ایک سالہ فلسطینی بچے پر تشدد پر اسرائیل کے خلاف عالمی سطح پر رضاکاروں اور وکیلوں رد عمل ظاہر کیا۔ فلسطین حامیوں نے تشدد کرنے والون میں شامل فوجیوں سے احتساب کا مطالبہ کیا۔
EPAPER
Updated: March 26, 2026, 10:07 PM IST | Gaza
ایک سالہ فلسطینی بچے پر تشدد پر اسرائیل کے خلاف عالمی سطح پر رضاکاروں اور وکیلوں رد عمل ظاہر کیا۔ فلسطین حامیوں نے تشدد کرنے والون میں شامل فوجیوں سے احتساب کا مطالبہ کیا۔
غزہ میں چھوٹے بچے کو تشدد کا نشانہ بنانے کی خبروں پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے فلسطین حامیوں اور بین الاقوامی برادری نے اسرائیل کی مذمت کی ہے۔ واضح ہو کہ حالیہ خبروں کے مطابق ایک ۱۸؍ ماہ کے بچے کریم ابو ناصر کو اسرائیلی فوجیوں نے اس کے والد سے پوچھ گچھ کے دوران تشدد کا نشانہ بنایا۔ اسرائیلی فوجیوں نے اس بچے کے والد ابو ناصر کے سامنے اس کے پیروں سکو سگریٹ سے جلایا۔ عالمی سطح پر ان خبروں کی گردش کے باوجود اسرائیل نے اب تک اس معاملے میں شامل فوجیوں کو قید نہیں کیا اور اسرائیلی فوج اب تک خاموش ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی فوجیوں نے ۱۸؍ ماہ کے بچے کو تشدد کا نشانہ بنایا
عالمی سطح پر اس واقعے کی مذمت کرتے رضاکاروں اور وکیلوں کی تنظیموں نے کہا کہ یہ واقعہ حالیہ مہینوں میں فلسطینیوں کے ساتھ بدسلوکی کی سب سے پریشان کن خبر ہے۔ دی کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشن (سی اے آئی آر) نے اسے ’’اخلاقی ظلم‘‘ قرار دیا اور زور دیا کہ فوری بین الاقوامی احتساب کیا جائے، ساتھ ہی امریکہ پر دباؤ ڈالا کہ وہ رد عمل ظاہر کرے۔ سی اے آئی آر نے بیان دیا کہ ’’اسرائیل کا ایک سال کے بچے کو سگریٹ سے جلانا، اس کے پیروں میں ناخن گاڑنا اور اس کے والد سے زبردستی بیان لینا ایک نہایت گھناؤنا اخلاقی جرم ہے جو کانگریس سے فوری کارروائی کا مطالبہ کرتا ہے۔ دنیا میں کہیں بھی کسی بچے کو اس طرح کی درندگی کا نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے، خصوصاً امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسے سے۔ یہ اقدامات بین الاقوامی قوانین اور بنیادی انسانی اقدار کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔‘‘ مزید کہا کہ ’’ہماری قوم کو ان جرائم کا خاتمہ کرنا چاہیے۔ کانگریس کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ امریکی ٹیکس دہندگان کے ڈالر مزید بچوں کو اذیت دینے یا قتل کرنے کیلئے استعمال نہ ہوں۔ ضمیر کے حامل ہر قانون ساز کو اسرائیل کی بے قابو حکومت کیلئے فوجی امداد ختم کرنے کیلئے ووٹ دینا چاہیے۔‘‘
سوشل میڈیا پر عوام اور رضاکاروں کے ردعمل اور غم و غصے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ایک بچے پر ظلم اس بات کا ثبوت ہے کہ تنازع میں انسانی زندگی کی کوئی اہمیت نہیں۔ اس معاملے پر ٹھوس اقدامات کرنا بے حد ضروری ہے۔
امریکی کانگریس سے وابستہ خاتون عمر الہان لبنان اور دیگر جگہوں پر اسرائیل کے مظالم کی طرف توجہ دلاتے ہوئے امریکہ سے سہولتیں بند کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے ایکس پر لکھا، ’’اسرائیل نے ۱۱۸؍ بچوں سمیت ایک ہزار سے زیادہ لوگوں کا قتل کیا۔ کانگریس کو دہشت گردی کی مہم کو فنڈ نہیں دینا چاہئے۔‘‘
Israel`s attacks on Lebanon are no accident. It’s the direct result of a regional war manufactured by Trump and Netanyahu.
— Ilhan Omar (@IlhanMN) March 23, 2026
Israel has killed over 1,000 people, including 118 children. More than 1 million displaced.
Congress must stop bankrolling this terror campaign.
محمد صفا، اقوام متحدہ سے منسلک سفارت کار اور فلسطین حامی وکیل نے بھی ایکس پر تشدد کیس کی طرف توجہ مبذول کروائی۔
اقوام متحدہ کی رپوٹر فرانسسکا البانیز نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کو ’’فلسطینون پر ظلم کرنے کا لائسنس‘‘ دیا گیا ہے، وہ منظم طور سے ان پر ظلم کر رہے ہیں اور ظالموں کو تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: شیل کے سی ای او کی یورپ کو وارننگ، جلد ایندھن کی کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے
جنگ بندی کی خلاف ورزیاں
اسرائیل اکتوبر ۲۰۲۵ء سے اب تک جنگ بندی کی ۱۰۰؍ سے زائد خلاف ورزیاں کر چکا ہے، جن میں تقریباً ۶۸۰؍ فلسطینی ہلاک اور ایک ہزار ۸۱۳؍ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ واضح ہو کہ اسرائیل نے اکتوبر ۲۰۲۳؍ میں جاری نسل کشی میں ۷۲؍ ہزار سے زائد فلسطینیوں کا قتل اور ایک لاکھ ۷۱۰۰۰؍ فلسطینیوں کو زخمی کیا ہے، جن میں زیادہ تر بچے اور خواتین شامل ہیں۔ اسرائیل نے علاقے کے بیشتر حصے کو کھنڈر میں تبدیل کر دیا ہے اور پوری آبادی کو بے گھر کر دیا ہے۔