سپریم کورٹ کا نیا موقف، واضح کیا کہ بہار ایس آئی آر کے وقت ترمیم شدہ فارم ۶؍موجود نہیں تھا۔
EPAPER
Updated: October 13, 2026, 9:55 AM IST | Inquilab News Network | New Delhi
سپریم کورٹ کا نیا موقف، واضح کیا کہ بہار ایس آئی آر کے وقت ترمیم شدہ فارم ۶؍موجود نہیں تھا۔
چیف جسٹس آف انڈیاسوریہ کانت کے اس موقف کے بعد کہ ’’ہم نے(ایس آئی آر کے دوران ) فارم -۶؍ میں کسی تبدیلی کو منظوری نہیں دی‘‘ پیر کوسپریم کورٹ نے یہ نیا موقف اختیار کیا کہ اس نے نئے ووٹرس کے رجسٹریشن کیلئے فارم ۶؍ میں کی گئی ترمیم کو منظور کیا ہے ،نہ مسترد، بلکہ عدالت کو ابھی اس کی قانونی حیثیت یا درستگی پر فیصلہ کرنا باقی ہے۔
چیف جسٹس آف انڈیا، جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیا باغچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ نے یہ زبانی تبصرہ الیکشن کمیشن آف انڈیا سے متعلق پریا مشرا کی دائر کردہ ایک رٹ پٹیشن کی سماعت کے دوران کیا۔درخواست گزار کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل نریندر مشرا نے کہا کہ چیف جسٹس نے گزشتہ ہفتے الیکشن کمیشن آف انڈیا کے اس دعوے کی تردید کی تھی کہ سپریم کورٹ نے نئے فارم۶؍کومنظوری دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ۵؍ اکتوبر کو اس عدالت کی جانب سے یہ واضح کیا جا چکا ہے کہ فارم۶؍ کو عدالت نے منظور نہیں کیا۔ لیکن الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ اسے سپریم کورٹ نے منظور کیا ہے۔اس پر جسٹس باغچی نے کہا کہ ’’نئے فارم۶؍ پر کوئی فیصلہ نہیں دیا گیا ۔ ہم نے بس اتنا ہی کہا ہے کہ اسے منظور کیا ہے نہ مسترد۔‘‘