شرد پوار کی پارٹی کے کارکنان نے تحصیلداردفتر تک مارچ کیا ۔ راج ٹھاکرے کے پارٹی کارکنوں نے مرکزی وزیرتعلیم کی تصویرپر سیاہی پوت دی۔
EPAPER
Updated: July 22, 2026, 9:18 AM IST | Mumbai
شرد پوار کی پارٹی کے کارکنان نے تحصیلداردفتر تک مارچ کیا ۔ راج ٹھاکرے کے پارٹی کارکنوں نے مرکزی وزیرتعلیم کی تصویرپر سیاہی پوت دی۔
دہلی میں پرامن احتجاج کرنے والے طلبہ پر لاٹھی چارج معاملے پر طلبہ کی حمایت اور پولیس کے جبر کی مذمت کرتے ہوئے نیشنلسٹ کانگریس پارٹی( شرد پوار)اور مہاراشٹر نو نرمان سینا (ایم این ایس )نے زبردست احتجاج کیا۔ دونوں پارٹیوں کے احتجاج میں بڑی تعداد میں طلبہ نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور مرکزی حکومت کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا پُر زور مطالبہ کیا۔
’’نوجوانوں کا اعتمادبری طرح مجروح ہوا ہے‘‘
این سی پی(شرد پوار) کی جانب سے تحصیلدار کے دفتر پر احتجاجی مارچ نکالا گیا اور اس واقعہ کی شدید مذمت کی گئی۔ اس موقع پر مطالبہ کیا گیاکہ اس تمام واقعہ کے ذمہ دار مرکزی وزیرتعلیم دھرمیندر پردھان ہیں لہٰذا وہ اپنی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے استعفیٰ دیں۔ پارٹی کے ضلعی صدر ڈاکٹر وندار پاٹل کی قیادت میں نکالے گئے اس مورچہ سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ ریاست کے لاکھوں نوجوان اور طلبہ آج شدید بے چینی اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں لیکن موجودہ حکومت ان کے مسائل حل کرنے کے بجائے خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ نیٖٹ امتحان کے پرچے بار بار افشا ہو رہے ہیں، سرکاری بھرتیوں میں سنگین بے ضابطگیاں سامنے آ رہی ہیں، آن لائن امتحانی نظام تکنیکی خامیوں کا شکار ہے اور پولیس بھرتی سمیت مختلف تقرریوں میں امیدواروں کے ساتھ ناانصافی کی جا رہی ہے جس سے نوجوانوں کا اعتماد بری طرح مجروح ہوا ہے۔
وزیرتعلیم کے فوری استعفے کا مطالبہ
مہاراشٹر نونرمان سینا(ایم این ایس) نے سخت احتجاج کرتے ہوئے مرکزی حکومت کے خلاف شدید ناراضگی کا اظہار کیا۔ احتجاج کے دوران پارٹی کارکنان نے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کی تصویر پر سیاہی پوت دی اور اسے جوتوں سے مارا نیز پاؤں تلے روندا۔ مظاہرین نے حکومت مخالف نعرے لگاتے ہوئے مرکزی وزیرتعلیم کے فوری استعفے کا مطالبہ کیا۔یہ احتجاج چھترپتی شیواجی مہاراج چوک پر منعقد کیا گیا جہاںایم این ایس کارکنان بڑی تعداد میں جمع ہوئے۔
اس موقع پر مقررین نے الزام عائد کیا کہ ملک میں مسابقتی امتحانات کے انعقاد اور پیپر لیٖک کے بڑھتے واقعات کے باعث لاکھوں نوجوانوں کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہےلیکن مرکزی حکومت ان مسائل کے تدارک میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہی ہے۔