Updated: June 09, 2026, 7:07 PM IST
| London
ماہرِ معاشیات جین ڈریز کو عالمی سطح پر عدم مساوات اور غربت کے موضوع پر ان کی نمایاں تحقیقی خدمات کے اعتراف میں گلوبل اِن اِکوالٹی ریسرچ ایوارڈ سے نوازا گیا۔ انہوں نے اس موقع پر ہندوستا ن میں بڑھتی ہوئی معاشی و سماجی نابرابریوں اور ان کے خلاف جاری جدوجہد کی اہمیت پر زور دیا۔
ماہر معاشیات جین ڈریز۔ تصویر: آئی این این
ماہر معاشیات جین ڈریز کو جمعہ کو پیرس اسکول آف اکنامکس میں منعقدہ ورلڈ اِن اِکوالٹی کانفرنس میں گلوبل اِن اِکوالٹی ریسرچ ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ڈریز کو ہندوستان میں غربت اور عدم مساوات کی پیمائش پر ان کے کام، نیز نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی ایکٹ (NREGA) اور نیشنل فوڈ سیکوریٹی ایکٹ کیلئے ان کی وکالت کے اعتراف میں یہ اعزاز دیا گیا۔ ایوارڈ حاصل کرنے کے بعد ڈریز نے کہا:’’یہ اعزاز کوئی ایسی چیز نہیں جو میں نے اکیلے حاصل کی ہو۔ میرا تمام کام ان لوگوں اور اجتماعی گروہوں کے تعاون سے ہوتا ہے جو تبدیلی کیلئے کام کر رہے ہیں۔ ‘‘انہوں نے مزید کہا: ’’ ہندوستان میں عدم مساوات کی ہر ممکن شکل موجود ہے۔ یہاں نہ صرف معاشی عدم مساوات انتہائی بلند سطح پر ہے بلکہ ذات پات کا نظام، صنفی نابرابری، تعلیم تک رسائی میں وسیع فرق اور اس نوعیت کی دیگر بہت سی ناہمواریاں بھی موجود ہیں۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ ہندوستان میں عدم مساوات کے خلاف مزاحمت اور جدوجہد کی ایک بھرپور تاریخ بھی موجود ہے۔ میں خود کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ مجھے ان میں سے بعض تحریکوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: جنگ کے ۱۰۰؍دن : خطے نے ہزاروں جانیں گنوائیں، ایندھن کا بحران، دنیا بے حال
گلوبل اِن اِکوالٹی ریسرچ ایوارڈ ہر دو سال بعد اُن محققین کو دیا جاتا ہے جنہوں نے عالمی سطح پر عدم مساوات کو سمجھنے میں نمایاں خدمات انجام دی ہوں۔ یہ اس ایوارڈ کا دوسرا ایڈیشن ہے۔ ۲۰۲۴ء میں اس کا پہلا گلوبل اِن اِکوالٹی ریسرچ ایوارڈ مشترکہ طور پر بینا اگروال اور جیمز کے بوائس کو سماجی اور ماحولیاتی عدم مساوات پر ان کی تحقیق کے اعتراف میں دیا گیا تھا۔ حالیہ برسوں میں ڈریز نے منریگا (MGNREGA) کے خاتمے کی مخالفت کی ہے اور راشن کی فراہمی کیلئے آدھار تصدیق کے نظام پر سوالات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ دیہی روزگار کی نئی ضمانتی قانون سازی، ’’وکست بھارت گارنٹی فار روزگار اینڈ آجیویکا مشن (گرامین) ایکٹ‘‘، کام کی ضمانت تو فراہم کرتی ہے لیکن اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دیتی کہ یہ ضمانت واقعی نافذ بھی ہوگی۔ ڈریز نے یہ بھی سوال اٹھایا ہے کہ عوامی تقسیمِ نظام (Public Distribution System) کے تحت بعض شہریوں کو صرف اس وجہ سے غذائی راشن سے محروم کر دیا جاتا ہے کہ ان کے پاس آدھار کی تصدیق موجود نہیں ہوتی۔