امریکی اداکار مارک رفالو نے مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی قتل اور زمین پر قبضے کی مذمت کی، اس سے قبل وہ غزہ میں دو سالہ نسل کش اسرائیلی جنگ اور فلسطینی جان کے المناک نقصان کے حوالے سے بھی واضح موقف اختیار کر چکے ہیں۔
EPAPER
Updated: March 26, 2026, 8:11 PM IST | California
امریکی اداکار مارک رفالو نے مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی قتل اور زمین پر قبضے کی مذمت کی، اس سے قبل وہ غزہ میں دو سالہ نسل کش اسرائیلی جنگ اور فلسطینی جان کے المناک نقصان کے حوالے سے بھی واضح موقف اختیار کر چکے ہیں۔
ہالی ووڈ اداکار مارک رفالو نے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی زمین پر قبضے کی شدید تنقید کی ہے۔امریکی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں صورتحال کی مذمت کرتے ہوئے، رفالو نے برطانوی اخبار دی گارجین کی ایک رپورٹ شیئر کی اور کہا،’’قتل اور زمین چوری کے معاملے میں یہ مکمل طور پر قانون شکنی ہے۔‘‘واضح رہے کہ اس سے قبل وہ غزہ میں دو سالہ نسل کش اسرائیلی جنگ اور فلسطینی جانوں کے المناک نقصان کے حوالے سے بھی واضح موقف اختیار کر چکے ہیں۔رفالو ان متعدد امریکی فنکاروں میں سے ہیں جنہوں نے مقبوضہ علاقوں میں اسرائیلی فوجیوں اور غیر قانونی آبادکاروں کے ہاتھوں فلسطینی بچوں کے قتل کی مذمت کی ہے اور مغربی کنارے میں ہونے والی ہلاکتوں کو اجاگر کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ کو سخت ترین صورتحال کا سامنا: بورڈ آف پیس کے نمائندے کا اظہار تشویش
دریں اثناء اپنی پوسٹ میں، انہوں نے رپورٹ میں شامل اقوام متحدہ کے چونکا دینے والے اعداد و شمار کی طرف توجہ دلائی، جو بتاتے ہیں کہ۲۰۲۰ء سے اب تک مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجیوں اور غیر قانونی آبادکاروں نے کم از کم۱۱۰۰؍ فلسطینی شہریوں کو قتل کیا ہے۔رفالو نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان ہلاکتوں میں کم از کم ایک چوتھائی بچے تھے،ساتھ ہی اس بات کو اجاگر کیا کہ ان اموات کے سلسلے میں کسی کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا ہے۔بعد ازاں فلسطینی حکام کے مطابق، غیر قانونی آبادکاروں کے حملےگزشتہ ماہ ریکارڈ بلند ترین سطح پر پہنچ گئے، جن میں۵۰۰؍ سے زائد واقعات دستاویز کیے گئے۔تجزیہ کار اور انسانی حقوق کے مبصرین کے مطابق یہ حملے اکثر اسرائیلی فوجیوں کے زیر سرپرستی یا ان کے ساتھ ہم آہنگی میں کیے جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں ہلاکتیں، گھروں کو نذر آتش کرنا اور قیمتی زرعی زمینوں کی تباہی واقع ہوتی ہے۔اگرچہ امریکہ اور یورپی یونین نے باضابطہ طور پر قبضہ زمین کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا ہے، لیکن غیر قانونی آبادکاریوں میں توسیع اور اس کی کوئی گرفت نہ ہونے سے شہریوں کا تحفظ تیزی سے کمزور ہوتا جا رہا ہے۔