’دہشت گردوں کی بہن‘ کہنے والے وزیر جے شاہ کیخلاف مقدمہ چلانے کی اجازت نہ دینے پرسپریم کورٹ میں ایم پی سرکار کی سرزنش ، ۲؍ ہفتوں میں مقدمہ کی منظوری کا حکم
EPAPER
Updated: January 19, 2026, 11:43 PM IST | New Delhi
’دہشت گردوں کی بہن‘ کہنے والے وزیر جے شاہ کیخلاف مقدمہ چلانے کی اجازت نہ دینے پرسپریم کورٹ میں ایم پی سرکار کی سرزنش ، ۲؍ ہفتوں میں مقدمہ کی منظوری کا حکم
’آپریشن سیندور‘ کے دوران کرنل صوفیہ قریشی کے خلاف قابل اعتراض تبصرہ کرنے کے معاملہ میں مدھیہ پردیش کے بی جے پی وزیر کنور وجے شاہ کے خلاف تحقیقات مکمل ہو چکی ہے۔ اس کے باوجود ریاستی حکومت کی جانب سے اب تک مقدمہ چلانے کی منظوری نہ دینے پر سپریم کورٹ نے سخت سوال اٹھائے ہیں جس کے بعد محسوس ہو رہا ہے کہ اب کنور وجے شاہ کی خیر نہیں ہے کیوںکہ اب چار و ناچار ایم پی کی موہن یادو حکومت کو ان کے خلاف مقدمہ چلانے کی منظوری دینی ہی پڑے گی۔
چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) کی قیادت والی بنچ نے اس معاملے میں سماعت کے دوران کہا کہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) نے اگست ۲۰۲۵ءمیں ہی تحقیقات مکمل کر لی تھی اور ریاستی حکومت کے استغاثہ سےمقدمہ چلانے کی اجازت طلب کی گئی تھی، لیکن اب تک اس پر کوئی فیصلہ نہیں کیاگیا ہے۔ عدالت نے اسے سنگین معاملہ بتاتے ہوئے کہا کہ قانون کے تحت حکومت کی قانونی ذمہ داری ہے کہ وہ بروقت فیصلے کرے اور ایسے حساس معاملوں میں تو اسے بالکل بھی لاپروائی نہیں برتنی چاہئے۔
سماعت کے دوران سی جے آئی نے براہ راست سوال کیا کہ ’’کیا ہم یہ صحیح سمجھ رہے ہیں کہ ایس آئی ٹی نے ریاستی حکومت سے کارروائی کے لیے اجازت طلب کی ہے اور حکومت اب تک اس پر خاموش بیٹھی ہوئی ہے؟‘‘ عدالت میں موجود ایس آئی ٹی کے ایک رکن نے بتایا کہ انہیں اب ڈی آئی جی انٹیلی جنس کے طور پر مقرر کیا گیا ہے۔ اس پر عدالت نے ایس آئی ٹی کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ رپورٹ میں ۲؍ پرانے معاملوں کا بھی ذکر ہے، ان میں یکم نومبر۲۰۲۰ءکا اور دوسرا اس سے قبل کا ہے۔ حالانکہ ان معاملوں کو موجودہ تحقیقات میں شامل نہیں کیا گیا۔
سی جے آئی سوریہ کانت نے اس پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وقت کی کمی کی وجہ سے اگر ان معاملوں کو چھوڑا گیا ہے تو ایس آئی ٹی کو امید ہے کہ وہ ان الزامات کی بھی تحقیقات مکمل کرے گی۔ اس کے بعد یہ تمام تبصرہ اور رپورٹ ریکارڈ پر لے لی۔ عدالت نے یہ بھی ریکارڈ پر لیا کہ ایس آئی ٹی کی تشکیل خود سپریم کورٹ کی ہدایت پر ہوئی تھی اور مکمل رپورٹ مہر بند لفافے میں عدالت کو سونپی گئی ہے۔ رپورٹ کے پیرا ۲؍میں کچھ پرانے بیانات کا بھی ذکر ہے، جنہیں فی الحال باہر رکھا گیا۔ ایس آئی ٹی نے بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا کی دفعہ۲۱۷؍ کے تحت ریاستی حکومت کو رپورٹ بھیج کر استغاثہ کی پیشگی اجازت طلب کی تھی جو کسی وزیر کے خلاف عدالت کے ذریعہ نوٹس لینے کے لئے ضروری ہے لیکن حکومت نے اپنے وزیر کو بچانے کیلئے اس معاملے میں خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔
سپریم کورٹ نے واضح لفظوں میں کہا کہ ریاستی حکومت کو قانون کے مطابق استغاثہ کی منظوری دینے یا نہ دینے پر فیصلہ کرنا ہی ہوگا۔ ساتھ ہی عدالت نے مدھیہ پردیش حکومت کو ہدایت دی ہے کہ و ہ ۲؍ ہفتے کے اندر استغاثہ کی منظوری پر فیصلہ کرکے اپنی تعمیلی رپورٹ داخل کرے۔ اس کے ساتھ ہی ایس آئی ٹی کو یہ بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ رپورٹ میں بتائے کہ دیگر پرانے معاملوں کی بھی تحقیقات کر کے رپورٹ سونپی جاسکتی ہے یا نہیں۔ اب اس معاملہ کی آئندہ سماعت ریاستی حکومت کی تعمیلی رپورٹ اور ایس آئی ٹی کی اضافی تحقیقاتی رپورٹ کے بعد ہی ہوگی۔
یاد رہے کہ گزشتہ سال مئی میں ’آپریشن سیندور‘ کے بعد کرنل صوفیہ قریشی سرخیوں میں آئی تھیں۔ ۱۱؍مئی کو اندور کے پاس ایک جلسۂ عام میں وزیر کنور وجے شاہ نےانتہائی متنازع تبصرے کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’دہشت گردوں نے ہماری بہنوں کا سیندور مٹایا لیکن مودی جی نے ان ہی کی بہن کو بھیج کر انہیں سبق سکھادیا۔ انہوں نے ہمارے ہندوؤں کو بے عزت کیا، مودی جی نے ان کی ہی ایک بہن کو ان کے گھروں میں مارنے کے لیے بھیج دیا۔‘‘ اس بیان پر اس وقت کافی ہنگامہ ہوا تھا اور تنازع بڑھنے کے بعد وزیر وجے شاہ نے معافی مانگی تھی لیکن معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا تھاجہاں عدالت نے وجے شاہ کی آن لائن معافی کو ناکافی اور ’مگرمچھ کے آنسو‘ قرار دیا تھا اور ان کیخلاف تفتیش کا حکم دیا تھا ۔