Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیل غزہ کو مستقل طور پر تقسیم کرنے والی رکاوٹ تعمیر کررہا ہے: سیٹیلائٹ تصاویر میں انکشاف

Updated: July 21, 2026, 10:07 PM IST | Gaza

سیٹیلائٹ تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اسرائیل کے ذریعے جنگی پیمانے پر غزہ میں مٹی کی بہت بڑی دیوار تعمیر کی جا رہی ہے جس کے ذریعے وہ اپنے ملٹری قبضے کے تحت آنے والے ۵۰ فیصد سے زیادہ علاقے کو محصور فلسطینی علاقے غزہ کے باقی حصے سے مؤثر طریقے سے الگ کر رہا ہے۔ اسرائیلی فوج نے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کو دیئے گئے بیان میں اس منصوبے کی تصدیق کی ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

پلانیٹ لیبز پی بی سی (Planet Labs PBC) کے ذریعے حاصل کردہ سیٹیلائٹ تصاویر سے انکشاف ہوا ہے کہ اسرائیل غزہ کو مستقل طور پر دو حصوں میں تقسیم کرنے کیلئے مٹی کی دیوار جیسی رکاوٹ تعمیر کررہا ہے۔ سیٹیلائٹ تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اسرائیل کے ذریعے جنگی پیمانے پر غزہ میں مٹی کی بہت بڑی دیوار تعمیر کی جا رہی ہے جس کے ذریعے وہ اپنے ملٹری قبضے کے تحت آنے والے ۵۰ فیصد سے زیادہ علاقے کو محصور فلسطینی علاقے غزہ کے باقی حصے سے مؤثر طریقے سے الگ کر رہا ہے۔ اسرائیلی فوج نے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کو دیئے گئے بیان میں اس منصوبے کی تصدیق کی ہے۔ اس پیش رفت نے فلسطینیوں کے ان خدشات کو بڑھا دیا ہے کہ عارضی جنگ بندی کی لائن کو مستقل سرحد میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔

حالیہ مہینوں میں اسرائیل نے ۲۳ کلومیٹر سے زیادہ طویل یہ رکاوٹ تعمیر کر لی ہے جو اسرائیلی فوج کی جانب سے مسمار کی گئی فلسطینی بستیوں کے درمیان سے گزرتی ہے۔ یہ رکاوٹ ’یلو لائن‘ کے ساتھ ساتھ چلتی ہے۔ واضح رہے کہ حماس کے ساتھ اکتوبر کے جنگ بندی معاہدے کے تحت اسرائیلی افواج پیچھے ہٹی تھیں، اس حد کو یلو لائن قرار دیا گیا تھا۔ امریکہ کی حمایت یافتہ اس معاہدے میں یلو لائن کو مکمل اسرائیلی انخلا تک ایک عارضی تقسیم کے طور پر دیکھا گیا تھا۔ اس کے برعکس، سیٹیلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل اس رکاوٹ کو تیزی سے پھیلا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی کارکنوں کا جیل میں قید فلسطینی ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کی رہائی کا مطالبہ

تعمیر کی رفتار میں شدید تیزی

جنوبی غزہ میں اس رکاوٹ کا ایک حصہ یکم جولائی کو تقریباً ۵۰۰ میٹر تھا جو ۱۵ جولائی تک ۴ء۲ کلومیٹر طویل ہوگیا۔ یعنی محض دو ہفتوں میں اس میں تقریباً ۲ کلومیٹر کا اضافہ ہوا ہے جس نے رفح کے ملبے کو کاٹ کر مواصی سے الگ کر دیا ہے، واضح رہے کہ مواضی میں فلسطینیوں کچھ سب سے بڑے خیموں کے کیمپ واقع ہیں۔ اگر تعمیر موجودہ سمت میں جاری رہتی ہے، تو یہ رکاوٹ کے سب سے طویل حصے سے جڑ جائے گی، جو جنوبی شہر خان یونس سے لے کر غزہ شہر کے قریب تک تقریباً ۱۷ کلومیٹر تک بلا تعطل پھیلا ہوا ہے۔ اس حصے پر فروری سے کام جاری ہے۔ ۲۱ جون سے ۷ جولائی کے درمیان اس رکاوٹ میں ایک کلومیٹر سے زیادہ کا اضافہ کیا گیا، جو بنی سہیلہ کے ملبے پر تعمیر کئے گئے اسرائیلی ملٹری بیس کے قریب سے گزرتا ہے۔ 

شمالی غزہ کے تباہ شدہ قصبے بیت لاہیہ کے قریب بھی مٹی کی دیواروں سے اضافی غیر مربوط حصے بنائے گئے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس نے یلو لائن کے گرد انٹیلیجنس اور تکنیکی وسائل سے لیس ”سیکوریٹی زون“ بھی تیار کیا ہے۔ فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس رکاوٹ کا مقصد گھس بیٹھیوں کو روکنا اور غزہ کے قریب اسرائیلی فوجیوں اور بستیوں کا تحفظ کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ڈیجیٹل مہم : غزہ کی جنگ بندی کےتعلق سے اسرائیل کا بیانیہ بے نقاب

رکاوٹ کے اسرائیلی کنٹرول والے حصے کی سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ تقریباً تمام عمارتیں مسمار کر دی گئی ہیں، فلسطینی علاقوں کے درمیان سڑکوں کا نیا نیٹ ورک قائم کیا گیا ہے اور رفح سمیت دیگر قصبوں کے ملبے پر نئے ملٹری بیس قائم کر دیئے گئے ہیں، جہاں کبھی ڈھائی لاکھ سے زائد فلسطینی رہائش پذیر تھے۔ 

واضح رہے کہ اکتوبر ۲۰۲۵ء میں جنگ بندی کے نافذ العمل ہونے کے بعد سے اسرائیلی حملوں میں ۱۱۰۰ سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ اکتوبر ۲۰۲۳ء سے لے کر اب تک، اسرائیل نے ۷۳ ہزار سے زیادہ فلسطینیوں کو شہید کیا ہے جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔ اس عرصے میں ایک لاکھ ۲۰ ہزار سے زائد فلسطینی زخمی ہوئے ہیں۔ بین الاقوامی برادری نے غزہ میں اسرائیلی حملوں کو ”فلسطینیوں کی نسل کشی“ قرار دیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK