• Fri, 23 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سپریم کورٹ کا بھوج شالہ پر حکم: بسنت پنچمی پر پوجا، نمازِجمعہ محدود وقت میں

Updated: January 22, 2026, 7:02 PM IST | Bhopal

سپریم کورٹ نے مدھیہ پردیش کے دھار ضلع میں واقع بھوج شالہ کمال مولا کمپلیکس میں بسنت پنچمی کے موقع پر ہندو پوجا کو پورا دن اور مسلمانوں کو جمعہ کی نماز کیلئے دوپہر ایک سے ۳؍ بجے تک اجازت دی ہے۔ عدالت نے امن و امان برقرار رکھنے کے سخت احکامات بھی جاری کیے ہیں۔

Kamal Maula Masjid. Photo: INN
کمال مولا مسجد۔ تصویر: آئی این این

ہندوستانی سپریم کورٹ نے مدھیہ پردیش کے دھار ضلع میں واقع متنازع تاریخی مقام بھوج شالہ کمال مولا کمپلیکس کے سلسلے میں ایک اہم عبوری حکم جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ بسنت پنچمی کے دن ہندو عقیدت مندوں کو صبح سے شام تک پوجا کی اجازت ہوگی جبکہ مسلمانوں کو جمعہ کی نماز دوپہر ایک بجے سے ۳؍ بجے تک ادا کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ عدالت نے واضح کیا کہ دونوں مذاہب کے ماننے والوں کو عبادت کا حق حاصل ہے، تاہم قانون و نظم، عوامی سلامتی اور سماجی ہم آہنگی کو ہر حال میں مقدم رکھا جائے۔ اس سلسلے میں ریاستی انتظامیہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ موقع پر سخت سیکوریٹی انتظامات کرے اور کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی یا بدامنی کو روکنے کے لیے پیشگی اقدامات کرے۔

یہ بھی پڑھئے: راتوں رات ایک اور جج کا تبادلہ کردیا گیا

خیال رہے کہ یہ معاملہ اس سال اس لیے حساس ہو گیا ہے کیونکہ بسنت پنچمی جمعہ کے روز پڑ رہی ہے، جس کے باعث ہندوؤں کی مذہبی پوجا اور مسلمانوں کی نماز جمعہ ایک ہی دن میں آ رہی ہے۔ بھوج شالہ، جسے ہندو سرسوتی مندر اور مسلمان کمال مولا مسجد سے جوڑتے ہیں، گزشتہ کئی برسوں سے قانونی اور سماجی تنازع کا مرکز رہا ہے۔ عدالت نے اپنے حکم میں یہ بھی کہا کہ نمازِ جمعہ کے مقررہ وقت کے دوران ہندو پوجا روک دی جائے گی تاکہ دونوں عبادات الگ الگ اوقات میں اور بغیر تصادم کے انجام پا سکیں۔ انتظامیہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ داخلے اور اخراج کے راستے الگ رکھے جائیں، بھیڑ پر قابو رکھا جائے اور کسی بھی فریق کو اشتعال انگیز نعرے بازی یا مذہبی اشتعال کی اجازت نہ دی جائے۔
ریاستی حکومت اور پولیس حکام کے مطابق، عدالت کے حکم کے بعد بھوج شالہ اور اطراف کے علاقوں میں سیکوریٹی سخت کر دی گئی ہے۔ اضافی پولیس فورس، نیم فوجی دستے اور مقامی انتظامیہ کو تعینات کیا گیا ہے۔ حساس مقامات پر نگرانی کے لیے سی سی ٹی وی کیمرے لگائے گئے ہیں جبکہ ڈرون اور دیگر غیر مجاز سرگرمیوں پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ انتظام عارضی نوعیت کا ہے اور اصل معاملے پر سماعت جاری رہے گی۔ فریقین کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ عدالت کے احکامات کی مکمل پاسداری کریں اور کسی بھی طرح سے امن و امان میں خلل ڈالنے سے گریز کریں۔

یہ بھی پڑھئے: نفرت انگیز تقاریر پرسپریم کورٹ کا فیصلہ محفوظ

قانونی ماہرین کے مطابق، سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ مذہبی آزادی اور امن عامہ کے درمیان توازن قائم رکھنے کی کوشش ہے۔ عدالت نے ایک طرف مذہبی جذبات کا لحاظ رکھا ہے تو دوسری طرف واضح کر دیا ہے کہ کسی بھی مذہبی سرگرمی کو قانون سے بالاتر نہیں رکھا جا سکتا۔ دوسری جانب، سیاسی اور سماجی حلقوں نے عوام سے تحمل، برداشت اور قانون کی پاسداری کی اپیل کی ہے۔ مقامی انتظامیہ نے بھی واضح کیا ہے کہ کسی بھی خلاف ورزی پر سخت کارروائی کی جائے گی۔ سپریم کورٹ کا یہ حکم ایک بار پھر اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ متنازع مذہبی مقامات کے معاملات میں عدالتی رہنمائی، انتظامی ذمہ داری اور عوامی ضبط ہی امن کی ضمانت بن سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK