عدالت نے تنازع کے مقام پر نماز جمعہ پر پابندی اور دن بھر پوجا کی مانگ مسترد کر دی، ۲۰۰۳ء کے انتظامات برقرار رکھتے ہوئے بسنت پنچمی پر مخصوص اوقات مقرر کئے
EPAPER
Updated: January 23, 2026, 7:54 AM IST | New Delhi
عدالت نے تنازع کے مقام پر نماز جمعہ پر پابندی اور دن بھر پوجا کی مانگ مسترد کر دی، ۲۰۰۳ء کے انتظامات برقرار رکھتے ہوئے بسنت پنچمی پر مخصوص اوقات مقرر کئے
مدھیہ پردیش کے دھار ضلع میں واقع تاریخی کمال مولا مسجد-بھوج شالہ سے متعلق تنازع میں سپریم کورٹ نے جمعرات کو ایک اہم حکم جاری کرتے ہوئے نمازِ جمعہ پر پابندی اور بسنت پنچمی کے دن خصوصی یا دن بھر پوجا کی درخواست مسترد کر دی۔ ’لائیو لاء‘ کی رپورٹ کے مطابق عدالت نے واضح کیا کہ مذہبی سرگرمیوں کے لئے ۲۰۰۳ءسے نافذ انتظامات ہی قابلِ عمل رہیں گے اور کسی ایک فریق کو خصوصی حق نہیں دیا جا سکتا۔یہ سماعت ’ہندو فرنٹ فار جسٹس‘ کی جانب سے دائر اس درخواست پر ہوئی جس میں بسنت پنچمی کے موقع پر صرف ہندوؤں کو عبادت کی اجازت دینے اور جمعہ کی نماز کو محدود یا موخر کرنے کی مانگ کی گئی تھی۔ درخواست گزار کے وکیل وشنو شنکر جین نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ پوجا کی رسومات طلوعِ آفتاب سے غروبِ آفتاب تک ادا کی جانی چاہئیں اور اس صورت میں نماز جمعہ شام کے وقت کرائی جا کتی ہے۔
اس مضحکہ خیز اور شر انگیز دعوے کے جواب میں مسجد کمیٹی کی نمائندگی کرنے والے سینئر وکیل سلمان خورشید نے کہا کہ جمعہ کی نماز کا وقت مذہبی طور پر مقرر اور غیر متبدل ہے، جو دوپہر ایک بجے سے تین بجے کے درمیان ادا کی جاتی ہے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ مسلم فریق کم سے کم وقت میں نماز ادا کر کے احاطہ خالی کرنے کے لئے تیار ہے، جیسا کہ ماضی میں ہوتا رہا ہے، اور اس میں کسی قسم کی رکاوٹ یا توسیع کا مطالبہ نہیں کیا جا رہا۔