Inquilab Logo Happiest Places to Work

جنگ کے ۱۰۰؍دن : خطے نے ہزاروں جانیں گنوائیں، ایندھن کا بحران، دنیا بے حال

Updated: June 09, 2026, 12:39 PM IST | Agency | New York

۲۸؍فروری کو ٹرمپ نے کہا تھا کہ یہ جنگ بہت جلد ختم ہوگی،لیکن امریکی -اسرائیلی اندازے اور حکمت عملیاں اُلٹی پڑگئیں،ایران نے انہیں منہ توڑ جواب دیا ،اس جنگ نے ایران اور دنیا کو کس طرح متاثر کیا؟

Graphics Based On Statistics Released By Al Jazeera.Photo:INN
الجزیرہ کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار پر مبنی گرافکس۔ تصویر:آئی این این
ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی ۲۸؍فروری ۲۰۲۶ء کو چھیڑی گئی جنگ کو۸؍جون کو ۱۰۰؍ دن مکمل ہوچکے ہیں۔حالانکہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ جنگ بہت جلد ختم ہو جائے گی۔ لیکن امریکہ اور اسرائیل کے سارے اندازے اور حکمت عملیاں دھری کی دھری رہ گئیں۔ ایران نے دندان شکن جواب اور اب تک وہ اس محاذ پر ڈٹا ہوا ہے۔  اس تنازع نے ایران اور دنیا کو کیسے متاثر کیا؟اس ضمن میں الجزیرہ نے تفصیلی رپورٹ شائع کی ہے۔ جس میں انسانی جانوں کے نقصان سے لے کر عالمی معیشت تک،۲۸؍ فروری سے جاری امریکہ-اسرائیل جنگ کے ایران پر اثرات کا جائزہ پیش کیا ہے۔خیال رہے کہ ۸؍اپریل ۲۰۲۶ءکو جنگ بندی پر اتفاق کے باوجود آبنائے ہرمز بڑی حد تک بند ہے، وقفے وقفے سے جھڑپیں جاری ہیں اور مذاکرات کئی بار ناکام ہو چکے ہیں۔اس بصری رپورٹ میں الجزیرہ نے جنگ کے پہلے۱۰۰؍ دنوں کا جائزہ لیا ہے، جس میں ہلاکتوں اور بے گھر ہونے والوں کی تعداد، عالمی معیشت پر پڑنے والے جھٹکوں اور کسی ممکنہ معاہدے کے امکانات کا احاطہ کیا گیا ہے۔
کم ازکم ۷؍ہزار افراد ہلاک ہوئے
جنگ کے اصل ہدف ایران کے مقابلے میں اب لبنان میں زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں۔ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق کم از کم۳۵۹۳؍ افراد لبنان میں،۳۴۶۸؍ ایران میں اور۲۹؍ خلیجی ممالک میں ہلاک ہوئے ہیں، جبکہ ایران کے حملوں میں۲۶؍ اسرائیلی اور۱۳؍ امریکی فوجی بھی مارے گئے ہیں۔صورتحال مسلسل تبدیل ہونے کے باعث یہ اعداد و شمار مزید تبدیل ہو سکتے ہیں۔
 اسرائیل نے لبنان کے پانچویں حصے پر قبضہ کر لیا
۱۷؍اپریل سے لبنان میں الگ جنگ بندی نافذ ہونے کے باوجود اسرائیل ملک کے جنوبی حصے پر مسلسل حملے کر رہا ہے۔ اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں۱۰؍  لاکھ سے زائد لبنانی بے گھر ہو چکے ہیں۔ وزیر اعظم نواف سلام نے اس کارروائی کو ’’جلاؤ گھیراؤ کی پالیسی اور اجتماعی سزا‘‘ قرار دیا ہے، جس کے نتیجے میں قصبے اور دیہات تباہ ہوئے اور ان کے مکین جلاوطنی پر مجبور ہوئے۔ یکم جون تک اسرائیلی افواج جنوبی لبنان کے شہر نبطیہ کے مضافات تک پہنچ چکی تھیں۔ اس دوران انہوں نے تاریخی بیوفورٹ قلعے پر قبضہ کر لیا، جو گزشتہ۲۵؍ برسوں میں لبنان کے اندر ان کی سب سے گہری پیش قدمی سمجھی جا رہی ہے۔اس وقت اسرائیلی افواج لبنان کے تقریباً پانچویں حصے، یعنی۲؍ہزار مربع کلومیٹر علاقے پر قابض ہیں۔ اسرائیل کا دعویٰ تھا کہ اس کا مقصد سرحد کے قریب دریائے لیطانی نی کے جنوب میں موجود حزب اللہ کے اہم جنگجوؤں کو ہٹانا ہے، لیکن فوج اس حد سے کہیں آگے کارروائیاں کر رہی ہے۔ جبری انخلا کے احکامات دریائے زہرانی تک جاری کیے گئے ہیں۔ جنگ کے پہلے دو ہفتوں کے دوران امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے باعث، جن میں اہم تنصیبات اور شہری مقامات کو نشانہ بنایا گیا،۳۰؍ لاکھ سے زائد ایرانی بھی بے گھر ہوئے۔
آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت میں نمایاں کمی 
