Updated: October 15, 2026, 10:10 PM IST
| Mumbai
آئی آئی ٹی بامبے نے ذات پات سے متعلق عدم تفریق پر مبنی ایک ہدایات جاری کی ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ دنوں ادارے میں ایک دلت طلبہ کی مبینہ موت کا معاملہ سامنے آیا تھا،موت کے بعد سے انتظامیہ کے خلاف طلبہ کا مستقل احتجاج جاری ہے اور اسی احتجاج کے دوران یہ ہدایات جاری کی گئی ہے جس میںطلبہ کو اپنے ساتھی طلبہ سے کچھ مخصوص قسم کے سوالات پوچھنے سے گریز کرنے کو کہا گیاہے، جس سے طلبہ کو ایک دوسرے کے معاشی یا ذاتی پس منظرسے متعلق معلومات ملتی ہو۔
آئی آئی ٹی بامبے نے طلبہ کو اپنے ساتھیوں سے ان کی ذات، داخلے کے زمرے اور اینٹرنس امتحان کے رینک کے بارے میں پوچھنے سے گریز کرنے کی ہدایت دی ہےاور حساسیت، عدمِ تفریق اور ایک جامع کیمپس ماحول قائم کرنے پر زور دیا ہے۔ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی بامبے نے طلبہ کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنے ساتھی طلبہ سے ان کی ذات، داخلے کے زمرے یا اینٹرنس امتحان کے رینک کے بارے میں سوال نہ کریں، کیونکہ اس طرح کے سوالات کے منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اور یہ تفریق کو ہوا دینے کا باعث بن سکتے ہیں۔منگل کی رات طلبہ کو بھیجےگئے ایک ای میل میں، ادارے نے کہا کہ اس پیغام کا مقصد ذات، مذہب یا سماجی و اقتصادی حیثیت سے بالاتر ہو کر ماحول کے لحاظ سے ایک ایسا کیمپس بنانا ہے جہاں تمام طلبہ خود کو شامل محسوس کریں۔
یہ بھی پڑھئے: آئی آئی ٹی بامبے کے طالب علم کی خودکشی معاملے میں احتجاج
آئی آئی ٹی بامبے کی طرف سے بھیجے گئے ای میل میں کہا گیا، ’’اگرچہ سوال پوچھنے والے شخص کو یہ ایک معصومانہ سوال لگ سکتا ہے جو صرف تجسس کی بنیاد پر پوچھا گیا ہو، لیکن اس طرح کا سوال اکثر دوسرے طلبہ پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔‘‘اس ایڈوائزری میں طلبہ سے کہا گیا ہے کہ وہ اس بات کا خیال رکھیں کہ ذاتی پس منظر اور تعلیمی کارکردگی سے متعلق سوالات ان کے ساتھیوں کو کس طرح متاثر کر سکتے ہیں۔ اگرچہ اس طرح کے سوالات صرف جاننے کی خواہش سے پیدا ہو سکتے ہیں، لیکن ادارے نے ان کے ممکنہ نتائج اور اثرات پر غور کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔آئی آئی ٹی بامبے کی اس بات میں ایک ایسے کیمپس کی تشکیل کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے جہاں تمام طلبہ کے ساتھ عزت و احترام کا سلوک کیا جائے، قطع نظر اس کے کہ ان کی سماجی شناخت، معاشی حالات یا داخلے کا زمرہ (کٹیگری) کیا ہے جس کے ذریعے انہوں نےسیٹ حاصل کی ہے۔مزید برآں ذات پات اور داخلے کے زمرے سے متعلق سوالات کسی طالب علم کے سماجی پس منظر کی طرف توجہ مبذول کر سکتے ہیں، جبکہ اینٹرنس امتحان کے رینکس کے بارے میں پوچھنا ساتھی طلبہ کے درمیان موازنے کو جنم دے سکتا ہے۔ آئی آئی ٹی بامبے کا پیغام طلبہ کو اس بات پر ابھارتا ہے کہ وہ اس طرح کی گفتگو کو ایک بے ضرر تبادلہ خیال سمجھنے کے بجائے اس کے منفی اثرات پربھی غور کریں۔
یہ بھی پڑھئے: اسلام قبول کرنے سے مسلم پسماندہ طبقے کا ریزرویشن نہیں ملے گا: سپریم کورٹ
واضح رہے کہ یہ ہدایات ساحل واکوڈے کی موت کی مذمت کیلئے بدھ کو طلبہ کی جانب سے کئے گئے ایک مظاہرے اور کیمپس کی دیگر پیش رفتوں کے درمیان سامنے آئی ہے۔ای میل میں جامعیت اور حساسیت پر زوردیا گیا جو کیمپس برادری میںباہمی احترام کے ساتھ بات چیت کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ تاہم، ادارے کےمطابق، اس پیغام کو براہِ راست اس مظاہرے یا ساحل واکوڈے کی موت سے جوڑ کر نہیں دیکھا جانا چاہئے جب تک کہ مزید معلومات سے ایسا کوئی تعلق قائم نہ ہو جائے۔
طلبہ سے ذات پات، داخلے کی کٹیگری اور رینک سے متعلق ممکنہ طور پر غیر آرام دہ سوالات سے بچنے کی اپیل کرتے ہوئے، آئی آئی ٹی بامبے نے ایک ایسا تعلیمی ماحول فراہم کرنے کی ضرورت کا اعادہ کیا ہے جہاں طلبہ اپنے پس منظر یا امتحانی کارکردگی کی بنیاد پر خود کو الگ تھلگ یا جانچا ہوا محسوس کئے بغیر ایک دوسرے سے بات چیت کر سکیں۔