ارد ن کے وزیر خارجہ کی محمود عباس سے معنی خیز ملاقات ، اہم گفتگو

Updated: June 19, 2020, 9:26 AM IST | Agency | Yerushalam

اسرائیل کی جانب سے غرب اردن کے علاقوں کو غصب کرنے کے اعلان کے پس منظر میں اہم معاملات پر صلاح مشورے

Jordan and Palestine
محمود عباس اور ارد ن کے وزیر خاجہ گفتگو کرتے ہوئے

ارردن کے وزیر خارجہ نے جمعرات کو غربِ اردن کے شہر رام اللہ کا اچانک غیراعلانیہ دورہ کیا ہے۔انھوں نے فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقات کی ہے اور انھیں اسرائیل کے غربِ اردن کے بعض حصوں کو ہتھیانے سے متعلق منصوبے کے تناظر میں ایک پیغام پہنچایا ہے۔اردن اور فلسطین دونوں اسرائیل کی جانب سے غرب اردن میں واقع وادیِ اردن کو ہتھیانے اور یہودی بستیوں کو اپنی سرحد میں ضم کرنے کے منصوبے کو سختی سے مسترد کرچکے ہیں اور وہ اس کے خلاف مہم چلا رہے ہیں۔ اردن کی وزارت خارجہ نے بیان دیا ہے کہ ایمن الصفدی کا رام اللہ کا دورہ فلسطینی قیادت کے ساتھ اس  موضوع پر مشاورت کے عمل کا  ایک حصہ ہے۔
 اس سے ایک روز قبل امارات کے ایک سینئر عہد دار نے خبردار کیا تھا کہ اگر اسرائیل غربِ اردن کی یہودی بستیوں کو اپنی سرحد میں ضم کرتا ہے تو عرب ریاستیں اسرائیل اور فلسطینیوں کیلئے واحد دوقومی ریاست کا مطالبہ کرسکتی ہیں اور وہ تنازع کے دو ریاستی حل کے روایتی موقف سے دستبردار ہوسکتی ہیں۔
 اسرائیل کے انتہا پسند وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی پشت پناہی سے غرب اردن میں واقع یہودی بستیوں اور تزویراتی لحاظ سے اہمیت کی حامل وادیِ اردن کو صہیونی ریاست میں ضم کرنے کے منصوبے کا اعلان کرچکے ہیں۔اگر وہ اس پر عمل درآمد کرتے ہیں تو فلسطینیوں کی ایک آزاد اور خود مختار ریاست کے قیام کے امکانات معدوم ہوجائیں گے۔
 یاد رہے کہ اسرائیل  نے انضمام کا یہ سلسلہ یکم جولائی سے شروع کرنے کا اعلان کر رکھاہے۔ ایسی صورت میں محمود عباس اور اردن کے وزیر خارجہ کی انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔حالانکہ ابھی دونوں کے درمیان ہونے والی گفتگو کی تفصیلات سامنے نہیں آ سکی ہیں۔
  واضح رہے کہ اسرائیل نے ۱۹۶۷ءکی جنگ میں اردن کے دریائے اردن کے مغربی کنارے کے علاقے پر قبضہ کر لیا تھا۔پھر وہاں یہودی آبادکاروں کو لا کربسانا شروع کردیا تھا اور اب وہاں بیسیوں یہودی بستیوں میں پانچ لاکھ سے زیادہ یہودی آباد کار رہ رہے ہیں۔ امریکہ کے سوا عالمی برادری ان یہودی بستیوں کو بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی قرار دیتی ہے۔
 اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے اسی ہفتے امریکی قیادت سے اسرائیل کے غرب اردن کو ہتھیانے کیلئے کسی بھی یک طرفہ اقدام پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ایسا کوئی بھی اقدام اردن کیلئے قابل قبول نہیں ہوگا اور اس سے خطے میں امن واستحکام کے حصول کیلئے کوششوں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK