انوج چودھری پر ایف آئی آر کا حکم دینے والے وِبھانشو سدھیر کی جگہچیف جوڈیشیل مجسٹریٹ بنائے گئے آدتیہ سنگھ کو ۴۸؍ گھنٹوں میں ہی ہٹادیاگیا، انہوں نے ہی جامع مسجد کے سروے کا حکم دیاتھا
EPAPER
Updated: January 23, 2026, 11:08 PM IST | New Delhi
انوج چودھری پر ایف آئی آر کا حکم دینے والے وِبھانشو سدھیر کی جگہچیف جوڈیشیل مجسٹریٹ بنائے گئے آدتیہ سنگھ کو ۴۸؍ گھنٹوں میں ہی ہٹادیاگیا، انہوں نے ہی جامع مسجد کے سروے کا حکم دیاتھا
سنبھل میں جامع مسجد کے سروے کے وقت مسلمانوں پر فائرنگ کرنے کی پاداش میں ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اور سرکل آفیسر انوج چودھری اوران کے ساتھی افسران کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دینے والے چیف جوڈیشیل مجسٹریٹ(سی جے ایم) وبھانشو سدھیر کا تبادلہ کر کے ان کی جگہ لائے گئے آدتیہ سنگھ کی تقرری ۴۸؍ گھنٹے میں ہی منسوخ کردی گئی۔ آدتیہ سنگھ کو سوِل جج (سینئر ڈویژن ) کے عہدہ سے ترقی دے کر چیف جوڈیشیل مجسٹریٹ کے عہدہ پر فائز کیاگیاتھامگر ۴۸؍ گھنٹے کے اندرا ندر ان کی تنزلی کردی گئی ہے اور انہیں پھر سو ِل جج کے عہدہ پر بھیج دیا گیا۔ یاد رہے کہ سو ِل جج کے طورپر آدتیہ سنگھ نے ہی سنبھل کی جامع مسجد کے سروے کا متنازع حکم دیاتھا جس کی وجہ سے تشدد پھوٹ پڑاتھا اور فائرنگ میں کئی مسلم نوجوان مارے گئے۔یہی وجہ ہے کہ جج وبھانشو سدھیر کے تبادلہ پر جس قدر تنقیدیں ہورہی ہیں ،اتنی ہی تنقید ان کی جگہ آدتیہ سنگھ کو سی جے ایم بنائے جانے پر ہورہی ہیں۔الہ آباد ہائی کورٹ کے انتظامی حکم کے ذریعہ ایک ہی دن میں آدتیہ سنگھ کے تبادلے کو مذکورہ تنقیدوں کے اثر کے طور پر دیکھا جارہاہے۔ جمعرات کو دیر رات جاری کئے گئے حکم میں اب کوشامبی کے چیف جوڈیشیل مجسٹریٹ (سی جے ایم)دیپک کمار جیسوال کو سنبھل کا نیا سی جے ایم مقرر کیاگیا ہے ۔انہوں نے جمعہ کو چارج سنبھال لیا ہے۔
اس بیچ جج وِبھانشو سدھیر جنہوں نے جامع مسجد کے سروے کے موقع پر پولیس کے ظلم کے خلاف فیصلہ سنایاتھا، کے تبادلہ کے خلاف وکیلوں کے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ منگل کو راتوں رات تبادلہ کا حکم جاری ہونے کے بعد بدھ کو سنبھل کی عدالت میں ہی ’’ جب جب یوگی ڈرتا ہے، پولیس کو آگے کرتا ہے‘‘ کے نعرے بلند ہوئے تھے۔ جمعرات کو اسی سلسلے میں ’مراد آباد دی بار اسوسی ایشن اینڈ لائبریری‘ کے جنرل ہاؤس میں وکلاء نے صدائے احتجاج بلند کی۔ انہوں نے تبادلے کو عدلیہ کی آزادی اور غیر جانبداری کیلئے گہرا زخم قرار دیاہے۔ جنرل ہاؤس میں اس ضمن میں باقاعدہ اجلاس کا انعقاد کیاگیا جس کی صدارت بار کے صدر آنند موہن گپتا نے کی۔ اجلاس میں وکلاء نے کہا کہ پولیس کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم جاری کرنے کے بعد چیف جوڈیشیل مجسٹریٹ وبھانشو سدھیر کا تبادلہ انتہائی افسوسناک ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف عدلیہ کی آزادی بلکہ عدلیہ کی غیر جانبداری، وقار اور ادارہ جاتی عزت نفس کے لحاظ سے بھی انتہائی تشویشناک ہے۔
جج سدھیر نے سی جے ایم سنبھل کے طور پر محض ۳؍ماہ میں ۲؍ الگ الگ مواقع پر پولیس اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر کے احکامات جاری کئے تھے۔پولیس اہلکاروں کے خلاف دیئے گئے ۲؍ احکامات میں سے جس پر سب سے زیادہ توجہ مرکوز ہوئی، وہ ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (اے ایس پی) انوج چودھری، اس وقت کے ایس ایچ او انوج تومر اور ۱۵؍ سے۲۰؍ دیگر پولیس اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم تھا۔ یہ حکم اس نوجوان کے والد کی درخواست پر دیا گیا جو سنبھل جامع مسجد کے سروے کے وقت تشدد میں مبینہ طور پرپولیس کی گولی لگنے سے زخمی ہوا تھا۔