Inquilab Logo Happiest Places to Work

جاپانی وزیرِ اعظم تاکائچی صرف تین گھنٹے کی نیند لے پا رہی ہیں؛ اوور ورک کلچر پر ملک گیر بحث چھڑ گئی

Updated: July 25, 2026, 10:11 PM IST | Tokyo

تاکائچی کے تبصرے، جاپان میں کی جانے والی اصلاحات کے بالکل برعکس ہیں۔ جاپان اب برن آؤٹ (تھکاوٹ) کو کم کرنے اور شرحِ پیدائش کو بڑھانے کی ترغیب دینے کے مقصد سے سرکاری ملازمین کیلئے ہفتے میں چار دن کام کی سہولت پیش کر رہا ہے۔ ملک بھر میں کمپنیاں لازمی اوور ٹائم کی روایت سے دور ہٹنے کیلئے کم اوقاتِ کار اور ریموٹ ورکنگ کا تجربہ کر رہی ہیں۔

Sanae Takaichi. Photo: X
سانائے تاکائچی۔ تصویر: ایکس

جاپان میں ’میرین ڈے‘ (جولائی کے تیسرے پیر کو دی جانے والی قومی تعطیل) کے موقع پر وزیراعظم سانائے تاکائچی کی ایک پوسٹ نے ملک گیر بحث چھیڑ دی ہے۔ ایکس پر اپنے پوسٹ میں انہوں نے لکھا تھا کہ ”وہ بالآخر ”پانچ گھنٹے“ سونے میں کامیاب ہوگئی ہیں۔“ یہ جاپانی لیڈر کیلئے ایک نایاب نعمت ہے کیونکہ ان کے بقول وہ گزشتہ سال اکتوبر میں عہدہ سنبھالنے کے بعد سے وہ عام طور پر رات کو صفر سے تین گھنٹے ہی سو پاتی ہیں۔ انہوں نے اس آرام کو غیر معمولی طور پر طویل قرار دیتے ہوئے لکھا کہ ”یہ ایک نعمت کی طرح محسوس ہوا۔“ انہوں نے تعطیل کا باقی وقت کام پر واپسی کی تیاریوں سے پہلے کپڑے استری کرنے اور پیوند کاری کے مشغلے میں گزارا۔

شاید تاکائچی کا مقصد اس پوسٹ کے ذریعے کام کے تئیں اپنی لگن کا مظاہرہ کرنا تھا لیکن اس کے برخلاف ان کے پوسٹ نے ’’ورک لائف بیلنس‘‘ پر آن لائن بحث چھیڑ دی۔ چند ہی گھنٹوں میں ان کا تبصرہ وائرل ہوگیا اور کروڑوں لوگوں نے ان کی پوسٹ کو دیکھا۔ اپوزیشن کے قانون سازوں، نیند کے ماہرین اور عام شہریوں نے اس پر سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا ایک قومی لیڈر کو مسلسل نیند کی کمی کو فخر کی علامت سمجھنا چاہئے؟

یہ بھی پڑھئے: سعودی اور امریکہ کے جوہری معاہدے پرامریکی اراکین کانگریس کو خدشات

بحث میں حصہ لیتے ہوئے اپوزیشن کے قانون ساز نے خبردار کیا کہ نیند کی مسلسل کمی، فیصلہ سازی کی صلاحیت کو اس طرح متاثر کرتی ہے جیسے نشہ۔ انہوں نے دلیل دی کہ کسی بھی قومی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے وزیرِ اعظم کو فیصلہ کن عزم کے ساتھ ساتھ آرام کی بھی اتنی ہی ضرورت ہوتی ہے۔ ایکس پر ایک صارف نے لکھا کہ جب آپ کسی ملک کی قیادت کر رہے ہوں تو ”آرام کرنا بھی ایک کام ہے۔“

وزیراعظم کی پوسٹ سے شروع ہوئی بحث جلد ہی ایک قومی لیڈر کے شیڈول سے آگے بڑھ گئی۔ جاپان دہائیوں سے ایک ایسے زبردست اوور ورک کلچر (زیادہ کام کرنے کی روایت) سے جوجھ رہا ہے جو اس قدر شدید ہے کہ اس نے `کاروشی` (karoshi) لفظ کو جنم دیا جس کا مطلب ہے ’زیادہ کام کرنے سے موت واقع ہو جانا۔‘ ایسی کئی رپورٹس سامنے آئی ہیں کہ ملازمین نے حد سے زیادہ اوقاتِ کار اور مسلسل تناؤ کے باعث دل کے دورے، فالج اور خودکشیوں سے اپنی جانیں گنوا دی۔

یہ بھی پڑھئے: وینزویلا زلزلہ: ریڈ کراس نے صاف پانی، ذہنی صحت کو سب سے بڑا چیلنج قرار دیا

جولائی کے اوائل میں جاری کئے گئے سرکاری اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ جاپان نے مسلسل چوتھے سال کام سے متعلق بیماریوں اور اموات کے دعوؤں میں نیا ریکارڈ درج کیا ہے۔ ۲۰۲۵ء میں ایسے ۱۳۱۰ تصدیق شدہ معاملات سامنے آئے جن میں ۱۴۵ ’کاروشی‘ اموات یا خودکشیاں شامل تھیں۔

تاکائچی کے تبصرے، جاپان میں کی جانے والی اصلاحات کے بالکل برعکس ہیں۔ جاپان اب برن آؤٹ (تھکاوٹ) کو کم کرنے اور شرحِ پیدائش کو بڑھانے کی ترغیب دینے کے مقصد سے کئی سرکاری ملازمین کیلئے ہفتے میں چار دن کام کی سہولت پیش کر رہا ہے۔ ملک بھر کی کمپنیاں لازمی اوور ٹائم کی روایت سے دور ہٹنے کیلئے کم اوقاتِ کار اور ریموٹ ورکنگ کا تجربہ کر رہی ہیں۔ طبی تحقیقات میں مسلسل یہ بات سامنے آئی ہے کہ بالغوں کو سات سے نو گھنٹے کی نیند کی ضرورت ہوتی ہے۔ مناسب نیند نہ ملنے کی وجہ سے دل کی بیماری، ڈپریشن اور ناقص فیصلہ سازی جیسے نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK