ڈومبیولی (مشرقی) کے پی اینڈ ٹی کالونی علاقے میں گزشتہ ایک ماہ سے کم دباؤ کے ساتھ پانی کی سپلائی ہو رہی ہے۔ اس سے ناراض مکینوں نے کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن( کے ڈی ایم سی) ہیڈ کوارٹر پر احتجاجی مورچہ نکالا۔
EPAPER
Updated: February 28, 2026, 3:01 PM IST | Ejaz Abdul Gani | Kalyan
ڈومبیولی (مشرقی) کے پی اینڈ ٹی کالونی علاقے میں گزشتہ ایک ماہ سے کم دباؤ کے ساتھ پانی کی سپلائی ہو رہی ہے۔ اس سے ناراض مکینوں نے کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن( کے ڈی ایم سی) ہیڈ کوارٹر پر احتجاجی مورچہ نکالا۔
ڈومبیولی (مشرقی) کے پی اینڈ ٹی کالونی علاقے میں گزشتہ ایک ماہ سے کم دباؤ کے ساتھ پانی کی سپلائی ہو رہی ہے۔ اس سے ناراض مکینوں نے کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن( کے ڈی ایم سی) ہیڈ کوارٹر پر احتجاجی مورچہ نکالا اور انتظامیہ کی توجہ اس سنگین مسئلے کی جانب مبذول کروائی۔ مظاہرین نے شکایت کی کہ پانی نہ آنے کی وجہ سے انہیں مجبوراً میونسپلٹی اور پرائیویٹ ٹینکروں سے پانی خرید کر اپنی ضرورت پوری کرنی پڑ رہی ہے۔
پانی کی ناقص سپلائی کے خلاف جمعہ کو سیکڑوں مکینوں نے کے ڈی ایم سی کے صدر دفتر کے سامنے زبردست احتجاج کیا۔ اس موقع پر مظاہرین کا کہنا تھا کہ علاقے میں پانی کا پریشر اس قدر کم ہے کہ روزمرہ کی ضروریات پوری کرنا محال ہو چکا ہے۔ اس صورتحال کا سب سے زیادہ اثر ملازمت پیشہ خواتین اور اسکول جانے والے بچوں پر پڑ رہا ہے۔ مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ میونسپل کارپوریشن کے انتخابات کے دوران پانی کی سپلائی مسلسل ہورہی تھی لیکن انتخابات ختم ہوتے ہی دوبارہ نلوں میں پانی آنا بند ہوگیا ہے۔ پانی کی عدم دستیابی کے باعث کئی ملازمین کو دفاتر سے چھٹیاں لینی پڑ رہی ہیں تاکہ وہ گھروں کے لئے مہنگے داموں پرائیویٹ ٹینکروں کا انتظام کر سکیں۔ مظاہرین نے الزام لگایا کہ کارپوریشن انہیں پانی فراہم کرنے میں ناکام ہے جبکہ عوام کو اپنی جیب سے رقم خرچ کر کے ٹینکر منگوانے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔
اس موقع پرسماجی کارکن منیشا رانے نے ذرائع ابلاغ کےنمائندوں کو بتایا کہ ایک طرف پی اینڈ ٹی کالونی کے مکین بوند بوند پانی کو ترس رہے ہیں تو دوسری طرف اسی علاقے میں واقع اسپتالوں اور تجارتی اداروں کو وافر مقدار میں پانی مل رہا ہے۔ یہ سراسر ناانصافی ہے کہ عام شہریوں کے گھروں میں پینے کا پانی نہیں پہنچ رہا۔ میونسپل کارپوریشن اور ایم آئی ڈی سی کے افسران اس مسئلے کو سنجیدگی سے حل کرنے کے بجائے صرف وعدوں سےکام لے رہے ہیں۔ جب بھی شکایت کی جاتی ہے تو افسران صرف چند دنوں کا مسئلہ ہے کہہ کر ٹال دیتے ہیں۔ مکینوں نے انتباہ دیا ہے کہ اگر فوری طور پر پانی کی فراہمی بحال نہ کی گئی تو وہ اپنے احتجاج میں مزید شدت پیدا کریں گے۔