کابل ۲۳؍ راکٹ حملوں سے لرز اُٹھا،۸؍ افراد ہلاک

Updated: November 22, 2020, 6:52 AM IST | Agency | Kabul

مہلوکین کی تعداد میں اضا فہ ہوسکتا ہے، وزارت داخلہ کے ترجمان نے طالبان پر الزام عائد کیا، جنگجو تنظیم نے الزامات مسترد کئے

Kabul Rocket Attack - Pic : PTI
حملوں میں بری طرح تباہ ہوئے اپنے مکان کا ایک شخص جائزہ لیتے ہوئے۔( تصویر: پی ٹی آئی

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں  سنیچر کی صبح مرکزی اور شمالی علاقوں میں ہوئے راکٹ حملوں میں  تقریباً۸؍ افراد ہلاک اور۳۱؍ لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ بین الاقوامی ذرائع کےکابل کے گرین زون(جہاں متعدد ممالک کے سفارتخانے اور بین الاقوامی کمپنیوں کے دفاتر موجود ہیں) پر حملے صبح ۹؍ بجے کے قریب کئے گئے۔افغان وزارت داخلہ کے مطابق یہ حملے شہر کے ۴؍ مختلف انتظامی علاقوں میں  کئے گئے۔ ان میں سے ایک صدارت اسکوائر بھی ہے جہاں افغان نائب صدر امراللہ صالح کا دفتر واقع ہے۔
 ’اے ایف پی‘ کے مطابق افغانستان کے وزارت داخلہ کے ترجمان طارق آریان نے ان حملوں کا الزام طالبان پر  عائد کرتے ہوئے ہوئے کہا ہے کہ ۲۳؍ راکٹ فائر کئے گئے تھے۔ ترجمان کا  مزید کہنا تھا کہ ہلاکتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ دوسری طرف طالبان اس الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ  عوامی مقامات کو نشانہ نہیں بنا تے ہیں۔ تادم تحریران حملوں کی ذمہ داری فوری طور پر کسی گروہ نے قبول نہیں کی ہے۔
 اطلاعات کے مطابق گرین زون میں گرنے والا ایک راکٹ پھٹ  نہیںسکا۔ حملوں کے بعد آن لائن گردش کررہے  ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حملوں سے مختلف عمارتوں کی دیواریں و کھڑکیاں اور کئی مکانات شدید متاثر ہوئے ہیں۔  ایک میڈیکل کمپلیکس کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
  واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے  بھی کابل کے دو تعلیمی اداروں پر دہشت گردانہ حملے کئے گئے تھے، اس  طلبہ سمیت ۵۰؍ افراد ہلاک ہوگئے تھے ۔ ان حملوں کی ذمہ داری دہشت گرد تنظیم ‘داعش’ نے قبول کی تھی۔ تاہم افغان حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں طالبان کا حقانی نیٹ ورک بھی شامل تھا۔
  قابل ِ  غور ہے کہ یہ حملے ایسے وقت میں کئے گئے جب  امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کی  قطر کے دارالحکومت دوحہ کے دورے کے دوران افغان حکومت اور طالبان کے نمائندوں سے ملاقات طے ہے۔  گذشتہ دنوں ہی امریکی   صدر ڈونالڈ ٹرمپ  اپنی حکومت کے آخری دنوں میں افغانستان سے امریکی فوجیوں کی تعداد کم کرنے کا  اعلان کر چکے ہیں۔ دعویٰ کیا گیا تھا کہ ٹرمپ ۱۵؍ جنوری تک افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد۲؍ہزارتک کم کردیں گے۔ طالبان کی جانب سے اس اعلان کا خیرمقدم کیا گیا  تھالیکن نیٹو کے اتحادیوں کہا تھا کہ اس معاملے میں جلد بازی سے امن عمل میں رکاوٹ پیدا ہوسکتی ہے۔ اس کے باوجودپومپیو کی افغان وفود کے ساتھ ملاقات کو ٹرمپ   کےاسی منصوبے کےتحت قرار دی جارہی ہے۔امریکہ کے صدارتی انتخابات  اکثریت حاصل کرنے والے ڈیمو کریٹک امیدوار جو بائیڈن بھی اس نکتے پر اپنے حریف صدر ٹرمپ سے متفق ہیں۔ تاہم ماہرین کا قیاس ہے کہ جو بائیڈن افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا میں  جلدی نہیں کریں گے۔
  امن کی کوششوں کے باوجود افغانستان میں  مسلح گروہوں کی جانب سے ملک گیر حملے جاری  ہیں۔ افغان وزارت داخلہ کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ۶؍ ماہ کے دوران ہوئے مختلف حملوں میں ایک ہزار ۲۱۰؍شہری ہلاک اور ۲۵۰۰؍ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK