• Wed, 21 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

نفرت انگیز تقاریر پرسپریم کورٹ کا فیصلہ محفوظ

Updated: January 21, 2026, 12:12 AM IST | New Delhi

۲۳ء کے عدالتی حکم کے باوجود قانون نافذ کرنےوالی ایجنسیوں کی آناکانی پرکورٹ کی توجہ مبذول کرائی گئی، سرکاری وکیل نے دفاع کیا

The Supreme Court has indicated that it will continue hearing a case from Noida.
سپریم کورٹ نے اشارہ دیا ہے کہ وہ نوئیڈا کے ایک معاملے پر سماعت کا سلسلہ جاری رکھےگا۔

سپریم کورٹ نے نفرت انگیز تقاریر سے متعلق رِٹ درخواستوں کے ایک مجموعے پر  منگل کواپنا فیصلہ محفوظ کر لیا۔ جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا پر مشتمل بنچ نے کہا کہ تمام معاملات بند کر دیئے جائیں گے البتہ عرضی گزاروںکا دیگر قانونی راستے اختیار کرنے کا حق برقرار رہے گا۔ بنچ نے ایک معاملہ (کاظم احمد شیروانی بنام ریاستِ اتر پردیش و دیگر)  کو زیر التوا رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، جو نوئیڈا میں۲۰۲۱ء میں ایک مسلم عالم کے خلاف نفرت انگیزی  سے متعلق ہے۔عدالت اس مقدمے کی پیش رفت اور اس سے جڑے اقدامات کا جائزہ  لے گی۔ اس پر شنوائی فروری میں ہوسکتی ہے۔ 
 واضح رہے کہ جن درخواستوں پرسپریم کورٹ نے  فیصلہ محفوظ کیا ہے ان میں سے زیادہ تر  ۲۰۲۰ء میں سوشل میڈیا پر چلائی گئی’ ’کورونا جہاد‘ ‘ مہم اور سدرشن ٹی وی کے بدنام زمانہ’ ’یو پی ایس سی جہاد‘ پروگرام کے پس منظر میں دائر کی گئی تھیں۔ ۲۰۲۰ء میں عدالت نے ’یو پی ایس سی جہاد‘ پروگرام کی نشریات کو روکنے کا حکم دیاتھا۔ بعد کے برسوں میں دیگر درخواستیں  ’دھرم سنسد‘ کے نام سے ہونےوالے پروگراموں میں کی گئی  نفرت انگیز تقاریر کے حوالے سے دائر کی گئی تھیں۔
  رٹ پٹیشنوں  کے اس مجموعے میں نفرت انگیز تقاریر کے خلاف قانون سازی کے مطالبے والی مفادِ عامہ کی عرضیاں بھی شامل تھیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک عرضی  بھگوا نظریات کے حامل اشوینی اپادھیائے نے بھی دائر کی ہے۔ ۲۰۲۳ء میں عدالت نے تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ہدایت دی تھی کہ فرقہ وارانہ نفرت پھیلانے اور مذہبی جذبات مجروح کرنے والی تقاریر کی صورت میں مقامی پولیس کسی شکایت کا انتظار کئے بغیر  ازخود ایف آئی آر درج کرے تاہم  عدالت کی اس ہدایت پر جیسا عمل درآمد ہونا چاہئے تھا ویسا نہیں ہوا اور  حکم کی عدم تعمیل کے الزام میں توہین عدالت کی کئی درخواستیں بھی دائر کی گئیں۔ 
 اس بیچ عرضی گزار  قربان علی کے وکیل  ایڈووکیٹ نظام پاشا نے عدالت کو متوجہ کیا کہ  ایسا نہیں ہے کہ نفرت انگیزی سے نمٹنے کی قانون موجود نہیں ہے بلکہ  ان کا نفاذ کرنے والے  ایجنسیوں کی لاپروائی اور آنا کانی   مسئلہ ہے،خاص طور پر اس وقت جب ملزمین کا تعلق حکمراں طبقے سے ہو۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ نفرت انگیز تقاریب کا انعقاد اکثر پہلے سے  طے شدہ پروگرام    کے تحت ہوتا ہے ،جب عدالت   پہلے  ہی  اس ضمن میں ہدایات جاری کرچکی ہے تو  ایسے   معاملات  پیش ہی  نہیں آنے چاہئیں۔ انہوں نے نشاندہی کی وہی ’’ہمیشہ کے مشتبہ افراد‘‘مختلف ریاستوں میں نفرت انگیز تقاریر کرتے رہے، متعدد ایف آئی آر درج ہوئیں لیکن گرفتاری جیسا مؤثر قدم نہیں اٹھایا گیا نتیجہ یہ ہوا کہ  جرائم دہرائے جاتے رہے۔ نظام پاشا نے بطور خاص  بی جے پی کی آسام یونٹ کی جانب سے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی  اس اے آئی سے تیار کردہ اس  ویڈیو کو ہٹانے کی درخواست کا بھی حوالہ دیا، جس میں پارٹی کے الیکشن ہارنے کی صورت میں مسلمانوں کے ریاست پر قبضے کا خدشہ دکھایا گیا تھا۔ 

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK