ریلائنس جیو پلیٹ فارمز نے اپنی ٹیلی کام ٹیکنالوجی کو عالمی سطح پر متعارف کرانے اور دوسرے ممالک کی ٹیلی کام کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری بڑھانے کا منصوبہ بنایا ہے۔
EPAPER
Updated: October 15, 2026, 10:09 PM IST | Mumbai
ریلائنس جیو پلیٹ فارمز نے اپنی ٹیلی کام ٹیکنالوجی کو عالمی سطح پر متعارف کرانے اور دوسرے ممالک کی ٹیلی کام کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری بڑھانے کا منصوبہ بنایا ہے۔
ریلائنس جیو پلیٹ فارمز نے اپنی ٹیلی کام ٹیکنالوجی کو عالمی سطح پر متعارف کرانے اور دوسرے ممالک کی ٹیلی کام کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری بڑھانے کا منصوبہ بنایا ہے۔ کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر آکاش امبانی نے بتایا کہ جیو ہندوستان میں تیار کردہ اپنی جدید ٹیکنالوجی اور تجربے کو استعمال کرتے ہوئے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر دونوں طرح کے ممالک میں کاروبار کے نئے مواقع تلاش کرے گی۔ یہ اعلان جیو پلیٹ فارمز کے مجوزہ ابتدائی عوامی حصص اجرا (آئی پی او) سے متعلق پریس کانفرنس میں کیا گیا۔ کمپنی کا مقصد محض نیٹ ورک تعمیر کرنے یا سافٹ ویئر فراہم کرنے والی کمپنی بننے کے بجائے منظم ٹیلی کام خدمات فراہم کرنے والے عالمی شراکت دار (Managed Services Partner) کے طور پر اپنی شناخت قائم کرنا ہے۔
آکاش امبانی کے مطابق، جیو نے ہندوستان کی وسیع اور پیچیدہ ٹیلی کام مارکیٹ میں اپنی مکمل ٹیکنالوجی تیار کرکے اسے بڑے پیمانے پر استعمال کیا ہے۔ اب کمپنی اسی تجربے کو بین الاقوامی منڈیوں میں بروئے کار لانا چاہتی ہے۔ جیو دوسرے ممالک کے ٹیلی کام آپریٹرز کو اپنی ٹیکنالوجی فراہم کرنے کے ساتھ نیٹ ورک کے نفاذ، انتظام اور کارکردگی کو بہتر بنانے میں بھی مدد دے سکتی ہے۔
کمپنی کا منصوبہ ہے کہ وہ محض آلات فروخت کرنے یا سافٹ ویئر کا لائسنس دینے تک محدود نہ رہے، بلکہ شراکت دار کمپنیوں کو مکمل تکنیکی نظام اور اس سے متعلق خدمات پیش کرے۔ اس طریقے سے جیو اپنی ٹیکنالوجی کی قدر بڑھانے اور ہندوستان سے تیار ہونے والی ٹیلی کام مصنوعات و خدمات کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے کی کوشش کرے گی۔
یہ بھی پڑھئے:راگھو جویال نے ریمو ڈی سوزا کی فلم’ ’اینی باڈی کین ڈریم‘‘ کا اعلان کردیا
جیو اپنی بین الاقوامی توسیع کے لیے ایسے کاروباری ماڈل کو ترجیح دے رہی ہے جس میں بیرون ملک نیا نیٹ ورک تعمیر کرنے پر بہت زیادہ سرمایہ خرچ کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔ اس حکمت عملی کو اثاثوں اور سرمایہ جاتی اخراجات پر کم انحصار کرنے والا ماڈل کہا جاتا ہے۔ اس کے تحت کمپنی اپنی موجودہ ٹیکنالوجی، انجینئرنگ کی مہارت اور انتظامی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دوسرے ٹیلی کام آپریٹرز کے ساتھ کام کرے گی۔
آکاش امبانی نے واضح کیا کہ جیو بین الاقوامی شراکت داروں کا انتخاب احتیاط سے کرے گی۔ اس انتخاب میں متعلقہ ملک کی مارکیٹ کا حجم، کاروباری امکانات اور کمپنی کی مالی ترقی میں ممکنہ تعاون جیسے عوامل کو اہمیت دی جائے گی۔ تاہم، کمپنی نے فی الحال کسی مخصوص غیر ملکی شراکت دار، سرمایہ کاری یا بیرون ملک آمدنی کے ہدف کا اعلان نہیں کیا ہے۔
آکاش امبانی کے مطابق، جیو نے اپنی بنیادی ٹیلی کام ٹیکنالوجی تیار کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ہے۔ کمپنی اب تک ۷۲۲۰؍ سے زیادہ پیٹنٹ درخواستیں دائر کرچکی ہے اور اس کے پاس ۱۲؍ ہزار سے زائد انجینئرز کی ٹیم ہے۔ یہ صلاحیتیں کمپنی کو موبائل نیٹ ورک، براڈبینڈ، نیٹ ورک سافٹ ویئر، آلات اور ڈجیٹل خدمات میں اپنی ٹیکنالوجی کو مزید ترقی دینے میں مدد فراہم کرتی ہیں۔ہندوستان میں بڑے پیمانے پر نیٹ ورک چلانے کا تجربہ جیو کے لیے ایک اہم اثاثہ ہے۔ کمپنی اس تجربے کو دوسرے ممالک میں استعمال کرکے اپنی ٹیکنالوجی کو عالمی سطح پر فروخت کرنے اور نئی آمدنی کے ذرائع پیدا کرنے کی کوشش کرے گی۔
یہ بھی پڑھئے:لیونل میسی کے ہاتھوں میں بلند ہونے والی ورلڈ کپ ٹرافی نیلامی کے لیے پیش
جیو کی اس حکمت عملی کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ ہندوستان صرف بیرون ملک سے ٹیلی کام ٹیکنالوجی حاصل کرنے والا ملک نہ رہے، بلکہ اپنی تیار کردہ ٹیکنالوجی دوسرے ممالک کو فراہم کرنے کی صلاحیت بھی پیدا کرے۔ اگر جیو اپنے منصوبے پر کامیابی سے عمل کرتی ہے تو ہندوستانی انجینئرنگ، سافٹ ویئر اور نیٹ ورک ٹیکنالوجی کے لیے عالمی منڈیوں میں نئے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔کمپنی پہلے ہی ۶؍جی ٹیکنالوجی کے لیے سافٹ ویئر اپ گریڈ، مصنوعی ذہانت اور اپنی ٹیکنالوجی سے آمدنی بڑھانے کے منصوبوں پر توجہ دے رہی ہے۔ بین الاقوامی شراکت داری اسی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کے ذریعے جیو روایتی ٹیلی کام خدمات سے آگے بڑھ کر ایک عالمی ٹیکنالوجی کمپنی کے طور پر اپنی موجودگی مضبوط کرنا چاہتی ہے۔
جیو پلیٹ فارمز کا عالمی توسیع کا منصوبہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب کمپنی اپنے مجوزہ آئی پی او کی تیاری کر رہی ہے۔ اس منصوبے سے ظاہر ہوتا ہے کہ کمپنی مستقبل میں صرف ہندوستان میں موبائل صارفین کی تعداد بڑھانے پر انحصار نہیں کرنا چاہتی، بلکہ اپنی ٹیکنالوجی، کاروباری خدمات اور بین الاقوامی شراکت داری کو بھی ترقی کے اہم ذرائع بنانا چاہتی ہے۔