جنگ کے آغاز کے بعد سے سینکڑوں جہاز آبنائے ہرمز میں پھنس چکے ہیں۔ یہ ایک اہم آبی گزرگاہ ہے جس کے ذریعے پہلے دنیا کی تقریباً۲۰؍ فیصد تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی تھی۔جہازوں کی نقل و حرکت کے اعداد و شمار کے مطابق۲۸؍ فروری سے۳۱؍ مئی تک صرف۶۰۷؍ جہاز آبنائے ہرمز سے گزر سکے، یعنی اوسطاً تقریباً۷؍ جہاز روزانہ، جبکہ جنگ سے پہلے یہ تعداد تقریباً۱۰۰؍ روزانہ تھی۔ آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی تیل ذخائر تیزی سے استعمال ہوئے، جس سے قلت کے خدشات بڑھ گئے۔ مزید برآں، امریکہ نے اپریل کے وسط سے ایرانی بندرگاہوں پر اپنی ناکہ بندی بھی نافذ کر رکھی ہے، جس سے تجارتی بحری سرگرمیاں مزید متاثر ہوئی ہیں۔ ٹینکروں کے آبنائے ہرمز سے باہر نہ نکل پانے کے باعث بحری سفر کے فاصلے بڑھ گئے ہیں، جہازوں کی دستیابی کم ہوئی ہے اور مال برداری کے نرخوں میں اضافہ ہوا ہے۔
۱۴۶؍ ممالک میں پیٹرول مہنگا
جنگ کے باعث توانائی کی عالمی منڈیاں شدید متاثر ہوئی ہیں اور گزشتہ تین ماہ میں تیل کی قیمتیں تقریباً دوگنی ہو چکی ہیں۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی(آئی ای اے)نے اس صورتحال کو تاریخ کا سب سے بڑا توانائی بحران قرار دیا ہے۔ جنگ سے قبل برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً۷۰؍ ڈالر فی بیرل تھی۔ جنگ شروع ہونے کے ایک ہفتے بعد قیمت۱۰۰؍ ڈالر سے تجاوز کر گئی، جو۲۰۲۲ء کے بعد پہلی بار ہوا۔ بعد ازاں قیمت تقریباً۱۲۰؍ ڈالر تک پہنچی اور پھر کم ہو کر تقریباً۱۰۰؍ ڈالر پر مستحکم ہو گئی۔ تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ میں صدر ٹرمپ کی سوشل میڈیا سرگرمیوں کا بھی اہم کردار رہا، کیونکہ ان کے ’ٹروتھ سوشل‘ پر کیے گئے بیانات تیل کی فیوچر مارکیٹ میں اربوں ڈالر کے اتار چڑھاؤ کا باعث بنتے رہے۔ عام لوگوں پر بھی اس کے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ الجزیرہ کے مطابق فروری کے آخر سے اب تک کم از کم۱۴۶؍ ممالک میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
 صرف پیٹرول ہی نہیں، خوراک بھی مہنگی
ایران کی جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش کے اثرات سے بہت کم ممالک محفوظ رہ سکے ہیں۔ مہنگائی صرف پیٹرول تک محدود نہیں رہی۔ تیل اور گیس ہزاروں روزمرہ اشیاء، مثلاً پانی کی بوتلوں، خوراک کی پیکنگ اور کپڑے دھونے والے ڈٹرجنٹس کی تیاری میں استعمال ہوتے ہیں۔ عالمی غذائی نظام بڑی حد تک قدرتی گیس سے بننے والی کھادوں پر انحصار کرتا ہے، جو فصلوں کی پیداوار بڑھانے کے لیے ضروری ہیں۔ اسی لیے خوراک کی قیمتیں بھی توانائی کی قیمتوں کے ساتھ بڑھتی رہی ہیں، جس کا اثر کھیتوں سے لے کر سپر مارکیٹوں تک پوری سپلائی چین پر پڑا ہے۔ اگرچہ تیل کی بڑی کمپنیوں کو قیمتوں میں اضافے سے فائدہ ہوا ہے، لیکن اگر یہ بلند سطح برقرار رہی تو عالمی معیشت سست روی اور ممکنہ کساد بازاری کا شکار ہو سکتی ہے۔
عالمی معیشت پر اثرات ابھی پوری طرح واضح نہیں
کوئنسی انسٹی ٹیوٹ فار ریسپانسبل اسٹیٹ کرافٹ کے فیلو ہادی کہلزادہ نے الجزیرہ سے اس حوالے سے تفصیلی بات چیت میں کہا کہ ’’ابھی یہ طے کرنا قبل از وقت ہوگا کہ اس جنگ کے مکمل اثرات کیا ہوں گے۔ تاہم یہ واضح ہے کہ اس سے عالمی جی ڈی پی میں کمی آئی ہے، افراطِ زر میں اضافہ ہوا ہے اور سست معاشی ترقی، بلند مہنگائی اور ممکنہ نئے معاشی بحران کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ توانائی، کھادوں اور اہم دھاتوں کی قیمتوں میں اضافے نے صنعتی اور زرعی لاگت بڑھا دی ہے، جس کے منفی اثرات ترقی اور مہنگائی دونوں پر پڑ رہے ہیں۔ تاہم عالمی سپلائی چینز پر اس کے مکمل اثرات ابھی تک معلوم نہیں ہو سکے ہیں۔‘‘

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK