالبہ ہے کہ  ایس آئی آر  سے متعلق  بے ضابطگیوں کے معاملہ میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار استعفیٰ دیں۔ جنتر منتر پارلیمنٹ سے کچھ میٹر کی دوری پر ہے  جبکہ احتجاج کیلئے  مختص نئے میدان  دہلی کے دور دراز علاقوں میں ہیں۔سی جے پی  نے اس فیصلے کو احتجاج اور پُرامن اجتماع کے بنیادی حق پر حملہ قرار دیا ہے۔  یہ تینوں مقامات دہلی کے مختلف علاقوں میں ہیں۔ ان پر احتجاج سے مظاہرین پارلیمنٹ کے آس پاس کے مرکزی انتظامی علاقے سے دور ہو جائیں گے ۔ اس اقدام کو احتجاجی مظاہروں کے اثرات کم کرنے کی کوشش کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔کاکروچ جنتا پارٹی کے معاون کنوینر سورَو داس نےسوال کیا ہےکہ ’’نریندر مودی جنتر منتر سے کیوں خوف زدہ ہیں؟  یہ جگہ عوام کی ہے۔ کیا وزارت داخلہ نے فیصلہ کرتے وقت ملک کے عوام سے مشورہ کیا ؟

~ یہ ناقابل قبول ہے، مودی جنتر منتر سے اتنے خوفزدہ کیوں ہیں؟یہ عوام کا ہے، کیا  فیصلہ کرنے سے پہلے عوام  سے پوچھا گیا؟ آج جنتر منترکو ڈی نوٹیفائی کیا گیا ہے، کل وزیراعظم ملک کی جمہوریت کو بھی ڈی نوٹیفائی کردیں گے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK