اسرائیلی کارکنوں نے شمالی غزہ کے کمال عدوان اسپتال کے ڈائریکٹر فلسطینی ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کی رہائی کا مطالبہ کیا، ساتھ ہی واشنگٹن سے اسرائیل کو اسلحہ فراہم نہ کرنےکی بھی اپیل کی۔
EPAPER
Updated: July 21, 2026, 9:05 PM IST | Gaza
اسرائیلی کارکنوں نے شمالی غزہ کے کمال عدوان اسپتال کے ڈائریکٹر فلسطینی ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کی رہائی کا مطالبہ کیا، ساتھ ہی واشنگٹن سے اسرائیل کو اسلحہ فراہم نہ کرنےکی بھی اپیل کی۔
اسرائیلی کارکنوں نے پیر کو یروشلم میں امریکی سفارتی کمپاؤنڈ کے باہر مظاہرہ کیا، جس میں شمالی غزہ کے کمال عدوان اسپتال کے ڈائریکٹر فلسطینی ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کی رہائی کا مطالبہ کیا، جبکہ واشنگٹن سے اسرائیل کو اسلحہ فراہم نہ کرنے کی بھی اپیل کی۔ واضح رہے کہ یہ احتجاج، اسرائیلی مخالف قبضہ گروپ ’’فری یروشلم‘‘ نے منظم کیا، جس نے غزہ پر اسرائیلی جنگ اور فلسطینی قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی کے خاتمے کا بھی مطالبہ کیا۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ اور ایران کے باہمی حملوں میں شدت ،خلیجی ممالک بھی لپیٹ میں
بعد ازاں مظاہرین نے ڈاکٹر ابو صفیہ کی رہائی کے لیے بینرز اٹھائے اور ڈھول بجا کر فلسطینی ڈاکٹر کی حمایت میں نعرے لگائے۔ اس کے علاوہ امریکہ سے اسرائیل کی فوجی امداد ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ ایک مظاہرین لوئس فرینکینتھل نے انادولو کو بتایا کہ ابو صفیہ کی حراست ’’غیر قانونی‘‘ہے اور ڈاکٹر کو تشدد، بھوک اور ایسے حالات کا سامنا ہے جو ان کی جان کیلئے خطرہ ہے۔مزید برآں انہوں نے کہا، ’’ہمارا پیغام یہ ہے کہ تشدد، نسل کشی اور فلسطینی عوام کے خلاف جنگ کو فوری روکا جائے۔‘‘ واضح رہے کہ اسرائیلی فوج نے۲۷؍ دسمبر۲۰۲۴ء کو کمال عدوان اسپتال پر چھاپے کے دوران ڈاکٹر ابو صفیہ کو حراست میں لیا۔بعد ازاں اسرائیلی حکام نے انہیں نام نہاد ’’غیر قانونی جنگجو قانون‘‘ کے تحت رکھا، جس پر ان کے وکیل ناصر عودہ نے اسرائیل کی سپریم کورٹ میں ان کی حراست کے خلاف اپیل دائر کی۔عودہ نے کہا کہ ابو صفیہ قانونی ملاقات کے دوران بیڑیاں پہنے اور بھاری محافظوں کے درمیان نظر آئے اور انہیں کھانے اور پانی کی کمی، ناکافی طبی دیکھ بھال، اور نیگیو جیل منتقلی کے دوران مار پیٹ کی وجہ سے کمر اور گردن میں درد کا سامنا ہے۔
ذہن نشین رہے کہ اس وقت اسرائیلی جیلوں میں تقریباً ۹۵۰۰؍ فلسطینی قید ہیں، جن میں خواتین اور بچے شامل ہیں، اور فلسطینی اور اسرائیلی حقوق گروپوں کے مطابق ان حالات میں بھوک، تشدد اور طبی سہولت سے انکار شامل ہے، جس کے سبب درجنوں قیدی ہلاک ہو چکے ہیں۔