دہلی پولیس کی جانب سے بیجا سختیوں اور بندشوں کے خلاف صحافیوںاور میڈیا اداروں نے صدائے احتجاج بلند کی ۔ظالمانہ کارروائیوں کو اپنے کیمروں میں قید کرکے سوشل میڈیا پرعام کیا۔
EPAPER
Updated: October 12, 2026, 11:17 AM IST | Inquilab News Network/Agency | New Delhi
دہلی پولیس کی جانب سے بیجا سختیوں اور بندشوں کے خلاف صحافیوںاور میڈیا اداروں نے صدائے احتجاج بلند کی ۔ظالمانہ کارروائیوں کو اپنے کیمروں میں قید کرکے سوشل میڈیا پرعام کیا۔
دہلی میں الیکشن کمیشن کے خلاف جاری احتجاج کے دوران صحافیوں کو اتوار کو بھی رپورٹنگ سے روکنے اور انہیں ہراساں کرنے کی متعدد شکایات سامنے آئی ہیں۔ دہلی پولیس پر الزام ہے کہ کئی مقامات پر اسکے اہلکاروں نے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے نمائندوں کے ساتھ ساتھ فری لانس رپورٹروں کوبھی بلاوجہ پریشان کیا۔جن میڈیا اداروں کے نمائندوں کو تحویل میں لیا گیا یا گرفتار کیا گیا ان میں انڈین ایکسپریس ہندی، پی ٹی آئی ، دی ہندو، ہندوستان ٹائمزوغیرہ قابل ذکر ہیں۔
خیال رہے کہ یہ سب کچھ سپریم کورٹ کی اس تنبیہ کے باوجود ہوا ہے۔ اتوار کو ہی صبح میں چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) کے خلاف احتجاج کے معاملے کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کی جانب سے واضح طور پر کہا گیا کہ وکلا، صحافیوں اور دیگر پیشہ ور افراد کو اپنے پیشہ ورانہ فرائض انجام دینے سے نہیں روکا جانا چاہیے۔
انڈین ایکسپریس ہندی کےایکس ہینڈل سے اطلاع دی گئی کہ ’’ہمارے ۳؍صحافی شاشوت، سِیا اور وجئے کو دہلی پولیس نے رپورٹنگ کے دوران تحویل میں لیا۔ یہ بتانے پر بھی کہ صحافی ہیں اور اپنا کام کرنے آئے ہیں، انہیں جبراً بس میں بٹھالیا گیا۔ پولیس کی بس دہلی کے کناٹ پیلس سے گزررہی تھی، جب شاشوت نے اپنے موبائل کیمرا سے ویڈیو بناکر ہم تک پہنچایا، ہماری ساتھی سیا کا فون پولیس کے ذریعہ چھین لیا گیا۔‘‘
اسکرول کے صحافی آیوش تیواری نے ایکس پر ویڈیو شیئر کیا اور لکھا کہ کناٹ پیلس کے پاس انڈیپنڈنٹ میڈیا ’اسٹرائیک‘ کے نمائندے شیام سنگھ میرا کو کناٹ پیلس کے پاس پولیس نے تحویل میں لیا۔ اس دوران شیام کیساتھ دائیں بازو کے عناصر نے دھکامکی بھی کی۔شیام سنگھ میرا نے ایک ویڈیو شیئر کیا اور الزام لگایا کہ پولیس تحویل کے دوران اہلکاروں نے انقلاب زندہ باد، بھگت سنگھ زندہ باد اور نریندرمودی امیت شاہ مردہ باد کے نعرے لگانے پر گالیاں دیں۔
انڈپینڈنٹ میڈیا رپورٹر پرگیہ مشرا کو بھی پولیس نے جنترمنتر کے پاس سے ڈیٹین کیا، اس دوران ان کے ساتھ خواتین اہلکاروں نے بری طرح کھینچاتانی کی اور بعد ازیں بے دردی سے اٹھاکر وین میں بٹھایا۔
پرنورائے کے ڈیجیٹل نیوز پلیٹ فارم’ڈی کوڈر اے آئی ‘نے اپنے ایکس اکاؤنٹ سے ایک معاملہ شیئر کیا اور لکھا کہ ’’ایک خاتون صحافی کو دہلی پولیس کے اہلکاروںنے گراؤنڈ رپورٹنگ کے وقت حراست میں لیا، عینی شاہدین کا دعویٰ ہے کہ اس خاتون صحافی نے اپنا پریس کارڈ، مائیکرو فون اور آئیڈنٹی فکیشن نمبر بھی دکھایا مگر پولیس نے اس کی ایک نہ سنی اور بری طرح گھسیٹتے ہوئے اسے وین میں ڈالا۔ ‘‘ انڈیپنڈنٹ جرنلسٹ تنوشری پانڈے نے۱۰؍اکتوبر کے ایک واقعہ کے متعلق ایکس پر لکھاکہ’’ ایک مسلم شخص سڑک پارکررہا تھا، دہلی پولیس کے اہلکاروں نے اسے تحویل میں لے لیا، جب میں نے اس کارروائی پر اعتراض کیا تو انہوں نے مجھے بھی گرفتار کرنے کی کوشش کی۔ میں ان صحافی دوستوں کی ممنون ہوں جنہوں نے مداخلت کی اور مجھے ڈیٹین ہونے سے بچالیا۔ آپ ہی بتائیے اس طرح کی کارروائی کس طرح جائز ہوسکتی ہے؟‘‘ معلوم ہوکہ دہلی پولیس پر وکلا اور صحافیوں کو اپنے پیشہ ورانہ فرائض انجام دینے سے روکنے کے الزامات عائد کیے جانے کے بعد، جسٹس جوئے مالیہ باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ نے اتوار کو سالیسٹر جنرل تشار مہتا کو واضح طور پر کہا کہ ان پیشہ ور افراد کو اپنے فرائض کی انجام دہی میں رکاوٹ کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔ عدالت نے اپنے حکم میں درج کیا کہ سالیسٹر جنرل نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وکلا، اور صحافیوں کو اپنے پیشہ ورانہ فرائض انجام دینے سے نہیں روکا جائے گا۔
کم ازکم ۶؍ صحافیوں کو کناٹ پیلس کے پاس سے حراست میں لیا گیا جو کچھ دیر پہلے تحویل میں لئے صحافیوں کے متعلق سوال کررہے تھے۔ جب ہم نے پولیس سے اس ضمن میں استفسار کیا تو انہوں نے ڈیٹینشن کے متعلق ہمیں راست جواب دینے کے بجائے کہا کہ کچھ بھی پوچھنے کا یہ مناسب وقت نہیں ہے۔‘‘
- شری نیواسن جین
سینئررپورٹر، کے ایکس پوسٹ سے لیا گیا بیان
ہمار املک کہاں جارہا ہے؟کہو مودی جی مزہ آرہاہے، آپ اپنے حساب سے قانون بنانے کے ماہر کھلاڑی ہیں، ایک کام اور کیجئے، ایک آر ڈر پاس کیجئے ، مدر آف ڈیموکریسی سے صحافت پر پابندی لگادیجئے۔‘‘
-پرگیہ مشرا ، انڈیپنڈنٹ جرنلسٹ
صحافیوں کیلئے ’اسپیشل بس‘!
دینک بھاسکر کے نمائندے رشی کیش شرما نے زعفرانی رنگ کی ایک بس کا ویڈیو ایکس پرسہ پہر ۲۰:۳؍بجے شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس اسپیشل ڈیٹینشن بس میں تحویل میں لئے گئے میڈیا کے نمائندے ہیں جن میں پی ٹی آئی کا بھی ایک رپورٹرشامل ہے، ان سب کو پولیس اسٹیشن لے جارہا ہے۔ ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ وہ رپورٹرزبس کی کھڑکیوں سے اپنے کارڈ اور بُوم دکھارہے تھے۔
’’دائیں بازو کے عناصر ڈنڈے لےکر آئے ‘‘
نیوز لانڈری کے رپورٹر اودھیش کماراور دیگر صحافیوں نے کناٹ پیلس پر موجود ایک گاڑی کی طرف پولیس کی توجہ دلائی، جو وہاں تقریباً دوگھنٹے سے کھڑی ہوئی تھی۔ اودھیش اور دیگر صحافیوں کا دعویٰ ہے کہ اس سفید رنگ کی کار میںرائٹ وِنگ والے سوار تھے ،انہوں نے گاڑی میں ڈنڈے رکھے ہوئے تھے ۔ان صحافیوں کا الزا م ہے کہ بروقت نشاندہی کرانے کے باوجود وہاں موجود پولیس اہلکاروں نے گاڑی کی تلاشی نہیں لی اور اسے وہاں سے جانے دیا۔دہلی پولیس نے اس پر کوئی بیان نہیں دیاہے۔